کرپشن کیس مشتاق رئیسانی

کرپشن کیس ،مشتاق رئیسانی اورخالد لانگو کو 10 سال قید کی سزا ، جائیداد ضبط

Spread the love

کرپشن کیس مشتاق رئیسانی

کوئٹہ (جے ٹی این آن لائن نیوز) احتساب عدالت کوئٹہ ون کے جج منور احمد شاہوانی نے بلوچستان

لوکل گورنمنٹ فنڈز میں اربوں روپے خورد برد کے ریفرنس میں نامزد ملزمان سابق مشیر خزانہ میر

خالد خان لانگو کو26 ماہ جبکہ سابق سیکرٹری خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی کو 10 سال قید کی

سزا سنا دی،عدالت نے مشتاق رئیسانی کے گھر سے برآمد ہونے والی ملکی و غیر ملکی

کرنسی،زیورات، بانڈز ان کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد ضبط کرنے کے بھی احکامات دے

دئیے،عدالت نے سابق مشیر خزانہ میر خالد خان لانگو اور سابق سیکرٹری مشتاق احمد رئیسانی کو

نیب کے قانون کی شق 15کے تحت دس دس سال کے لئے کسی بھی عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار

دیا ہیبلکہ دونوں ملزمان کسی بھی مالیاتی ادارے سے 10 سال کیلئے قرضہ لینے کے بھی اہل نہیں

ہوں گیعدالت نے مذکورہ ریفرنس میں نامزد 2ملزمان سابق سیکرٹریز لوکل گورنمنٹ حافظ عبد الباسط

اور فیصل جمال کو عدم ثبوت کے بنا پر بری کرنے کے بھی احکامات دے دئیے ہیں ،عدالت سے سزا

سنائے جانے کے بعد برضمانت ملزم مشتاق احمد رئیسانی کو حراست میں لیکر جیل بھیج دیا گیا۔نیب

کے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس جاوید اقبال کی ہدایت

پر نیب بلوچستان نے محکمہ لوکل گورنمنٹ اور خزانہ بلوچستان کے افسران اور مشیر خزانہ کی ملی

بھگت سے اربوں روپے کی کرپشن کیس کی تحقیقات شروع کیں تو انکشاف ہوا کہ سابق سیکرٹری

خزانہ بلوچستان مشتاق رئیسانی نے سابق مشیر خزانہ خالد لانگو کے ساتھ سازباز کر کے غیر قانونی

طور پر دو میونسپل کمیٹیوں خالق آباد اور مچھ کو دو ارب 34کروڑ روپے جاری کرتے ہوئے دو

ارب 25کروڑ کا غبن کیا۔ بعد ازاں مزید چشم کشا انکشاف سامنے آنے پر سابق سیکرٹری خزانہ

بلوچستان مشتاق رئیسانی کے گھر پرقانون کے مطابق چھاپہ مارا گیا جہاں موقع پر تقریبا80کروڑ

(موجود ہ مالیت) لوکل اور فارن کرنسی برآمد ہوئی جبکہ 3کلو 3سو گرام سونا قبضے میں لیا گیا۔جس

کی قومی میڈیا نے نہ صرف براہ راست کوریج کی بلکہ بدعنوانی کے ثبوت قوم کے سامنے لائے

گئے۔حقائق سامنے آنے پر خالد لونگو کے فرنٹ مین اور شریک ملزم سہیل مجید شاہ نے جرم تسلیم

کرتے ہوئے خرد برد کئے گئے 96 کروڑ روپے معزز عدالت کی توثیق سیسرکار کو واپس جمع

کروائے، دوران تفتیش سلیم شاہ اور اسکے بے نامی داروں سے ڈی ایچ اے کراچی کی گیارہ

جائیدادوں کی صورت میں ایک ارب روپے کی ریکوری کی گئی، شریک ملزمان طارق اور ندیم اقبال

سے ایک کروڑ اور 30لاکھ روپے وصول کئے گئے جبکہ سابق سیکرٹری خزانہ کی جانب سے پلی

بارگین کی درخواست نیب کی جانب سے مسترد کی گئی۔قومی احتساب بیورو کے چئیرمین جسٹس

جاوید اقبال کی ہدایت پر نیب بلوچستان کی تحقیقاتی ٹیم نے شبانہ روز محنت کرتے ہوئے بلوچستان

کی تاریخ کی کرپشن کے بڑے کیس میں ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی روشنی میں ریفرنس

احتساب عدالت میں دائر کیا۔ احتساب عدالت نے متعدد سماعتوں کے بعد نیب کی تحقیقات اور دلائل کی

روشنی میں سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو دس سال قید جبکہ مشیر خزانہ خالد لانگو کو

نیب کی تحویل میں گزارے گئے 26ماہ کی قید کی سز ا سنا دی جبکہ معزز عدالت نے ملز م مشتاق

رئیسانی کے گھر سے برآمد شدہ تقریبا 80کروڑ روپے کی ملکی و غیر ملکی کرنسی،سونا، باونڈز و

دیگرضبطگی کا حکم صادر کرتے ہوئے ملزم کے اربوں روپے کی کوئٹہ اور کراچی میں بنائی گئی

جائیدادوں کے ساتھ ساتھ منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کر دئیے۔

معزز عدالت کے فیصلے کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کے قانون کی شق 15کے تحت ملزمان

دس سال کے لئے کسی بھی عوامی عہدے کے لئے نااہل قرار دے دئے گئے بلکہ وہ 10 سال تک

کسی مالیاتی ادارے سے قرضہ لینے کیلئے بھی نا اہل ہوں گے۔ عدالت نے مذکورہ ریفرنس میں نامزد

ملزمان سابق سیکٹریز لوکل گورنمنٹ بلوچستان حافظ عبد الباسط اور فیصل جمال کو عدم ثبوت کی بنا

پر بری کرنے کے بھی احکامات صادر کئے عدالت نے ایک مفرور ملزم نصراﷲ کی حد تک ریفرنس

کو سردخانے میں رکھنے کی بھی ہدایت کی ۔

کرپشن کیس مشتاق رئیسانی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply