380

کشمیریوں پر مظالم کاخاتمہ پاکستانی رویہ سے منسلک کرناالٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف ہے،واشنگٹن پوسٹ

Spread the love

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک ) امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے میں

لکھا ہے جب بھارتی پارلیمنٹ نے 5اگست کو اچانک جموںوکشمیر کی خصوصی

حیثیت ختم کردی تو نریندر مود ی کی حکومت نے دعوی ٰ کیا کہ اس سے علاقے

میں اقتصادی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا اور لوگوں کو شہر ی آزادیاں حاصل

ہونگی جو کئی دہائیوں سے فرقہ وارانہ تشدد کی زد میں تھا۔اخبار نے لکھا بھارتی

حکام نے کہاسخت اقدامات اورپا بند یو ں کا نفاذ عارضی ہے جن کے تحت ہزاروں

کشمیری سیاستدانوں اوردیگر عوامی شخصیات کو بغیر کسی مقدمے کے

گرفتارکیاگیاجبکہ انٹرنیٹ اور مو با ئل فون سروسز کو معطل کیاگیا۔ اخبار نے لکھا

دوماہ سے زائد گزرجانے کے باوجود پابندیاں جاری ہیں، ریاست کے اعلیٰ منتخب

رہنمائوں سمیت سینکڑوں سیاستدان ، ماہرین تعلیم اور سماجی کارکن ابھی تک

نظربند ہیں،اگرچہ نقل وحرکت پر کچھ پابندیاں اٹھائی گئی ہیں اورلینڈ لائن ٹیلیفون

کے بعد گزشتہ روز موبائل فون سروسز کو بحال کئے جانیکا اعلان کیا گیا، تاہم

انٹرنیٹ اب بھی ناقابل رسائی ہے۔ ادارئیے میں کہاگیا کہ بھارتی فورسز کی طرف

سے 13سالہ بچوں سمیت اندھا دھند گرفتاریوں ، مارپیٹ اورتشدد کی مسلسل

خبریں آرہی ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے 13گائوں میں 19افراد کا انٹرویو کیا جنہوں

نے کہا 5اگست کے بعد ان کیساتھ غیر انسانی سلوک کیاجارہا ہے،ڈنڈوں ، لاٹھیوں

اور کیبلز سے مار ا جارہا ہے، بجلی کے جھٹکے دیے جارہے ہیں اور طویل وقت

تک سر کے بل لٹکایا جارہا ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنے اداریے

میں مزید لکھا کہ بھارتی حکومت انسانی حقو ق کی پامالیوں سے انکار کررہی ہے

لیکن غیر ملکی صحافیوں اور آزاد مبصرین کو علاقے میں جانے کی اجازت نہیں

دے رہی ، جن میں امریکی سینیٹرر کرس وین ہولن بھی شامل ہیں۔ اخبار نے لکھا

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے پر فخر کرتا ہے لیکن یہ جمہوری

حکومت کی کارروائیاں نہیں ہیں۔ بہت سے لوگوں کو کسی قانونی عمل کے بغیر

حراست میں رکھا گیا ہے۔بھارت کی سپریم کورٹ سمیت عدالتوں نے حبس بے جا

اورہنگامی اقدامات کیخلاف اپیلوں کو التوا میں رکھا ہے۔ جموںوکشمیر کو ریاست

سے دووفاقی علاقوںمیں تبدیل کرنے کو آئینی یا غیر آئینی قراردینے کے بارے میں

فیصلے کو 31اکتوبر تک ملتوی کردیا گیاہے جب یہ تبدیلی عملاً واقع ہوجائے گی۔

ایڈیٹوریل میں کہاگیا بھارتی حکام نے مظالم کے خاتمے کے بارے میں کوئی

جواب دینے سے صاف انکار کیا ہے،جبکہ بھارت کی قومی سلامتی کے سربراہ

اجیت ڈوول نے حال ہی میں کہااسکا انحصار پاکستان کے رویے پر ہے، د و سر

ے لفظوں میں لاکھوں شہریوں کی آزادیاں ایک دوسرے ملک کے اقدامات سے

منسلک ہیں۔

Leave a Reply