khabar i Hai jtnonline 255

کرونا وائرس عجوبہ، 30 اقسام، خطے، ماحول اور عمر پر مختلف اثرات

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیجنگ ( جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ سیل) کرونا وائرس عجوبہ

کرونا وائرس ایک ہی بیماری نہیں، بلکہ خطے و ماحول کیساتھ ہیت میں تبدیلی اور ایج گروپ پر مختلف اثرات کی وجہ سے یہ مختلف بیماریوں میں بدلتا رہتا ہے- سائنسدانوں کے اس نئے انکشاف نے دنیا کو چکرا کر رکھ دیا ہے- نئی تحقیق کے مطابق اس وائرس کی اب تک 30 اقسام دریافت کی جا چکی ہیں-

——————————————————————————-
یہ بھی پڑھیں : کرونا درحقیقت کیمیکل ہتھیار، صہیونی بالا دستی کی سازش
——————————————————————————-

وائرس سے ایشیاء کے مقابلے میں یورپ و امریکہ میں زیادہ اموات، اور مختلف خطوں میں ہلاکتوں کی شرح میں فرق پر تحقیق کرنیوالے، چینی سائنسدانوں نے بتایا ہے، کہ یہ نیا وائرس کچھ ممالک میں بہت زیادہ جان لیوا کیوں ثابت ہورہا ہے، کیونکہ یہ خطے آب وہوا‘عمر حتیٰ کہ خون کے گروپ کے مطابق، اپنی ہیت میں تبدیلیاں لاتا ہے-
چین کی ژجیانگ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر لی لان جوآن اور ان کی ٹیم نے، مریضوں کے ایک چھوٹے گروپ میں اس وائرس کی اتنی اقسام کو دریافت کیا، جو اس سے پہلے رپورٹ نہیں ہوئی تھیں، درحقیقت وائرسز میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں عموماً نہیں ہوتیں، اور سائنسدانوں نے یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ کرونا وائرس کیساتھ ایسا ہوسکتا ہے-

وائرس کی کچھ اقسام دیگر کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا

چینی سائنسدانوں کی اس ٹیم نے پہلی بار لیبارٹری شواہد کی بنا پر یہ بھی ثابت کیا، کہ اس وائرس کی کچھ اقسام دیگر کے مقابلے میں زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہیں- اس تحقیق کو ابھی کسی طبی جرنل میں شائع نہیں کیا گیا، بلکہ اس کے نتائج ایک اوپن ویب سائٹ medRxiv.org میں شائع ہوئے،
جس میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ نیا کرونا وائرس اپنے اندر متعدد تبدیلیاں لانے کی صلاحیت پیدا کرچکا ہے، تحقیق میں پہلی بار یہ شواہد بھی فراہم کیے گئے، کہ اس وائرس کی اقسام امراض کی شدت یا نقصان پر اثرانداز ہوتی ہیں- تحقیق میں وائرس میں جینیاتی تبدیلیوں کی تفتیش کیلئے غیرمعمولی طریقہ کار کو اپنایا گیا-
ہانگ ڑو کے 11 کووڈ 19 کے مریضوں میں سے وائرل اقسام کے نمونے حاصل کیے گئے، اور پھر دیکھا گیا کہ وہ خلیات کو متاثر کرنے اور مارنے میں کتنے موثر ہیں-

واشنگٹن میں معتدل شدت والی اقسام کی دریافت

محققین نے دریافت کیا کہ یورپ بھر کے بیشتر مریضوں میں اس وائرس کی جان لیوا اقسام موجود ہیں- جبکہ امریکہ کے مختلف حصوں جیسے ریاست واشنگٹن میں اس کی معتدل شدت کا باعث بننے والی اقسام کو دریافت کیا گیا-
مگر نیویارک میں اسی ٹیم کی ایک الگ تحقیق میں اس وائرس کی جو قسم دریافت ہوئی، وہ یورپ سے وہاں پہنچی تھی، اور یہی وجہ ہے کہ وہاں شرح اموات بیشتر یورپی ممالک سے زیادہ نہیں، تو کم بھی نہیں- مگر محققین کے مطابق کمزور اقسام کا مطلب یہ نہیں، کہ ہر ایک کیلئے خطرہ کم ہوگیا- (کرونا وائرس عجوبہ)
درحقیقت 30 اور 50 سال کی عمر کے 2 مریضوں میں وائرس کی کمزور قسم موجود تھی، مگر وہ بہت زیادہ بیمار ہوگئے، اگرچہ وہ دونوں آخر میں بچ گئے، مگر زیادہ عمر والے مریض کو آئی سی یو میں داخل کرنا پڑا-

نئی تحقیق کے نتائج نے وباء کو مزید پیچیدہ بنا دیا

مختلف خطوں میں اس تحقیق سے اموات کی شرح میں فرق پر روشی ڈالی گئی ہے، کیونکہ ابھی ہر ملک میں اموات اور کیسز کی شرح مختلف ہے، اور سائنس دانوں کی جانب سے مختلف وضاحتیں کی جاتی ہیں-
جینیاتی سائنسدانوں نے پہلے شبہ ظاہر کیا تھا، کہ وائرس کی مختلف اقسام اموات کی شرح میں اس فرق کا باعث بنتی ہیں، مگر کوئی ثبوت نہیں ملا تھا- اس نئی تحقیق کے نتائج اس وباء کو مزید پیچیدہ بناتی ہے، کیونکہ بچنے کی شرح کا انحصار متعدد عناصر، جیسے عمر پہلے سے کوئی بیماری یا خون کے گروپ پر بھی ہوتا ہے-
ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے تمام مریضوں کا علاج ایک ہی بیماری سمجھ کر کیا جاتا ہے، یعنی ایک جیسا علاج ہوتا ہے-

ووہان کو لاک ڈاﺅن کرنے کی تجویز پروفیسر ڈاکٹر لی لان جوآن نے دی

مگر چینی سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ، کسی خطے میں وائرس کی قسم کی وضاحت کی جانی چاہیے، تاکہ اس کے مطابق علاج کیا جاسکے- چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق پروفیسر ڈاکٹر لی لان جوآن پہلی سائنسدان تھیں، جنہوں نے ووہان کو لاک ڈاﺅن کرنے کی تجویز دی تھی-
حکومت نے جنوری کے تیسرے عشرے میں اس پر عمل بھی کیا تھا-اس تحقیق کا حجم چھوٹا تھا، جس کا مطلب ہے کہ وائرس کی اقسام پر دیگر تحقیقی رپورٹس میں سیکڑوں یا ہزاروں اقسام بھی دریافت ہو سکتی ہیں-
اس تحقیق میں 30 سے زائد اقسام کو دریافت کیا گیا، جن میں سے 19 اقسام بالکل نئی تھیں، تحقیق کے مطابق ان تبدیلیوں سے وائرس کے اسپائیک پروٹین، (وہ حصہ جو یہ وائرس کسی خلیے کو متاثر کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے ) کے افعال میں تبدیلیاں آتی ہیں-

قارئین: خبر معلوماتی لگے تو شیئرکریں، اپڈیٹ رہیں جتن آن لائن کو فالو کرکے

اس خیال کو ثابت کرنے کیلئے تحقیقی ٹیم نے خلیات کو اس وائرس کی مختلف اقسام سے متاثر کیا، اور معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ جارحانہ اقسام، کمزور اقسام کے مقابلے میں 270 گنا زیادہ وائرل لوڈ کا باعث بنتی ہیں، جبکہ وہ خلیات کو بھی بہت تیزی سے مارتی ہیں۔

کرونا وائرس عجوبہ

Leave a Reply