کرونا وائرس کے خلاف اقدامات،سپریم کورٹ وفاقی،سندھ حکومت کی کار کر دگی پر برہم

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کی کار کر دگی پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو حکومتی ٹیم نے صرف اعداد و شمار بتائے، بریفننگ میں حکومتی ٹیم سے 5 سوال پوچھے تھے، حکومت کی ٹیم کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دے سکی،وفاقی صوبائی حکومتیں اپنے اپنے راستے اختیار کیے ہوئے ہیں، معذرت کے ساتھ ،وزیراعظم نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے ،

کیا پارلیمنٹرینز پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے گھبرا رہے ہیں،ہر سیاستدان اپنا علیحدہ بیان دے رہا ہے،لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے،ابھی تک میٹنگ میٹنگ کھیلنے اور دعوؤں کے علاوہ ہوا ہی کیا ہے؟ سب کچھ بند کر دیا گیا یہ نہیں سوچا گیا کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے،مشیروں اور معاونین خصوصی نے پوری کابینہ کو قابو کیا ہوا ہے،ایک وزارت میں وفاقی وزیر، وزیرمملکت، معاون خصوصی اور مشیر سب معاملات چلا رہے ہیں،

وزیراعظم کو کچھ پتہ بھی ہے کہ نہیں؟ ،لاک ڈاؤن کے باعث دوسری بیماریوں کی وجہ سے نہ جانے کتنے جنازے اٹھیں گے،وہ وقت آ رہا ہے جب جتھے حملے کریں گے، حکومت لوگوں کو سپورٹ کرے تو وہ بات مانیں گے، کرونا سے ہمارے سیاسی نظام کو بھی خطرہ ہے،،صدر مملکت ان حالات میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کیوں نہیں بلاتے؟ ہر سیاسی جماعت دوسری پارٹی کیخلاف پریس کانفرنس کر رہی ہے ،پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلا کر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہونا چاہیے، وزیر اعلی سندھ نے سنی سنائی باتوں پر کراچی کے کئی علاقے بند کردیئے،

کل کو پورا کراچی بند کردینگے،وہ وقت آرہا ہے لوگ کراچی میں پولیس اور سرکاری گاڑیوں پر ہجوم حملے کریگا، ہمارا وزیر اعظم عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کی واپسی کیلئے وقت مانگ رہا ہے،ہماری انڈسٹری پوری طرح بیٹھ چکی ہے،گزشتہ تیس سال سے انڈسٹری پر توجہ نہیں دی گئی،

مشیروں کو وفاقی وزرا کا درجہ دے دیا گیا ہے اور مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا ہے،پار لیمان کا اجلاس بلانے میں کیا ڈر ہے؟ پارلیمان نے ہی اس مسئلے کو حل کر ناہے، روز روز بولنے والے سیاستدان اب بالکل خاموش ہیں،قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟ کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟ کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے قانون سازی کر چکے ہیں جبکہ عدالت عظمیٰ نے حکومت سے پیر کو ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے فیصلوں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہاہے کہ کراچی میں گیارہ یونین کونسلز سیل کرنے کی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی،

یونین کونسلز میں کھانا اور طبی امداد فراہم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں، سندھ حکومت آٹھ ارب کا راشن تقسیم کرنے کے شواہد بھی نہ پیش کر سکی،سندھ حکومت کی کارکردگی افسوسناک ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتیں ڈاکٹرز کی ضروریات پوری کریں،ڈاکٹرز کو کھانا نہ ملنے کی شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے ،اسلام آباد انتظامیہ اور پنجاب حکومت کرونا سے نمٹنے اور امدادی کام کی تفصیلات پیش کریں ۔ پیر کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کورونا وائرس پر ازخود نوٹس کیس پر سماعت کی اور اس ایشو پر حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا۔ عدالت نے حکومتی ٹیم اور اسکی کارکردگی پر سوال اٹھا دئیے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سمجھ نہیں آ رہی کس قسم کی ٹیم کرونا پر کام کر رہی ہے،

اعلیٰ حکومتی عہدیداران پر سنجیدہ الزامات ہیں، ظفر مرزا کس حد تک شفاف ہیں کچھ نہیں کہ سکتے، معاونین خصوصی کی پوری فوج ہے جن کے پاس وزراء کے اختیارات ہیں ، حکومتی کابینہ پچاس رکنی ہوگئی، اس کی کیا وجہ ہے؟ کئی کابینہ ارکان پر جرائم میں ملوث کے مبینہ الزامات ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت کی آبزرویشن سے نقصان ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ریمارکس دینے میں بہت احتیاط برت رہے ہیں، عدالت کو حکومتی ٹیم نے صرف اعدادو شمار بتائے۔چیف جسٹس نے کہاکہ بریفننگ میں حکومتی ٹیم سے پانچ سوال پوچھے تھے، حکومت کی ٹیم کسی ایک سوال کا بھی جواب نہیں دے سکی۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ کوئی ملک کرونا سے لڑنے کیلئے پیشگی تیار نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ قانون سازی کے حوالے سے حکومت کا کیا ارادہ ہے؟

کیا ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے پارلیمان قانون سازی کرے گا؟ کئی ممالک ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے قانون سازی کر چکے۔ جسٹس قاضی امین نے کہاکہ سماجی فاصلہ رکھنے کے حکومت کیا عمل کروا رہی ہے؟ جمعہ کے اجتماع پر اسلام آباد میں جو ہوا کیا کسی کو نظر آیا؟ ۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ سماجی فاصلے کیلئے عوام کو خود ذمہ داری لینا ہوگی، پولیس یا فوج 22 کروڑ عوام کو فاصلے پر کیسے زبردستی کروا سکتی ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ریاستی مشینری کو اجلا سوں کے علاوہ بھی کام کرنے ہوتے ہیں ،کیا ملک بند کرنے سے پہلے اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا،

حکومتی مشیران اور وزرا مملکت پر کتنی رقم خرچ کی جا رہی ہے،ان مشیران وزرا پر اتنی رقم کیوں خرچ کی جا رہی ہے،مشیران معاونین کابینہ پر حاوی ہوتے نظر آ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ کیا ہر رہا ہے کابینہ کے فوکل پرسن بھی رکھے گئے مشیران ہیں،وزیراعظم کی کابینہ غیر موثر ہوچکی چکی ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ معذرت کے ساتھ لیکن وزیراعظم نے خود کو الگ تھلگ رکھا ہوا ہے ،کیا پارلیمنٹرینز پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے گھبرا رہے ہیں،

وفاقی صوبائی حکومتیں اپنے اپنے راستے اختیارکئے ہوئے ہیں،ہر سیاستدان اپنا علیحدہ بیان دے رہا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ عدالت سیاسی لوگوں کے بیانات پر نہ جائے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنی صلاحیت کے مطابق تدابیر اختیار کر رہی ہیں۔ جسٹس عمر عطا ء بندیال نے کہاکہ پاکستان میں اتنے بڑے مینوفیکچررز موجود ہیں کیا وہ حفاظتی کٹس نہیں بنا سکتے،یہ ایشو عوام کی آزادی اور صحت کاہے،ہسپتالوں میں ڈاکٹر کو غذا بھی غیر معیاری فراہم کی جا رہی ہے،

وڈیو دیکھی ڈاکٹرز کھانے کی بجائے عام ادمی سے حفاظتی کٹس مانگ رہے ہیں۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ لوگوں کو مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے،ابھی تک میٹنگ میٹنگ کھیلنے اور دعوؤں کے علاوہ ہوا ہی کیا ہے؟ سب کچھ بند کر دیا گیا یہ نہیں سوچا گیا کہ اس کے اثرات کیا ہوں گے،مشیروں اور معاونین خصوصی نے پوری کابینہ کو قابو کیا ہوا ہے،ایک وزارت میں وفاقی وزیر، وزیرمملکت، معاون خصوصی اور مشیر سب معاملات چلا رہے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply