304

کرونا وائرس,پاکستان آنیوالوں کیلئے ہیلتھ ڈکلریشن فارم لازمی قرار،امریکہ میں چینیوں کا داخلہ بند

Spread the love

اسلام آباد،لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ،جنرل رپورٹر)ڈاکٹر ظفر مرزا نے کرونا وائرس

سے نمٹنے کیلئے چین کے اقدامات کو اطمینان بخش قرار دیدیا۔ انہوں نے کہا آج

کرونا کی تشخیص کیلئے کٹس موصول ہوں گی، کل سے وائرس کا پتہ چلا سکیں

گے، متعلقہ وزارتوں کیساتھ ملکر جامع منصوبہ بندی کرلی۔ووہان میں پاکستانی

طلبا کی دیکھ بھال سے متعلق مطمئن ہیں، چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا

جا رہا ہے، چین کے اقدامات سے دیگر ممالک بھی محفوظ ہوں گے، چین سے

پاکستانیوں کو نکالنے کا اقدام پبلک ہیلتھ کیلئے ٹھیک نہیں، چین میں پاکستانیوں

کے ویزوں کی توسیع کیلئے دفتر خارجہ نے انتظامات کرلیے۔انہوںنے مزید کہاکہ

چین میں موجود پاکستانیوں کے حوالے سے کوئی چمپئن نہ بنے کیونکہ پاکستانی

بچوں کی سب سے زیادہ فکر حکومت کو ہے۔پاکستان میں کورونا وائرس کے ایک

بھی مریض کی تصدیق نہیں ہوئی اور وزیراعظم عمران خان اس معاملے پر توجہ

رکھے ہوئے ہیں۔ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ آج شام تک کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے

لییکٹس موصول ہو جائیں گی، کٹس آنے پر پاکستان میں کورونا وائرس کی

تشخیص ممکن ہو سکے گی۔چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ بچوں کے حوالے

سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 4 پاکستانی بچوں کی صحت اب بہتر ہے۔

چین سے معاہدہ ہو گیا ہے کہ چین میں موجود پاکستانی اس وقت تک نہیں چھوڑے

جائیں گے جب تک وہ مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو جاتے۔دوسری طرف

حکومت کے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے اقدامات جاری ہیں، پاکستان داخل

ہونیوالوں کیلئے ہیلتھ ڈکلریشن فارم جمع کرانا لازم قرار دیدیا گیا۔ترجمان سول

ایوی ایشن کے مطابق فارم میں رابطے کی تفصیلات اور سفر کی تاریخ شامل ہے،

طیارے کا عملہ مسافروں میں ہیلتھ ڈکلریشن کارڈ تقسیم کرے گا، کرونا وائرس کے

پیش نظر کارڈ میں معلومات کا اندراج لازمی ہے۔ ترجمان کے مطابق بصورت

دیگر پاکستان میں داخلہ اور امیگریشن کی اجازت نہیں دی جائے گی۔بلوچستان میں

سیندک اور دودرمنصوبوں پر کام کرنے والے چینی اور پاکستانی ملازمین کی

سکینگ کا عمل شروع ہو گیا۔ سروسز ہسپتال میں زیر علاج 2 چینی

باشندوںسمیت4مریضوں کو کلیئر قرار دیکرہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ایم

ایس سروسز ہسپتال سلیم چیمہ کا کہنا ہے کہ شہریوں کو وائرس سے بلاوجہ ڈرنے

کی ضرورت نہیں ہے۔ چینی باشندوں سمیت ہمارے پاس جتنے بھی مریض لائے

گئے، ان میں سے کسی کو بھی کرونا وائرس کا مرض نہیں نکلا۔چینی محکمہ

صحت نے اعلان کیا ہے کہ اب تک کرونا وائرس کے 11791مریضوں کی

تصدیق ہوئی ہے،مجموعی طور پر 243 افراد کو صحت یاب ہونے کے بعد

ہسپتالوں سے فارغ کردیا گیا ہے۔جمعہ کو 2102 مصدقہ نئے کیسز سامنے آئے

جبکہ نئے مشتبہ کیسز کی تعداد5019تھی اور 46اموات ہوئیں، ان میں سے 45

ہلاکتیں صوبہ ہوبے میں جبکہ ایک چھونگ چھنگ میونسپلٹی میں ہوئی۔ادھر موسم

بہار تہوار کے سفری ہجوم کے دوران چین کی ریلوے پولیس نے کورونا وائرس

کی روک تھام اور اس کا پھیلا روکنے کے لئے اقدامات اٹھانے کا بھی اعلان کیا

ہیدوسری طرف ہانگ کانگ کے ماہرین نے کہاہے کہ انہوں نے کورونا وائرس

سے نمٹنے کیلئے ویکسین بنا لی ہے تاہم اس ویکسین کے نتائج کا جائزہ لینے

کیلئے ابھی کافی وقت درکار ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ہانگ کانگ کے ماہرین

کا یہ بھی کہنا تھا کہ کم از کم ایک سال جانوروں پر تجربات کے بعد اس اینٹی

کورونا وائرس ویکسین کی انسانوں پر آزمائش کی نوبت آ سکے گی۔چین اور

امریکہ میں بھی الگ الگ کورونا وائرس کی ویکسین کی تیاری کی دوڑ جاری

ہے۔چین میں حکام کورونا وائرس کو شکست دینے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہے

ہیں، وہاں کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کیلئے جنگی بنیادوں پر کام جاری

ہے چین کے مشرقی صوبے جیانگ زوکے ماہرین نے ایسی کٹ بنانے کا دعوی

کیا ہے جو 15منٹ کے اندر اندر کورونا وائرس کی تشخیص کر سکے گی۔علاوہ

ازیں امریکہ نے گزشتہ 14 روز کے دوران چین کا سفر کرنے والے غیر ملکیوں

کا امریکہ میں داخلہ بند کردیا ہے جسکے بعد چین سے واپس امریکہ آنے والوں

کی ائیرپورٹس پر سکریننگ اور 14 روز تک نگرانی میں رکھے جانے کے بعد

صحت بہتر ہونے کی صورت میں ہی امریکا میں داخلے کی اجازت دی جائے گی۔

اس کے علاوہ امریکہ اتوار سے چین سے امریکہ آنے والی تمام پروازیں 7 بڑے

ائیرپورٹس سے شروع کرے گا جہاں مسافروں کی اسکریننگ کی جاسکے گی۔

Leave a Reply