corona Special jtnonline2

کرونا کی بھارتی قسم تیزی سے پھیل سکتی ہے، برطانوی وزیر صحت کا انتباہ

Spread the love

لندن، نئی دہلی (جے ٹی این آن لائن کرونا سپیشل) کرونا کی بھارتی قسم

برطانوی وزیرصحت میٹ ہینکوک نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے کچھ علاقوں

میں کرونا وائرس کے بھارتی ویرینٹ کے کیسز سب سے زیادہ دیکھے گئے ہیں

جو اب تک کے تمام ویرینٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ متعدی ہے۔ عالمی

میڈیا کے مطابق برطانوی وزیر برائے صحت اور سماجی تحفظ میٹ ہینکوک نے

کہا کہ برطانیہ کے کئی علاقوں میں کرونا وائرس کے بھارتی ویرینٹ کے کیسز،

جنوبی افریقہ اور برطانوی ویرینٹ کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہیں۔ برطانوی

وزیر صحت نے خبردار کیا کہ کرونا کی یہ قسم زیادہ متعدی ہے اور زیادہ ہلاکت

خیز بھی ثابت ہوسکتی ہے جو ویکسین نہ لگوانے والوں میں جنگل کی آگ کی

طرح پھیل سکتی ہے۔

=-.-= ریت میں دفن سیکڑوں لاشیں کووڈ-19 متاثرین کی باقیات، بھارتی حکام

بھارت کی پولیس نے ملک کے شمالی حصے کے گاؤں میں دریا کے کنارے ریت

میں دفن کی گئی سیکڑوں لاشوں کی برآمدگی کے بعد تحقیقات شرو ع کر دیں،

سوشل میڈیا میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ یہ کووڈ-19 متاثرین کی باقیات ہیں۔ غیر

ملکی میڈیا کے مطابق جیپ اور کشتیوں پر سوار پولیس اہلکار لاؤڈ سپیکر کے

ذریعے لوگوں کو ہدایت کر رہے ہیں وہ لاشوں کو دریا میں نہ پھینکیں، ہم آپ کی

مدد کے لیے حاضر ہیں۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر پریاگ راج میں جمعے

کو بارش کے بعد دریا کے کنارے سے ریت میں دفن کی گئی کپڑوں میں لپٹی

لاشیں باہر آگئی تھیں، تاہم ترجمان ریاستی حکومت نوینیت سہگل نے مقامی میڈیا

کی ان رپورٹس کو مسترد کردیا اور کہا وہ یقین سے کہہ رہے ہیں یہ لاشیں

کووڈ-19 متاثرہ نہیں ہیں۔ گاؤں کے متعدد افراد ہندو روایت کے تحت مذہبی لحاظ

سے کچھ دورانیے تک اپنے مردوں کو نہیں جلاتے، انہیں دریا برد کرتے ہیں یا

دریا کنارے ان کی قبریں کھودتے ہیں۔

=–= کرونا وائرس سے متعلق خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

سینئر پولیس افسر کے پی سنگھ کے مطابق پریاگراج دریا کے کنارے کووڈ-19

کے باعث ہلاک افراد کی آخری رسومات کیلئے حکام نے اقدامات کیے ہیں اور

دریا کے کنارے پر پولیس کسی مردے کی تدفین کی اجازت نہیں دیتی۔ فلاحی تنظیم

کے رکن رمیش کمار سنگھ نے کہا دور دراز علاقوں میں ہلاکتوں کی تعداد بہت

زیادہ ہے اور غریب لوگ لاشوں کو دریا میں پھینکتے ہیں کیونکہ آخری رسومات

کی ادائیگی مہنگی اور لکڑیوں کی بھی کمی ہے۔ بھارتی حکام نے گزشتہ ہفتے کہا

تھا ریاست بہار میں دریائے گنگا سے 71 لاشیں برآمد ہوئیں، جن کا پوسٹ مارٹم

کیا گیا لیکن حکام نے موت کی وجوہات بتانے سے معذرت کر لی تھی۔

=-.-= کرونا سے بھارت کا نظامِ صحت مکمل طور پر بیٹھ چکا، ماہرین

میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے لکھنو سے 40 کلومیٹر شمال میں ضلع اوناؤ

کے دو مختلف مقامات پرریت میں دفنائی گئی درجن بھر لاشیں نکال لی گئی تھیں۔

ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ رویندرا کمار کا کہنا تھا موت کی وجوہات جاننے کے لیے

تفتیش کی جارہی ہے۔ بھارت کی دو ریاستیں اترپردیش اور بہار میں کرونا سے

سب سے زیادہ ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں اور یہاں کی آبادی مجموعی طور پر 35

کروڑ 80 لاکھ سے زائد ہے، دور دراز علاقوں سے لوگ علاج کے لیے شہروں

کی طرف رخ کرتے ہیں لیکن کئی افراد راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں جبکہ

بھارتی صحت کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

سرکاری ماہر صحت ڈاکٹر وی پال کے مطابق ہفتوں سے جاری ریکارڈ کیسز کی

تعداد اب کم ہوتی جارہی ہے جبکہ وزارت صحت کا کہنا ہے پیر کو 3 لاکھ 11

ہزار 170 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3 لاکھ 26

ہزار 98 کیسز کے مقابلے میں کم ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کرونا سے 4 ہزار 77

اموات ہوئیں، جس کے بعد کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 2 لاکھ 70 ہزار

284 ہو گئی ہے اور دو دنوں کی تعداد کے مقابلے میں کسی حد تک کم ہے۔

کرونا کی بھارتی قسم

Leave a Reply