Khawateen-jtnonline 144

کرونا وباء، خواتین اپنے پیاروں کیلئے احتیاط اور بے خوفی اپنائیں

(تحریر :- – – – – ناصرہ عتیق) کرونا وباء خواتین احتیاط

انسانی آنکھ سے اوجھل ایک چھوٹے سے وائرس نے کہ، خورد بین کے نیچے جس کی شکل آبی بارودی سرنگ سے مشابہت رکھتی ہے، پوری دُنیا میں ہلاکتوں کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ یہ وائرس غیر محسوس طریقے سے انسانی بدن میں داخل ہوتا ہے، کچھ دن جسم کے اندر پنپتا ہے، اپنے اثرات بتدریج ظاہر کرتا ہے اور پھر اپنے میزبان کی زندگی کو، آبی بارودی سرنگ کی طرح بھک سے اڑا دیتا ہے۔

—————————————————————————-
یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب، عکاظ میلے میں خواتین کی گھڑ سواری
—————————————————————————-

اس سے بچاﺅ کیلئے ویکسین بازار میں موجود نہیں ہے، اور اس کے علاج کا تریاق بھی دستیاب نہیں ہے۔ دُنیا کے تقریباً سبھی ممالک، بلا تخصیص ترقی یافتہ اور پسماندہ کے، یہ وائرس جس طرح لاشیں گرا رہا ہے، اور اپنے خوف کی گرفت میں لوگوں کو جکڑ رہا ہے، ان نشانیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو دُنیا کے خاتمے کے حوالے سے لوگوں میں معروف و معلوم ہیں۔

شہر کے شہر لاک ڈاؤن اور کرفیو کی صدائیں

کرونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر شہر کے شہر لاک ڈاﺅن ہیں، کرفیو کی باتیں ہیں، اجناس اور اشیائے خوردنی کی قلت کا اندیشہ ہے، معیشت کے ڈوبنے کی باتیں زبان زدعام ہیں، سماجی فاصلوں اور مذہب کی طرف رجوع پر توجہ دی جا رہی ہے، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نے پوری دُنیا کو صحیح معنوں میں ایک ایسا گلوبل ولیج بنا دیا ہے، جس کی فضا میں موت کے لمس کی ٹھنڈک ہے۔

یہ کج بحثیوں ، ہٹ دھرمی اور ہنسی ٹھٹھول کا وقت نہیں

اس گذرتے سمے میں بس ایک یہی موضوع لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے، جو لوگ کرونا وائرس کا بخوبی علم رکھتے ہیں، وہ دم بخود اور سنگین وسوسوں کا شکار ہیں، جو لوگ اپنی لاعلمی اور جہل کی بنا پر اس وباء کا ادراک نہیں رکھتے وہ کج بحثیوں، ہٹ دھرمی اور ہنسی ٹھٹھول میں پڑے ہیں۔

کرونا وباء خواتین احتیاط

بہرحال یہ گھڑی سوچ، فکر اور تدبر کی ہے۔ انفرادی اور اجتماعی سطح پر سخت احتیاطی تدابیر کے لاگو کرنے، ان پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ وگرنہ پوری دُنیا کو اُس صورتِحال کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے اٹلی کا شہر لمبارڈی ہوا ہے، کہ جہاں آفت اس طرح نازل ہوئی کہ قبرستان میں جگہ کم پڑ گئی۔

اہل وطن کو پہلی بار مہلک وباء کا سامنا

تیس برسوں پر پھیلے اپنے صحافتی تجربے میں، مَیں نے پہلی بار ایک مہلک مرض کو اپنے وطن میں یوں غارت گری میں سرگرم عمل دیکھا ہے۔ ہمارے عوام کیلئے یقینا یہ ایک نیا اور انوکھا تجربہ ہے۔ لوگوں نے طاعون کا نام تو سنا تھا، لیکن طاعون کرونا سے زیادہ جان لیوا ہے۔ طاعون پوری فضا کو مکمل طور پر آلودہ کر دیتا ہے۔ 14 ویں صدی عیسویں میں یورپ میں پھیلنے والی، اس وباء نے شہروں میں لاشیں اس طرح بچھائی تھیں، کہ انہیں اٹھانے اور دفنانے والا کوئی نہیں تھا۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ضرور کریں

کرونا بہرحال ایک آفت ہے، جس کا ادراک انتہائی سنجیدگی کا متقاضی ہے۔ یقینا اس وقت سے ڈرنا چاہئے، جب بار بار ہاتھ دھونے سے بھی کچھ نہ ہو، اور مرض خاموشی سے اپنا وار کر جائے۔ اس وقت سب سے زیادہ ضروری بات احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے، اور سماجی فاصلے کی اہمیت کو سمجھنے کی ہے۔ اپنی قوتِ مدافعت کا خیال رکھنا ہے، یقین اور اعتماد کو اپنے دِل میں جگہ دینا ہے، اور خوف کو ہر صورت خود سے دور رکھنا ہے۔ خوف ایمان کو کمزور کرتا ہے، قلب کو وسوسوں کی آماج گاہ بناتا ہے، اور بیماریوں کو جسم پر حاوی ہونے میں مدد دیتا ہے۔

رب تعالیٰ سے اچھی امید ہی وباء سے لڑنے کا بہترین ذریعہ

سب لوگوں سے بالخصوص خواتین سے، میری التماس ہے کہ احتیاط لازم، مگر خوف کو خود سے الگ کریں۔ خوف اور مایوسی سے قوتِ مدافعت ختم ہو جاتی ہے، جو کسی بھی بیماری سے لڑنے کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے۔ خوف کو ذہن میں بٹھا کر موت سے پہلے اپنی زندگی کو موت سے بدتر نہ کریں۔ جینے کی امنگ خود میں پیدا کریں، تو کوئی وائرس آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ ربِ کریم سے اچھی امید رکھو گے تو اچھا ہی ہو گا۔

پُر عزم نرسیں وباء کے خلاف ہراول دستے کا حصہ

رب ذوالجلال کا شکر ہے کہ ہمارے پیارے وطن میں ابھی تک صورتِحال قابو میں ہے۔ حکومت وہ سارے اقدامات کر رہی ہے، جو اس عالم گیر وباء کے حوالے سے ضروری ہیں۔ ہماری عسکری قیادت اور جوان میدان میں اُتر چکے ہیں، اور شعبہ طب سے متعلقہ ہمارے ڈاکٹر صاحبان اور نرسیں اپنی زندگیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے فرائض منصبی ادا کر رہے ہیں۔ اللہ پاک سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔پاکستان کے پُرعزم اور باحوصلہ وزیراعظم عمران خان، کو موجودہ صورتِحال کے حوالے سے زمینی حقائق کا بخوبی علم ہے، اور وہ ایسے اقدامات کر رہے ہیں، جو بجا طور پر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں ہیں۔

ایسی ہی پر مغز تحاریر سے آپڈیٹ رہنے کیلئے، فالو کریں جے ٹی این آن لائن

دُعا ہے کہ وہ اپنے نیک ارادوں میں کامیاب و کامران ہوں۔ ضرورت اس امر کی ہے، کہ پاکستانی عوام ایک باشعور اور سمجھ دار قوم ہونے کا ثبوت دیں۔ بصورتِ دیگر وہ موت کی اُس لَے پر، جو ہملین کے بانسری نواز نے چھیڑی تھی، اپنے خاتمے کی جانب خود بخود دوڑتے چلے جائیں گے۔ یہ گھڑی سمجھ داری، برد باری اور عقل سے کام لینے کی ہے۔ احتیاطی تدابیر اپنائیں اور ربِ کریم پر پورا توکل کریں۔ ربِ کریم سے دُعا ہے کہ آزمائش کی اس ساعت میں ہم سب پر اپنا فضل و کرم فرمائے۔

Journalist Nasra Atiq

نوٹ : – – –

محترمہ ناصرہ عتیق انتہائی شفیق ، باہمت اور قابل صحافی ہیں، دو عشروں سے زائد صحافتی تجربہ کی حامل اور لاہور پریس کلب کی سرگرم رکن ہونے کیساتھ ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں بھی کافی متحرک ہیں- ضرورتمند طبقہ خواہ ان کے شعبہ صحافت سے تعلق رکھتا ہو یا عام عوام سے ان کیلئے میدان عمل میں آ کر کچھ کر گزرنا ان کا خاصا ہے-

کرونا وباء خواتین احتیاط

Leave a Reply