مقبوضہ کشمیر صورتحال، دنیا میں مودی مخالف مظاہرے، عالمی رہنما متحرک

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لندن،اوٹاوا،نیویارک(جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک) کشمیر صورتحال

بھارتی آئین میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم کرنے

اور مقبوضہ کشمیر میں فوج کے اضافی دستے بھیجنے کے بھارتی حکومت کے

حالیہ اقدام کیخلاف پوری دنیا میں بھر پور احتجاج کیا جارہا ہے اور بھارت پر

زور دیا جا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابقہ حیثیت بحال کرکے

وہاں بھیجی گئی اپنی اضافی فوج سمیت پہلے وہاں موجود سکیورٹی فورسز جن

کی تعداد لاکھوں میں ہے فوری طور پر واپس بلائے اور کشمیریوں کے بنیادی

انسانی حقوق کا احترام کرے۔

ویلنگٹن اوربرمنگھم میں بھارتی سفارتخانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے

جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ بیلجیم کے عہدیدار و ممبران نے بھارتی حکومت

کی طرف سے آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور کے ایل ایف کے سربراہ

یاسین ملک سمیت دوسرے کشمیری رہنماؤں کی گرفتاریوں کیخلاف یورپی یونین

کی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ اور علامتی بھوک ہڑتال کی۔ بھارتی

افواج کی کارروائیوں کیخلاف نیوزی لینڈ میں بھی زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا

اور لوگوں کی بڑی تعداد ویلنگٹن میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے جمع ہو کر

مظلوم کشمیریوں کے حق میں نعرہ بازی کرتے رہے۔ گزشتہ روز برمنگھم

اور لندن میں بھی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے کیخلاف احتجاجی

مظاہرے کرکے بھارتی مظالم کیخلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔ برطانوی نژاد

پاکستانیوں اور کشمیری برادری نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بدلنے

کیخلاف برمنگھم بھارتی سفارتخانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں سابق

برطانوی رکن پارلیمنٹ جارج گیلووے اور ممبر پارلیمنٹ خالد محمود اور آزاد

کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن راجہ جاوید، مقامی کونسلرز، سکھ برادری اور

عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں نے کہا

کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی انسانیت کا قاتل ہے۔ سکھ کمیونٹی مقبوضہ

کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کیساتھ کھڑی ہے۔ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر میں امن

فوج بھیج کر بیگناہ شہریوں کا وحشیانہ قتل عام بند کرائے۔

سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لے، برطانوی پارلیمنٹیرینز

برطانوی پارلیمنٹ کے 45 سے زائد ارکان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے

مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات کے بعد مقبوضہ جموں و

کشمیرکے تشویشناک حالات کا نوٹس لے اور کشمیر کے دیرینہ مسئلہ کے حل

کیلئے تمام فریقین کے مابین ثالثی کرکے انہیں مذاکرات کی میز پر لائے۔ برطانوی

پارلیمنٹ کے 45 ممبران نے وارننگٹن ساؤتھ فیصل راشد کی تحریری یاداشت پر

دستخط کیے ہیں، یاداشت میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے مطالبہ کیا گیا

ہے کہ کشمیر کی خود مختیاری پر ہندوستان کے غیر آئینی حملے کو روکنے

کیلئے اقوام متحدہ فوری مداخلت کرے۔ یاداشت میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں ان

اطلاعات پر گہری تشویش ہے کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کی اپنی خود مختیار

حیثیت کو ختم کرنے کیلئے آئین کے آرٹیکل 370 کو منسوخ کردیا ہے، بھارت کا

یہ یکطرفہ فیصلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت اور کشمیریوں کے حق حکمرانی پر

براہ راست حملہ ہے۔

کشمیر سے متعلق بھارتی اقدام خطے میں تباہی کو دعوت، یورپی پارلیمنٹ

یورپی یونین پارلیمنٹ کے ممبران ارینا وان ویز، شفق محمد، فل بینیون، جوڈتھ

ہنٹنگ، کرس ڈیوس،انٹونی ہک، مارٹن ہورووڈ، لوسی نیتسنگااور شیلہ رچی نے

بھی اپنے دستخطوں سے یورپی یونین کے نمائندہ خارجہ امورفیڈریکا موگھرینی

کو ایک الگ خط ارسال کرتے ہوئے مقبوضہ جموں وکشمیر کے علاقہ میں بڑھتی

ہوئی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے بھارتی حکومت نے کشمیر

میں اپنی فوج کی تعداد میں اضافہ کیا ہے اور کہا ہے میڈیا رپورٹس کے مطابق

بھارتی فوج نے 30 جولائی کو لائن آف کنٹرول کے قریب کلسٹر گولہ بارود

استعمال کیا جس میں کئی شہری شہید اور زخمی ہوئے حالانکہ کلسٹر گولہ بارود

کا استعمال جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی

خلاف ورزی ہے، اس لیے ہمیں تشویش ہے کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی

منسوخی سے خطے میں پہلے سے بگڑتی ہوئی صورتحال مزید بگڑ جائیگی اور

مقبوضہ کشمیر کے 7 ملین سے زیادہ افراد اپنے گھروں میں ہی اپنے بنیادی

انسانی حقوق سے محروم ہوجائیں گے۔

مودی نے امن کو خطرے سے دوچار کر دیا، کانگریس مین تھامس آرسوزی

امریکہ کانگریس کے رکن تھامس آر سوزی نے بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری

جنرل کے نام مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنی تشویشن کا اظہار کرتے ہوئے

انہیں اپنے دو صفحات پر مشتمل خط میں لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ

کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے بھارتی وزیراعظم مودی نے خطے کے

امن کو سنگین ترین خطرات سے دوچار کردیا ہے۔

کشمیریوں کیساتھ بامعنی مذاکرات ہی مسئلے کا واحد حل ہے، کینیڈا

کینیڈین حکومت نے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنی گہری تشویش کا

اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ متاثرہ کشمیریوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی

حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ کا اپنے بیان میں

کہنا تھا مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال تشویشناک ہے اور کینیڈا خطے میں

امن کیلئے متاثرہ کشمیریوں کیساتھ بامعنی مذاکرات کا پرزور مطالبہ کرتا ہے تاکہ

دو ایٹمی طاقتوں کے مابین ٹکراؤ کی صورتحال سے بچا جا سکے،

کشمیر صورتحال، پولینڈ کا سلامتی کونسل میں کردار ادا کرنے کا عندیہ

پولینڈ کے وزیر خارجہ جے سک زپوتوویک نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ چند

روز میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے

اور کشیدہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بد ھ کے روز انہوں نے ایک

بیان میں امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا ایسا

حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں جو دونوں کے مفاد میں ہو، ضرورت

محسوس ہو ئی تو ان کا ملک سلامتی کونسل میں بحیثیت غیر مستقل رکن اپنا کردار

ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اجلاس بلائے جانے سے متعلق سوال پر پولش وزیر

خارجہ نے توقع ظاہر کی کہ سلامتی کونسل اس مسئلے پر بحث کرے گی اور

مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔

کشمیر صورتحال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply