corona virus 62

کرونا وائرس پاکستان پہنچ گیا،2مریضوں میں تصدیق

Spread the love

کراچی، کوئٹہ،اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس

سامنے آگیا ہے،کراچی کا رہائشی یحییٰ جعفری نامی نوجوان ایران سے ہوائی

جہاز کے ذریعے کراچی پہنچا تھا جس کی حالت خراب ہونے پر طبی معائنے میں

کرونا وائرس کی تصدیق ہوگئی۔ دوسری جانب ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی دو

پاکستانیوں میں اس وائرس کی تصدیق کی ہے۔ محکمہ صحت سندھ نے کہا ہے کہ

22 سالہ نوجوان یحییٰ جعفری ایران گیا تھا۔ یحییٰ جعفری نامی نوجوان کو نجی

ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے جہاں اسے طبی امداد فراہم کی

جا رہی ہے جبکہ مریض کے اہلخانہ کوبھی مخصوص وارڈ میں منتقل کردیا گیا

ہے۔حفاظتی اقدامات کے تحت متاثرہ شخص کے اہلخانہ کی بھی نگرانی کی جارہی

ہے جبکہ متاثرہ شخص کے ساتھ سفر کرنے والے دیگر افراد کا ڈیٹا بھی حاصل

کیا جارہا ہے۔وزیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے اپنی ٹویٹ میں پاکستان میں کرونا

وائرس سے متاثر ہونے والے دو افراد کی تصدیق کی ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا ہے

کہ دونوں مریض بھرپور طبی نگرانی میں ہیں اور اب ان کی حالت بہتر ہے۔ اس

صورتحال میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں، صورتحال کنٹرول میں ہے۔

ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ چین ،ایران سمیت 30ممالک میں کرونا وائر س

تیزی سے پھیل رہا ہے ،اس وقت ایران میں 5ہزار سے زائد زائرین اور 500طالب

علم موجود ہیں جامع پلان مرتب ہونے تک ایران کے ساتھ آمد و رفت معطل رہے

گی ، فل الحال بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو کوارنٹائن کرنے کے

بجائے انکی معلومات حاصل کی جارہی ہیں جبکہ کسی شخص میں علامات ظاہر

ہوں تو اسے ہسپتال منتقل کیا جارہاہے ۔ بدھ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں پر یس

کانفر نس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ چین اور ایران سمیت 30ممالک

میں کرونا وائر س پھیل رہا ہے ایران میں اس وقت 5سے 6ہزار زائرین موجود ہیں

جبکہ قم میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے 500طالب علم مختلف مدارس اور

جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔وفاقی حکومت نے قومی سطح پر ضابطہ

کار بنایا ہے جس کے تحت پاک ایران بارڈر کو تفتان کے مقام پر آمد و رفت کو

معطل کردیا گیا ہے ۔بارڈر پر انتظامات کو مربوط بنا نے کے بعد ایران سے آمد و

رفت کا سلسلہ بحال کردیا جائیگا۔ ملک کے تمام ایئر پورٹس ، بندگاہوں ، بین

القوامی شاہراہوں پر اسیکریننگ کا موثر نظام تشکیل دیا گیا ہے ۔تمام مسافروں سے

انکے موبائل نمبر اور پتہ لیا جارہا ہے تا کہ اگر کسی میں شخص میں کرونا

وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو اسے فوری طبی امداد مہیا کی جا سکے۔ اسی نظام

کے تحت تفتان زاہدان روٹ پر بھی ضابطہ اخلاق تشکیل دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ

ہم مسافر وں کو کوارنٹائن کرنے کے بجائے کسی میں علامات نظر آئیں تو انہیں

ہسپتال بھیج رہے ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان کے ساتھ اجلاس میں بلوچستان میں

کرونا وائر س سے تدارک کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ہے۔ وفاقی

حکومت صوبے کو ہرقسم کی معاونت فراہم کریگی ۔انہوں نے بتایا کہ اب تک

افغانستان میں کرونا وائر س کا صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے ،ضرورت پڑی تو

افغانستا ن کے بارڈر کے لئے بھی ایران کی طرز پر اقدامات کئے جائیں گے۔

ماسک کی درآمد پر پابند ی عائد کر دی گئی ہے حکومت کے پاس ماسک اور

حفاظتی سامان موجود ہے ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ

میر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ ایران میں کرونا وائر س رپورٹ ہونے کے بعد

وفاقی اور صوبائی حکومتیں الرٹ اور ملکر کرونا وائر س سے بچائو کے لئے

اقدامات کر رہی ہیں ۔ صوبے کا 900کلو میٹر بارڈر ایران جبکہ 1300کلو میٹر

بارڈر افغانستا ن سے ملتا ہے جس میں پانچ آفیشل کراسنگ پوانٹس ایران اور کچھ

افغانستان کے ساتھ ہیں جیسے ہی حکومت کو اطلاع ملی صوبائی حکومت نے

وفاقی حکومت سے گزارش کر کے ایف سی کو کسٹم ایکٹ کے تحت اختیارات

تفویض کر دئیے ہیںاور تمام بارڈر سیل کر دئیے ہیں ۔ گوادر کے سمندری راستے

بھی بند کئے گئے ہیں۔ایران کے ساتھ ریدیک ، چھالگی ، گپت، چیدگی ،تفتان

بارڈرز پر آمد و رفت محدود کرنے کے ساتھ ساتھ مسافروں کو کوارنٹائن کرنے

اور فیبرک ہسپتال بنانے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔علاوہ ازیں ڈاکٹر ظفر

مرزا سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے

کہا ہے کہ صوبائی حکومت کرونا وائرس کی روک تھام اور احتیاطی تدابیر کے

حوالے سے پوری طرح مستعد ہے، تفتان اور ایران افغانستان سے ملنے والے

سرحدی علاقوں کے انٹری پوائنٹس پر بلوچستان داخل ہونے والے افراد کی

اسکریننگ کے علاوہ تشخیص کے لئے آئیسولیشن وارڈ قائم کرنے کے لئے

ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کئے جارہے ہیں اور حکومت تمام وسائل فراہم کررہی

ہے۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ تفتان میں قائم پاکستان ہاؤس کو فوری طور پر

آئیسولیشن وارڈ میں تبدیل کیا جائے گا جبکہ چمن اور دیگر انٹری پوائنٹس پر بھی

دستیاب عمارتوں میں آئیسولیشن وارڈ کی سہولیات اور تھرمو گنز فراہم کی جائیں

گی اور ڈاکٹروں اورطبی عملہ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا جبکہ کوئٹہ کے

شیخ زید ہسپتال میں آئیسولیشن وارڈ اور کسی مناسب سرکاری عمارت میں قرنطائن

قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایران نے سرکاری طور پر پاکستان سے زائرین

کی آمد کو عارضی طور پر معطل کرنے درخواست کی ہے۔ملاقات کے دوران

ہیلتھ انشورنس کارڈ کے اجراء سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی، معاون

خصوصی نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں ہیلتھ انشورنس کارڈ کے

اجراء کے لئے تین سو ملین روپے مختص کئے ہیں، صوبائی حکومت اپنے حصے

کے فنڈز فراہم کرے گی تو بلوچستان کے پانچ لاکھ پچاس ہزار خاندانوں کو ہیلتھ

انشورنس کی سہولت ملنا شروع ہوجائے گی۔دریں اثناء پاک افغان بارڈر طورخم

گیٹ پربھی کرونا وائرس سے بچائو کے انتظامات شروع کر دیئے گئے، 13

ڈاکٹرز و طبی عملہ تعینات کر دیا گیا، ایک لاکھ سے زائد افراد کی سکرین کی

گئی۔ضلعی انتظامیہ خیبر پختونخواکے مطابق پڑوسی ممالک ایران و افغانستان

سے کرونا وائرس کے کیس رپورٹ ہونے پر پاکستانی حکام نے طورخم گیٹ پر

میڈیکل ٹیم تعینات کر دی گئی ہے، جو تھرمل سکیننگ گنز کے ذریعے آنے والے

لوگوں کی باقاعدہ سکیننگ کررہی ہے اور کسی قسم کی ایمرجنسی کی صورت

میں طورخم گیٹ پر ایک ایمبولینس بھی تیار کھڑی ہے جبکہ پاک افغان دوستی

ہسپتال طورخم، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل اور جمرود بھی ایمرجنسی

سپاٹس ڈکلئر کئے گئے ہیں تاہم ابھی تک کوئی کرونا وائرس کیس سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب ایران میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کے

باعث تفتان میں پاک ایران سرحد تیسرے روز بھی بند رہی جبکہ بلوچستان حکومت

نے اندرون ملک سے ایران جانے والے زائرین کے صوبے میں داخل پر ہی پابندی

عائد کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت بلوچستان نے ملک کے دیگر علاقوں

سے بلوچستان آکر تفتان کے راستے ایران جانے والے زائرین کو صوبے میں

داخل ہونے سے قبل روک کر واپس کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ڈپٹی

کمشنر شیرانی نے صوبائی حکومت کے احکامات کی روشنی میں کے پی کے اور

اسلام آباد سے آنے والے زائرین کو روکنے کے لیے شیرانی میں چیک پوسٹ قائم

کردی ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ صوبے میں کرونا

کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ تفتان میں پاک ایران

سرحد فی الحال بند ہے اور تفتان میں بنیادی مرکز صحت میں قرنطینہ مرکز قائم

کردیا گیا ہے۔تفتان میں اس وقت 270 زائرین سمیت دیگر افراد موجود ہیں۔ ایران

سے تفتان پہنچنے والے افراد کو 14 دن کے لیے آبزرویشن میں رکھا گیا ہے جبکہ

ایران سے ملحقہ اضلاع گوادر، ماشکیل، مند اور پنجگور میں آئسولیشن وارڈز

کردیے گئے ہیں۔ لیاقت شاہوانی کے مطابق ائیر پورٹس پر بیرون ملک سے آنے

والوں کی بھی اسکریننگ کی جارہی ہے۔ ایران میں اس وقت 5 ہزار سے زائد

پاکستانی موجود ہیں جن کی واپسی کیلئے بھی طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ ایران

سے تفتان پہنچنے والوں کو ائیر لفٹ کے ذریعے متعلقہ صوبوں کو بھجوانے کی

تجویز ہے۔ ایران سے آنے والوں کے لیے ہیلتھ سرٹیفیکیٹ لازمی قرار دیا جارہا

ہے۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اس وقت مختلف منصوبوں میں تقریباً 1200

چینی کام کررہے ہیں، صوبے میں کام کرنے والے چینی افراد کی کرونا کے

حوالے سے اسکریننگ کی جارہی ہے جو سب کلیئر پائے گئے ہیں جبکہ بلوچستان

سے اپنے وطن جانے والے چینی افراد کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے۔ وزیر

ریلوے شیخ رشید نے کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر کوئٹہ سے تفتان تک

ٹرین سروس معطل کردی۔وزیر ریلوے نے کہا ہے کہ کوئٹہ اور تفتان کے درمیان

چلنے والی چار ٹرینوں کو معطل کیا گیا ہے، یہ ٹرین سروس تاحکم ثانی معطل

رہے گی۔ تفتان میں پاک ایران سرحد چار روز سے بند ہے اور بارڈر کی بندش

سے تجارتی سرگرمیاں لوگوں اورگاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے جبکہ سرحد کے

دونوں اطراف زائرین بڑی تعداد میں پھنسے ہوئے ہیں۔تفتان کے راستے ایران

جانے والے تاجر اور ان کا سامان پھنس گیا ہے جبکہ پاکستان سے بھیجے جانے

والا مالٹا سرحد پر پڑے پڑے خراب ہورہا ہے۔بلوچستان سے ملحقہ دونوں ہمسایوں

ممالک ایران اور افغانستان میں کورونا وائرس کی موجودگی کے باعث صوبے

میں اس حوالہ سے خوف وہراس ہے۔ اس حکوالے سے پاکستان نے سخت حفاظتی

اقدامات کیے ہیں اوراب تک ملک میں کورونا کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا

ہے۔ ذرائع وزارت صحت کے مطابق اب تک قومی ادارہ صحت میں کورونا کے

104سیمپلز کا ٹیسٹ منفی آیا ہے اور ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ

کوئی شخص منظرعام پر نہیں آیا۔ ملک بھر کے داخلی مقامات سے اب تک 6لاکھ

افراد کو اسکریننگ کے عمل سے گزارا گیا ہے اور ملک کے تمام داخلی راستوں

پر اسکریننگ کے عمل پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب

کرونا وائرس سے چین میں مزید 76 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ اٹلی یورپ کا

سب سے زیادہ متاثرہ ملک بن گیا ہے جہاں ہلاکتیں 11 سے تجاوز کر گئی ہیں۔چین

کے نیشنل ہیلتھ کمیشن کے مطابق کرونا وائرس سے ہلاکتوں میں مسلسل کمی

دیکھنے میں آ رہی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 76 افراد کی ہلاکت کے

بعد اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 715 ہو گئی ہے۔ایرانی حکام کی جانب سے

کرونا وائرس کے باعث 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے ۔اس کے

علاوہ جنوبی کوریا میں بھی کورونا وائرس کے باعث 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

جب کہ سیئول میں تعینات ایک امریکی فوجی میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی

ہے۔اٹلی کا شمالی علاقہ کوڈونگو سب سے زیادہ متاثرہ ہوا ہے جہاں اسکولوں اور

دکانوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ بسیں بھی اس علاقے میں نہیں روکی جا رہیں۔

قرنطینہ کے باعث 50 ہزار نفوس پر مشتمل کوڈونگو کو اٹلی کا ووہان قرار دیا جا

رہا ہے۔

Leave a Reply