کرونا وائرس کی چمگادڑ کے اندر تبدیلی واقع ہوئی،انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سربراہ کا تحقیق کے بعد دعویٰ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نئی دہلی(جتن آن لائن نیوز) بھارت کی ٹاپ لیول کی میڈیکل باڈی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے حوالے سے چین میں ہونے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ عالمی وائرس کرونا چمگادڑوں میں پائے جانے والے وائرس کی تبدیل شدہ شکل ہے اور ایسا ہزار سال میں ایک مرتبہ ہوتا ہے۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سربراہ نے خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی سائنسدانوں اور محققین نے کرونا وائرس کے حوالے سے تحقیق کی ہے کہ آخر کس طرح ایک وائرس جانوروں سے براہ راست انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے یا پھر چمگاڈر سے پینگولین میں منتقل ہونے والا یہ وائرس کیسے انسانوں میں منتقل ہوا۔چین کی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس پینگولین سے انسانوں میں آیا کیونکہ ووہان کی جانور مارکیت میں پینگولین کا گوشت فروخت کیا جاتا تھا۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے سربراہ سائنسدان ڈاکٹر رمان آر گنگا نے بتایا کہ چین میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق یہ پتہ چلا ہے کہ کرونا وائرس چمگادڑوں کے اندر اس طرح تبدیل ہوا کہ اس سے انسان براہ راست متاثر ہو سکیں۔ڈاکٹررمان کا کہنا ہے کہ کچھ وائرس نسل در نسل بدل جاتے ہیں تو یہ ایک نادر واقعہ ہوتا ہے۔

ڈاکٹر رمان کے مطابق انہیں ہندوستان میں چمگادڑوں سے انسانوں میں کرونا وائرس منتقل ہونے کی کوئی مثال نہیں ملی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا ہے کہ چمگادڑ کی دو قسمیں ہیں ، اور ان میں کرونا وائرس موجود ہے جو انسانوں کو متاثر کرنے کے قابل نہیںہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply