کرونا وائرس,ووہان میں 4پاکستانی طلبہ ،لاہور میں مزید 2افراد متاثر

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس ووہان میں
اسلام آباد،لاہور،گلگت (جنرل رپورٹر ) لاہور میں کرونا وائرس کے مشتبہ

مریضوں کی تعداد میں اضافہ، سروسز ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں دو مزید

مشتبہ مریضوں کو داخل کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق لاہور کی 23 سالہ خاتون اور

اس کے تین سالہ بیٹے میں کرونا وائرس کی علامات پائی گئی ہیں۔ کرونا وائرس

کی مشتبہ مریضہ نجی یونیورسٹی میں چند روز قبل امتحان دینے گی تھی۔ کہا جا

رہا ہے کہ وہاں موجود ایگزیمینر چینی باشندہ تھا۔اسی چینی باشندے سے خاتون کو

جبکہ اس کے بعد متاثرہ خاتون سے تین سالہ بچے کو یہ وائرس منتقل ہوا۔ڈاکٹرز

کی جانب سے خاتون کے خون کے نمونے لے کر ٹیسٹ کیلئے لیبارٹری بھجوا

دیئے گئے ہیں۔ادھروزیراعظم کے معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے

کہا ہے کہ چین کے شہر ووہان میں 4پاکستانی طلبہ میں کرونا وائرس کی تصدیق

ہوگئی ہے، اس وقت پاکستان میں کروناوائرس کاایک بھی مریض نہیں،ملک اس

وائرس سے محفوظ ہے،کرونا وائرس کی مخصوص علامات نہیں جس کے باعث

اس کی تشخیص مشکل ہے، اس بیماری میں سردرد،بخاری،کھانسی اور سانس میں

تکلیف کی شکایت ہوتی ہے، لیبارٹری میں جانچ پڑتال کے بغیر اس وائرس کی

تشخیص نہیں کی جاسکتی،چین نے کرونا وائرس سے بچاو کیلئے زبردست

اقدامات کیے ہیں اور ووہان کیلئے آمدورفت بند کردی گئی ہے، دنیابھرمیں 6ہزار

52افراد میں کروناوائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔ سیکریٹری صحت عثمان نے

کہا ہے کہ پنجاب میں کرونا وائرس کا کوئی مریض نہیں، کرونا وائرس سے متعلق

ابھی تک کوئی مریض سامنے نہیں آیا۔سیکرٹری صحت پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عثمان

نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سروسز اسپتال میں داخل مریضوں سے متعلق

ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تین مشتبہ مریضوں کو الگ کر کے مزید تشخیص کی

جا رہی ہے، کرونا وائرس کا کوئی علاج نہیں، لوگ کرونا وائرس سے بچاؤ کے

لیے حکیموں اور ٹوٹکوں کا استعمال نہ کریں۔دوسری طرف کروناوائرس کے

پھیلاؤ کے بعد چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے اسلام آباد

ہائیکورٹ درخواست دائر کر دی گئی ۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں وکیل

جہانگیر جدون کی جانب سے درخواست دائر کی گئی،سیکرٹری خارجہ، سیکرٹری

صحت سمیت دیگر درخواست میں فریق بنایاگیا ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا

کہ چین میں پھنسے پاکستانی کتنے ہیں حکومت نے اب تک کیا اقدامات

اٹھائے،20ہزار چائنیز اسلام آباد میں رہ رہے ہیں ان کی سکریننگ کے کیا

انتظامات کئے،کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے حکومت کیا اقدامات

اٹھا رہی ہے۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ حکومت کو چین میں پھنسے

پاکستانیوں کو واپس لانے کی ہدایت کی جائے،کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے

کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی جائے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ

حکومت پاکستان نے ابھی تک پاکستانی طالبعلموں کو واپس لانے کا کوئی فیصلہ

نہیں کیااس حوالے سے فیصلہ حکومت کا ہو گا۔ ایک بیان میں ترجمان نے کہاکہ

وزارتِ خارجہ اکیلے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی،اس حوالے سے وزارتِ صحت

معاملات دیکھ رہی ہے۔ ترجمان نے کہاکہ تمام فیصلے تکنیکی کمیٹی کی طرف

سے کئے جائیں گے،وزیراعظم کی ہدایت پر لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ادھر

جاپان نے پاکستان کوکرونا وائرس کی 4ٹیسٹنگ کٹس عطیہ کرنیکااعلان کردیا ہے

، ایک ٹیسٹنگ کٹ کی مالیت 2ہزارڈالر ہے ، جس سے 50ٹیسٹ ممکن ہوسکیں

گے۔علاوہ ازیں کرؤنا وائرس کے نام سے خوف وہراس پھیلانے والی جھوٹی

سوشل میڈیا پوسٹ پر پنجاب فوڈ اتھارٹی نے وضاحت جاری کردی ہے۔ڈائریکٹر

جنرل پنجاب فو ڈ اتھارٹی عرفان میمن نے وضاحت میں کہا ہے کہ بکرے کے

گوشت اور کرؤنا وائرس کے حوالے سے کوئی پوسٹ جاری نہیں کی گئی۔بکرے

کے گوشت اورکرؤنا وائرس میں ابھی تک کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے۔بکرے کا

گوشت نہ کھانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹ جھوٹی

ہے۔دوسری طرف اورنج لائن میٹر و ٹرین منصوبے پر کام کرنے والے چینی

باشندوں کے لیے نئی ایڈوائزری جاری کر دی گئی۔اورنج ٹرین منصوبے پر کام

کرنے والے چینی انجینئرز اور ورکرز کو ماسک پہن کر فیلڈ میں آنے کی ہدایت

کر دی گئی۔ چینی باشندوں کو کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کرنے اور بار بار

ہاتھ دھونے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔جنرل منیجر ماس ٹرانزٹ اتھارٹی محمد

عزیر شاہ کے مطابق منصوبے پر کام کسی بھی دن نہیں رکا۔ چینی باشندوں کو

صرف 3 دن کیمپوں تک محدود کیا گیا تھا اور اس دوران ان کی اسکریننگ کی

گئی۔ محکمہ صحت نے اسکریننگ کا عمل انہی کے کیمپس میں مکمل کیا۔ محکمہ

داخلہ گلگت بلتستان نے چین میں کرونا وائر س کے پیش نظر پا ک چین بارڈر کو

عارضی طور پر کھو لنے کا فیصلہ منسوخ کر دیا۔چینی محکمہ صحت نے کہا ہے

کہ منگل کے اختتام تک صوبائی سطح کے 31علاقوں میں کرونا وائرس کے باعث

نمونیا کے 5974 مر یضوں کی تصد یق ہو ئی ہے جبکہ 132افراد اس مرض کے

باعث ہلاک ہو گئے ہیں۔ قومی صحت کمیشن نے بدھ کے روز اپنی روزمرہ

رپورٹ میں کہا ہے کہ 1239مریضوں کی حالت نازک ہے اور منگل کے اختتام

تک 9239کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ صحت

یاب ہونے کے بعد 103مریضوں کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔منگل کو

1459نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا نے چین کے

کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ شہر ووہان سے اپنے 240 شہریوں کو

طیارہ بھیج کر نکال لیا ہے جبکہ جاپان نے بھی اپنے 200 شہریوں کو چین سے

نکال لیا ہے۔چین کے 17 شہروں میں ٹرین، بس اور فضائی سروس مکمل بند ہے،

ہانگ کانگ کے ریلوے اسٹیشنز سنسان پڑے ہیں، وائرس کے باعث ہانگ کانگ

حکومت نے سرکاری ملازمین کو چھٹیوں کے بعد گھروں سے ہی کام کرنے ہدایت

کر دی ہے۔اس سے قبل وائرس پھیلنے سے روکنے کے لیے منگولیا نے چین اور

شمالی کوریا کے ساتھ اپنی سرحد مکمل بندکر دی ۔جرمنی اور کمبوڈیا میں بھی

کورونا وائرس کے کیس سامنے آچکے ہیں۔ہانگ کانگ اور ملائیشیاء نے اپنے

شہریوں کو چینی صوبے ہیبی کا سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔دوسری طرف

چین کے صدرشی چن پنگ نے فوج کو اپنامشن مضبوطی سے ذہن میں رکھنے

اور کرونا وائرس کی وبا کے خلاف جنگ جیتنے کی شراکت میں اپنے حصے کی

ذمہ داری ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے منگل کو

جمہوریہ کوریا کے وزیر خارجہ کانگ کیونگ وھا سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے

ہوئے کہاکہ چینی قوم مشکل سے گھبرانے والی نہیں ،ملک میں موجودتمام غیر

ملکیوں کی صحت اور سلامتی کی حفاظت کرینگے۔

کرونا وائرس ووہان میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply