0

کسی کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے،چیئرمین نیب

Spread the love

قومی احتساب بیورو(نیب) خیبر پختونخوا کی ٹیم نے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر کی گرفتاری کے سلسلے میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے ملاقات کر کے سرکاری افسر کے خلاف تحقیقات کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔نیب نے غیرقانونی تعیناتیوں کے الزام میں محکمہ آثار قدیمہ خیبر پختونخوا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد کو دو دن قبل گرفتار کیا تھا ۔وزیر اعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالصمد کی گرفتاری کو شرمناک قرار دیا تھا۔اس تنقید کے بعد نیب چیئرمین نے صوبائی احتساب بیورو کو ہدایت کی تھی کہ انہیں پیر کو ان کے سامنے پیش کیا جائے لیکن نیب کی ٹیم نے انہیں اسلام آباد نہیں پہنچایا۔نیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر کیخلاف جمع کئے گئے ثبوت نیب چیئرمین کے سامنے پیش کیے۔بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین نیب کو اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا کے اینٹی کرپشن بیورو نے بھی اس معاملے کو اٹھا لیا ہے۔چیئرمین نیب نے مزید ثبوت جمع کرنے کے حوالے سے ٹیم کی رہنمائی کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ تمام قوانین و ضوابط کا جائزہ لینے کے بعد میرٹ پر تحقیقات مکمل کریں۔جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے ہدایت کی کہ کسی بھی فرد کی کسی بھی مقدمے میں عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے۔دوسری طرف چیئرمین نیب نے نیب ہیڈ کوارٹرز میں ایک اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں نیب کے سینئر افسروںکے علاوہ نیب کے علاقائی بیوروز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں چیئرمین نیب نے وزارت مذہبی امور کی پالیسی کے تحت نیب کی طرف سے خدام الحجاج/ معاونین 2019ء کا انتخاب کرنے کیلئے قرعہ اندازی کی گئی۔قرعہ اندازی میں گریڈ17کے 29افسروں میں سے گل انور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب راولپنڈی کا نام بطور پرسنپل خدام الحجاج/ معاون اور امتیاز احمد رک اسسٹنٹ ڈائریکٹر نیب سکھر متبادل امیدوار کے طور پر چنے گئے۔آفیشلز گریڈ 7 سے 16تک کے 162آفیشلز میں سے بطور پرنسپل خدام الحجاج/ معاون جبکہ یاسر امتیاز عباسی یو ڈی سی نیب راولپنڈی اور متبادل امیدوار مدثر اقبال اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری نیب ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد قرعہ اندازی کے ذریعے چنے گئے۔ اس موقع پر چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے قرعہ اندازی کے ذریعے نیب کی طرف سے خدام الحجاج/ معاون کے لئے چنے گئے دونوں امیدواران کو مبارکباد دی ۔

Leave a Reply