خالصتان جھنڈا لہرا دیا

بھارتی کسانوں کا احتجاج جاری، اعلی سطحی اجلاس طلب

Spread the love

کسانوں کا احتجاج جاری

نئی دہلی (جے ٹی این آن لائن نیوز) ہندوستان کے دارالحکومت دہلی کی سڑکوں پر

منگل کو نکالی گئی کسانوں کی ٹریکٹر ریلی کے دوران تشدد کی وجہ سے انارکی

جیسے حالات پیدا ہوگئے ۔پولیس نے منگل کو ہونے والے پرتشدد واقعات پر اب

تک 13ایف آئی آر درج کی ہیں جبکہ پرتشدد واقعات کے دوران 153پولیس

اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں ۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے ڈی

ٹی سی کی 8بسوں ، 17پبلک وہیکل ، چار کنٹینر ، 300سے زیادہ لوہے کے بیرئیر

توڑ ڈالے ۔مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مشتعل کسانوں اور پولیس کے درمیان

جھڑپوں کے بعد ایک اعلی سطحی اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیا اور

دارالحکومت میں اضافی نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔دوسری جانب

بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر تاریخی لال قلعہ پر چڑھائی کرنے والے ہزاروں

کسانوں نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر دارالحکومت کے باہر ڈیرے ڈال دیے ہیں۔دو ماہ

سے جاری اس احتجاج کے سب سے پرتشدد دن گزشتہ روز مظاہروں میں ایک

شخص ہلاک ہوگیا۔بھارت میں نئے زرعی قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرنے

والے مظاہرے اب بغاوت کی شکل اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی

کی حکومت کے لیے بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔منگل کو 10ہزار سے زیادہ ٹریکٹر

اور پیدل یا گھوڑوں پر سوار ہزاروں افراد نے دارالحکومت جانے کی کوشش کی،

راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی بسوں اورکنٹینرز کو پار کیا اور اس دوران

ان کا پولیس سے بھی سامنا ہوا جنہوں نے ان کی پیش قدمی روکنے کے لیے آنسو

گیس اور پانی کی توپوں کا استعمال کیا۔انہوں نے ہندوستانی مغل شہنشاہوں کی

جانب سے 17 ویں صدی میں بنائے گئے تاریخی لال قلعے کی عمارت پر بھی

کچھ وقت کے لیے قبضہ کر لیا اور ان مناظر کو ہندوستانی چینلز نے براہ راست

نشر کیا۔کسان رسموں میں استعمال ہونے والی تلواریں، رسیاں اور لاٹھی اٹھائے

ہوئے تھے جس کی بدولت وہ پولیس پر قابو پانے میں کامیاب رہے، مودی کی قوم

پرست حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج بننے والے اس احتجاج میں شریک

کچھ افراد نے لال قلعے پر چڑھائی کے بعد وہاں سکھوں کا مذہبی پرچم بھی لہرا

دیا تھا۔نئی دہلی پولیس کے افسر انٹو الفونسو نے کہا کہ اب صورتحال معمول کے

مطابق ہے، مظاہرین دارالحکومت کی سڑکوں سے چلے گئے ہیں۔منگل کے روز

آدھی رات تک نئی دہلی کی بیشتر سڑکیں دوبارہ گاڑیوں کے لیے کھول دی گئیں

جہاں احتجاج کے منتظم مشترکہ کسان مورچہ یا متحدہ کسانوں کے محاذ نے

ٹریکٹر مارچ کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور دو بیرونی گروہوں پر الزام لگایا کہ

وہ دوسری صورت میں پرامن تحریک میں دخل اندازی کر رہے ہیں۔مظاہرین کے

رہنما یوگیندر یادو نے کہا کہ احتجاج کرنے والے کسانوں میں مایوسی پھیل گئی

ہے اور اگر حکومت دو ماہ سے احتجاج کرنے والوں سے بات چیت میں سنجیدہ

نہیں ہے تو آپ اس پر کیسے قابو پائیں گے۔ کسانوں کو خوف ہے کہ یہ زراعت

کارپوریٹ شکل اختیار کر جائے گی اور انہیں پیچھے چھوڑ دے گی، حکومت نے

قوانین کو 18 ماہ کے لیے معطل کرنے کی پیش کش کی ہے لیکن کسان مکمل

منسوخی سے کم کسی بھی چیز کے لیے راضی نہیں ہیں۔

کسانوں کا احتجاج جاری

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply