Imran Khan Prim minister Pakistan

کرونا کیخلاف حکومت نہیں صرف قوم لڑ سکتی ہے، عمران خان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر )وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کے خلاف کامیابی میں تمام

سیاسی جماعتیں اور صوبے شامل ہوں گے،کرونا کی جنگ کوئی حکومت نہیں صرف قوم لڑ سکتی

ہے، خوف اور گھبراہٹ سے فیصلوں کے نتائج درست نہیں ہوتے،پارلیمانی رہنماوَں سے رابطے میں

رہیں گے اور تجاویز لیں گے،چین سے پاکستان میں ایک بھی کرونا کا مریض نہیں آیا ،، ایران نے

پاکستانی زائرین تفتان سرحد بھیج دیئے، دباوَ بڑھنے کی وجہ سے زائرین کو پاکستان منتقل کیا،میری

نظر میں لاک ڈاوَن کی کئی قسمیں ہیں، لاک ڈاؤن کے معاملے پرسندھ آگے چلاگیا ہے،لاک ڈاؤن کے

اثرات کوئی نہیں دیکھ رہا،صوبوں میں لاک ڈاوَن سے مسائل پیدا ہوں گے،بڑے پیمانے پر بیروزگاری

کا خدشہ ہے، ٹرانسپورٹ بند کرنے سے اشیا کی فراہمی میں مسائل آئیں گے، گلگت بلتستان میں تیل

کی کمی ہوگئی ہے، کورونا کے لئے کرفیو لگانا ہے تو گھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا۔ بدھ کو یہاں

پارلیمانی رہنماوَں کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ 15جنوری کوکرونا سے متعلق پہلا

اجلاس کیا، کورونا وائرس سے متعلق چین سے رابطے میں رہے،چین میں پاکستانی طلبہ پھنسے

ہوئے تھے، پاکستانی طلبہ کو چین میں رکھنے کا مشکل فیصلہ کیا، خوف تھا کہ پاکستانی طلبہ کے

آنے سے کورونا یہاں بھی پھیل جائیگا، اس لئے چین سے کوئی کورونا مریض پاکستان نہیں آیا،

پاکستانی زائرین ایران گئے تھے، ایران کے پاس کرونا سے لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی، ایران نے

پاکستانی زائرین تفتان سرحد بھیج دیئے، دباوَ بڑھنے کی وجہ سے زائرین کو پاکستان منتقل کیا، معاون

خصوصی صحت نے تفتان بارڈر کا دورہ کیا، تفتان بارڈر پر کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔وزیر

اعظم نے کہا کہ 21 مریض سامنے آنے پر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں لاک ڈاوَن کا فیصلہ

کیا، دنیا بھر میں مختلف نوعیت کے لاک ڈاوَن ہورہے ہیں، میری نظر میں لاک ڈاوَن کی کئی قسمیں

ہیں، لاک ڈاؤن کے معاملے پرسندھ آگے چلاگیا ہے، ہمارا خیال تھا سندھ کی طرز کا لاک ڈاوَن ابھی

نہیں لگانا، لاک ڈاؤن کے اثرات کوئی نہیں دیکھ رہا، ملک میں 25 فیصد عوام غربت کی لکیر سے

نیچے ہیں، صوبوں میں لاک ڈاوَن سے مسائل پیدا ہوں گے، بڑے پیمانے پر بیروزگاری کا خدشہ ہے،

ٹرانسپورٹ بند کرنے سے اشیا کی فراہمی میں مسائل آئیں گے، گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی

ہے، کورونا کے لئے کرفیو لگانا ہے تو گھروں میں کھانا پہنچانا پڑے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ

کورونا کی جنگ کوئی حکومت نہیں صرف قوم لڑ سکتی ہے، خوف اور گھبراہٹ سے فیصلوں کے

نتائج درست نہیں ہوتے۔ انہوںنے اپیل کی کہ کورونا کے خلاف کامیابی میں تمام سیاسی جماعتیں اور

صوبے شامل ہوں گے، سیاسی قیادت کی رائے لینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں، (آج) جمعرات کو نیشنل

کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس میں صورتحال کا جائزہ لیں گے، نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی کے اجلاس

میں ٹرانسپورٹ کی بندش پر بھی غور کریں گے، پارلیمانی رہنماوَں سے رابطے میں رہیں گے اور

تجاویز لیں گے اور تفصیلات بھی شیئر کی جائیں گی۔وزیراعطم نے کہا کہ کورونا وائرس کی جنگ

صرف قوم جیت سکتی ہے حکومتیں نہیں، اور جب یہ جنگ ہم جیت لیں گے تو اس کا سہرا تمام

پاکستانیوں کے سر ہوگا۔دریں اثنا وزیراعظم عمران خان کے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس کے

دوران چلے جانے پر پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کے

چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا وائرس

کے کیسز کی تعداد کے بعدگزشتہ روزپارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں کی میٹنگ بلائی گئی تھی اس

میٹنگ میں وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو لنک سے خطاب کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان کے چلے

جانے کے بعد اپوزیشن کی دو بڑی پارٹیوں کے رہنماؤں نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس

سے واک آؤٹ کر دیا۔ اور موقف اپنایا کہ وزیراعظم اجلاس سے کیوں چلے گئے۔پاکستان مسلم لیگ ن

کے صدر میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن کے ساتھ بیٹھنے کو

تیار نہیں، یہ حکومت کے سربراہ کی سنجیدگی کا لیول ہے۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا

کہ ایسی صورتحال میں اجلاس میں بیٹھنا مناسب نہیں، واک اوٹ کرتے ہیں، اتنی بڑی وبا نے پاکستان

کو متاثر کیا ہے اور یہ سنجیدگی ہے۔اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام

کے رہنما مولانا عبد الغفور حیدری کا کہنا تھا کہ ملک میں اب تنقید، سیاست کا وقت نہیں، قومی

سلامتی کی بات ہے۔ پاکستان میں ہم سب نے ملکر کورونا وائرس سے نجات حاصل کرنی ہے واضح

رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں کرفیو لگانے سے پہلے

اپنی تیاری کرنی ہوگی، کرفیو کی صورت میں رضاکاروں کی مدد لیں گے، جلد رضا کاروں کے

پروگرام کا اعلان کروں گا۔وزیراعظم عمران خان نے وکہا کہ کررونا پر 15 جنوری کو میٹنگ کی

تھی، چین کے ساتھ رابطے میں رہے، ایران کے ساتھ بھی رابطے میں تھے، چین میں پاکستانی طلبا

کو رکھنا اچھا فیصلہ تھا، چین سے ایک بھی کورونا کیس پاکستان نہیں آیا، پاکستانی زائرین ایران گئے

ہوئے تھے، ایران کے پاس کررونا سے لڑنے کی صلاحیت نہیں تھی۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ ہمارا

خیال تھا سندھ کی طرز کا لاک ڈاؤن ابھی نہیں کرنا، ٹرانسپورٹ کی بندش سے کنسٹرکشن کا شعبہ

متاثر ہوگا، گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی ہے، سندھ لاک ڈاؤن کے حوالے سے پنجاب سے

آگے ہے، خوف سے کیے گئے فیصلوں کے باعث ہم مزید مشکلات پیدا کر دیتے ہیں، ایسے لاک ڈاؤن

پر نہیں جانا چاہتے جس سے ٹرانسپورٹ بند ہو جائے، گندم کی کٹائی، کنسٹریشن انڈسٹری متاثر

ہوسکتی ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں تیل کی کمی ہوگئی، کرفیو لگایا تو گھروں

میں کھانا پہنچانا پڑے گا، کیا ہمارے پاس گھروں میں کھانا پہنچانے کے انتظامات ہیں ؟ نیشنل کوآرڈی

نیشن کمیٹی ٹرانسپورٹ کے حوالے سے کل فیصلہ کرے گی، چاہتے ہیں سب مل کر کررونا کیخلاف

جنگ جیتیں۔

Leave a Reply