khabar aai Hy jtnonline

کرونا وائرس کا ووہان کی تجربہ گاہ سے فرار، واقعات سے ثابت

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واشنگٹن (جے ٹی این آن لائن خصوصی رپورٹ) کرونا ووہان تجربہ گاہ

کرونا وائرس کی عالمی وباء کی ابتداء اور پھیلاﺅ، کے بارے میں امریکی حکومت جو تفتیش کر رہی ہے، اس سے حاصل، ” واقعاتی شہادت “ ظاہر کرتی ہے، یہ وائرس چینی شہر ووہان کی تجربہ گاہ سے ” فرار “ ہوا۔

——————————————————————————
یہ پڑھنا مت بھولیں : عالمی وباء بننے والا نیا کرونا وائرس سارزسے مماثل
——————————————————————————

ایکہ مؤقر امریکی اخبار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس، (سی آئی اے ) کی ایک دستاویز میں اس وائرس کی ابتداء کے بارے میں ممکنہ کہانی بیان کی گئی ہے- دستاویز اس سلسلے میں چینی حکومت کے موقف کی نفی کرتی ہے، کہ یہ وائرس ووہان کی مختلف جانوروں کے گوشت کی، ” گیلی مارکیٹ “ سے شروع ہوا، اور بتاتی ہے کہ ووہان کی تجربہ گاہ، کے علاوہ وائرس کے آغاز کے دوسرے مقامات قابل اعتبار نہیں ہیں۔

وائرس کی ابتدا، پھیلاﺅ سے متعلق تفصیلی تفتیش ابھی جاری

قبل ازیں فرانسیسی سائنسدان، پروفیسر لوئی مونٹگینٹر بھی اپنی معلومات کی بنیاد پر دعویٰ کر چکے ہیں، کہ کرونا وائرس ووہان کی تجربہ گاہ میں حادثاتی طور پر پیدا ہوا، ان پروفیسر کو ایڈز کا وائرس دریافت کرنے پر نوبل انعام مل چکا ہے۔رپورٹ کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس کو ابھی ایسے ٹھوس ثبوت نہیں ملے، جن کے ذریعے چینی حکومت پر یہ الزام لگایا جا سکے، کہ انہوں نے جان بوجھ کر وائرس کی یہ قسم تیار کی ہے، جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے-

ووہان تجربہ گاہ میں چمگادڑوں میں موجود کرونا وائرس پر ریسرچ تو طے

یہ بات تو طے ہے، کہ ووہان کی تجربہ گاہ میں چمگادڑوں میں موجود کرونا وائرس، کی خاص قسم پر ایک چینی سائنسدان شی زنگلی تجربہ کرکے معلوم کرنے کی کوشش کر رہے تھے، کہ جانوروں سے جانوروں میں منتقل ہونیوالا یہ وائرس، جانوروں سے انسانوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے، ان کی تحقیق کا مقصد اس وائرس کی جنیات میں تبدیلی، کرکے اسے انسانوں میں منتقل کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنا تھا، تا کہ اس وائرس سے انسانوں کو محفوظ کیا جا سکے، لیکن حادثاتی طو رپر اس سے ایک ایسی قسم دریافت ہو گئی، جو انسانوں میں منتقل ہو سکتی تھی-

لیبارٹری میں بعد ازتجربہ ہلاک چمگادڑوں کی تلفی میں بے احتیاطی کا دعویٰ

جن چمگادڑوں میں یہ وائرس پیدا ہو چکا تھا، ان کی بے شمار تعداد تجربہ گاہ میں موجود تھی، لیبارٹری کا نچلی سطح کا سٹاف ان کے انڈے استعمال کرتا رہا تھا، تجربات کے بعد جو بے شمار چمگادڑ مر گئے، ان کو تلف کرنے میں بھی بے احتیاطی کی گئی، اس طرح ان چمگادڑوں میں نئی صلاحیت رکھنے والا کرونا وائرس تجربہ گاہ سے ” فرار“ ہو گیا-

قارئین : کاوش اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے ہمیں فالو کریں

انٹیلی جنس دستاویز میں بتایا گیا ہے، کہ ایک اور چینی سائنسدان ڈاکٹر ووزیاہوا نے اپنی ویب سائٹ میں تسلیم کیا ہے، کہ چینی ڈاکٹر شی اس تجربہ گاہ میں جانوروں پر تجربے کرنے میں مصروف تھے۔

کرونا ووہان تجربہ گاہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply