Protest against India the People of Pakistan are burning Indian National Flag.

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، پاکستان بھر میں ریلیاں، مظاہرے

Spread the love

اسلام آباد/لاہور(جے ٹی این آن لائن نیوز) کشمیریوں سے اظہار یکجہتی، بھارت

کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے، سویلین آبادی پر

کلسڑ بموں کے حملے کے خلاف لاہور سمیت ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں

اور مظاہرے کئے گئے، کئی مقامات پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے پتلے

بھی نذر آتش کئے گئے، پنجاب یونیورسٹی کے طلبہ اور اساتذہ نے کشمیریوں

سے اظہار یکجہتی کے لئے ہاتھوں کی زنجیر بنائی ۔صوبائی دارالحکومت میں پی

ٹی آئی، سرکاری محکموں کے ملازمین، سول سوسائٹی، وکلاء، تاجروں اور

صحافیوں نے مشترکہ طور پر مال روڈ پر ریلی نکالی جس میں صوبائی وزراء

میاں محمود الرشید، چوہدری ظہیر الدین، تحریک انصاف پنجاب کے صدر اعجاز

چوہدری، چیئر پرسن قائمہ کمیٹی برائے داخلہ مسرت جمشید چیمہ، وزیراعلیٰ

پنجاب کے ترجمان ڈاکٹر شہباز گل، مرکزی رہنما جمشید اقبال چیمہ، شعیب

صدیقی ،اراکین اسمبلی ، کمشنر لاہور ڈویژن آصف بلال لودھی، ڈپٹی کمشنر

صالحہ سعید سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی ۔ ریلی میں مرد و خواتین کی

کثیر تعداد نے شرکت کرکے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ شرکاء نے ہاتھوں

میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے خلاف اور کشمیریوں

سے اظہار یکجہتی کے نعرے درج تھے،اس موقع پر کشمیر بنے گا پاکستان،

کشمیریوں کو آزادی دو کے نعرے لگائے جاتے رہے۔ ریلی کے شرکاء سے

خطاب کرتے ہوئے رہنمائوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد

لوگ اپنے جینے کا حق مانگ رہے ہیں،بھارت نے کشمیر میں 38 ہزار آرمی کا

اضافہ کیا، کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں،اگر پورا بھارت مقتل گاہ

بن گیا تو مودی اس وقت رونا نہیں۔ انہوں نے کہا او آئی سی خاموش تماشائی بنی

ہوئی ہے، آج عالمی اداروں کا بھی امتحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام

کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور ان کی سفارتی ، سیاسی اور اخلاقی

سپورٹ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا بھارت جارحیت کر کے خطے کے امن

کو خطرے میں ڈال رہا ہے، عالمی دنیا کو چاہیے کہ اس کا نوٹس لے اور بھارت

کواس کے اوچھے ہتھکنڈوں سے باز رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی

جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا اقدام اس کی

بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کشمیرایک متنازعہ علاقہ ہے اور بھارت کی

جانب سے یہ اقدام اٹھا کر سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی بھی

نفی کی گئی ہے ۔پوری دنیا کی تاریخ میں آج سیاہ دن ہے، 1979 سے اب تک

ایک لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہوئے اور بیس ہزار کشمیری بھارتی فوج کے

ہاتھوں پیلٹ گنوں کے استعمال سے جسمانی اعضا سے معذور ہوئے۔بزرگ حریت

رہنما سید علی گیلانی، یاسین ملک تہار جیل میں قید ہیں۔ ہم بھارت کی طرف سے

کی گئی کاغذی کاروائی اور صدارتی حکم نامے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو نافذ

کر کے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم کرنے اور لداخ کو

علیحدہ کرکے کشمیر کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کی شدید مذمت کرتے

ہیں اوراسے مسترد کرتے ہیں، جو سازش فلسطین کے خلاف کی گئی تھی آج

کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں کی جارہی ہے۔

بھارت سے ہندئوں کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ مقبوضہ وادی جاکر پراپرٹی خرید

سکیں اور وہاں کے ووٹر بن سکیں،8 لاکھ سے زائد بھارتی فوج نہتے کشمیریوں

پر مسلط ہے،بھارت نے ظلم نہیں ڈھایا بلکہ جنگ مسلط کردی ہے،پورے کشمیر

کو مقتل گاہ اور جیل بنا دیا گیا ہے، ہم کشمیریوں کے خون کے ایک ایک قطرے

کا حساب لیں گے۔ اس موقع پر اعجاز چوہدری کشمیریوں سےاظہار یکجہتی کرتے

ہوئے آزادی کشمیر کیلئے خصوصی دعا بھی کروائی۔

پنجاب یونیورسٹی کے طلبا ء نے بھی بھارتی جارحیت کیخلاف اور کشمیریوں سے

اظہار یکجہتی کے لئے ریلی نکالی جس میں اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ ریلی کی

قیادت وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر نیاز احمد نے کی۔ریلی میں عالمی

برادری سے بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے اور اقوام متحدہ اور او

آئی سی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر شرکاء نے کشمیریوں سے اظہار

یکجہتی کے لئے ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی ۔

کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کے خلاف جماعت اسلامی نے وحدت روڈ پر

ریلی نکالی گئی جس میں کارکنوں کی کثیر تعدادنے شرکت کی ۔ریلی کے شرکاء

سے خطاب کرتے ہوئے احمد سلمان بلوچ نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ

ہے ،آٹھ لاکھ کے قریب بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر مسلط ہیں ۔ انہوں نے کہا

کہ کشمیر کی گلی کوچوں میں نہتے کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے ،بھارت سے

مسئلہ نہ بارڈر کا ہے نہ کاروبار کا ہے ایشو کشمیر ہے، کشمیر میں نظریاتی

مسئلہ ایک طرف جغرافیائی مسئلہ بھی ہے ۔انہوں نے کہا ٹرمپ کی ثالثی بھی

تب قابل قبول جب اقوام متحدہ کی قرارداد حق خودارادیت پر عملدرآمد کروائے گا۔

کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان مسلم لیگ کے زیر اہتمام مسلم لیگ

ہائوس تا پریس کلب ریلی نکالی گئی جس کی قیادت پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے

سینئر نائب صدر سلیم بریار، میاں محمد منیر، میاں عمران مسعود نے کی جبکہ

ریلی میں ونگز کے صدور اور کارکنوں کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔ ریلی سے

خطاب کرتے ہوئے سینئر نائب صدر پاکستان مسلم لیگ پنجاب چودھری سلیم بریار

نے کہا کہ آزادی کشمیریوں کا حق، بھارت نوشتہ دیوار پڑھ لے، انہوں نے کہا کہ

عالمی برادری بھارت کی جارحیت اور بربریت کا فوری نوٹس لے۔ پوری قوم پاک

فو ج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے پاک فوج بھارتی جارحیت کا جواب دینے کی

صلاحیت رکھتی ہے بھارت نے پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو افواج

پاکستان ایسا جواب دے گی کہ بھارت کی آنے والی نسلیں بھی یادر کھیں گی۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی تحریک اپنی منزل تک پہنچ چکی ہے۔ بھارت

کشمیریوں کی جانوں کا دشمن بن چکا ہے پاک افواج کی طرف سے بھارت کو کئی

بار حارحیت پر سبق مل چکا ہے لیکن وہ اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آرہا۔

پاکستان مسلم لیگ پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات میاں عمران مسعود سابق وزیر

تعلیم پنجاب نے کہا کہ بے گناہ کشمیری عوام پر کلسٹر بموں سے حملے، انسانی

حقوق کی خلاف ورزیوں کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اقوام متحدہ بھارت پر پابندیاں

عائد کرکے اسے کشمیریوں پر ظلم و ستم سے روکے۔ مسلم لیگی رہنما میاں منیر،

خدیجہ عمر فاروقی ایم پی اے نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت جتنی فوج

بڑھاتا ہے، تحریک آزادی اتنی زیادہ مضبوط ہورہی ہے۔ پاکستانی قوم کشمیریوں

کے شانہ بشانہ کھڑی ہے کشمیر میں قابض بھارتی فوج سے کشمیریوں کاحق

خودارادیت کو دبایا نہیں جاسکتا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اس کی آزادی

کیلئے پاکستان مسلم لیگ اپنی تمام تر توانائیاں استعمال کرے گی اور کشمیریوں کو

ان کا حق دلوایا جائے گا۔ ہم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرتے رہیں گے.

ملتان میں بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے

کشمیر ریلی گھنٹہ گھر چوک سے حسین آگاہی چوک تک نکالی گئی جس کی قیادت

ڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے کی۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے بھی کشمیریوں کی

حمایت میں احتجاج کیا گیا۔ریلی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے

کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک دن ضرور پاکستان کا حصہ بنے گا۔گجرات، لیہ، اٹک،

ساہیوال سمیت مختلف شہروں میں بھی یکجہتی کشمیر ریلیاں اور احتجاجی

مظاہرے کیے گئے۔ جس میں سرکاری ملازمین، طلبہ و طالبات سمیت مختلف

مکتبہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ساہیوال میں وکلا ء نے عدالتی عمل کا مکمل

بائیکاٹ کیا اور عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ وکلا ء کا کہنا تھا کہ حکومت سفارتی

سطح پر کشمیری عوام کی مدد کرے اور بھارت کو جارحیت سے روکے۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میں مقبوضہ وادی میں بھارتی جارحیت،

آئین کی دفعہ 35 اے اور 370 کے خاتمے کے خلاف پریس کلب سے آزادی چوک

تک ریلی نکالی گئی اور احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر

مودی کا پتلا نذر آتش کیا اور بھارتی فوج اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔

مظاہرین نے اقوام متحدہ سے پاس کردہ قراردادوں پر عملدر آمد اور عالمی برادری

سے بھارتی جارحیت کے خلاف نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔کراچی میں بھی مختلف

جماعتوں کی جانب سے کشمیریوں کی حمایت میں ریلیاں نکالی گئیں ۔جماعت

اسلامی نے کراچی پریس کلب پر بھارتی جارحیت کے خلاف احتجاج کیا جبکہ

سندھ کے حیدرآباد میںیونیورسٹی میں بھی طلبا نے بھارتی ہٹ دھرمی کے خلاف

احتجاجی ریلی نکالی.

Leave a Reply