196

کرونا وائرس، چین، امریکہ ٹوئٹرپر آمنے سامنے، ایک دوسرے پرالزامات کی بوچھاڑ

Spread the love

واشنگٹن، بیجنگ(مانیٹرنگ ڈیسک ) کرونا وائرس کے حوالے سے چین اور امریکہ میں ٹوئٹر پر

جنگ چھڑ گئی،جس سے گزشتہ برسوں سے جاری سرد جنگ میں مزید شدت آ گئی ہے ۔تفصیلات

کے مطابق گزشتہ روز امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے

الزام لگایا تھا کہ چین نے کرونا وائرس کے بارے میں مناسب احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں اور کئی

’’قیمتی دن برباد کیے‘‘ جن کی وجہ سے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلا اور اٹلی اس سے بدترین طور

پر متاثر ہے۔ علاوہ ازیں، وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے

بھی ’’ناول کرونا وائرس‘‘ (کووِڈ 19) کو ’’چائنیز وائرس‘‘ کہا تھا جس پر چین کی جانب سے شدید

غصے کا اظہار کیا جار ہا ہے۔چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہوا چنیائنگ نے مائیک پومپیو کے

الزامات کا جواب دیتے ہوئے اپنی ٹویٹس میں لکھا امریکی وزیرِ خا ر جہ سچ سے واقف ہوتے ہوئے

بھی جھوٹ بولنا بند کریں کیونکہ عالمی ادارہ صحت نے بھی وائرس کی روک تھام کیلئے چین کے

بروقت اقداما ت کو سراہا ہے۔ بصورتِ دیگر اس کے متاثرین کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی تھی۔

امریکی حکام کی جانب سے چین اور دوسرے ممالک کیلئے 10 کروڑ ڈالر امداد پر امریکی عوام کا

شکریہ ادا کرتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے ٹویٹ کیاکہ درحقیقت ہمیں (چین کو) اس

میں سے ایک ڈالر بھی نہیں ملا۔ لیکن کیا امریکہ نے عالمی ادارہ صحت کے واجبات ادا کردیئے

ہیں؟‘‘ایک اور ٹویٹ میں انہوں نے لکھا چین نے امریکی حکومت کو 3 جنوری کے دن ہی ناول

کرونا وائرس کی وبا سے آگاہ کردیا تھا جبکہ امریکی محکمہ خارجہ 15 جنوری کو ووہان کا سفر

کرنیوالے امریکیوں کیلئے ٹریول ایڈوائزری بھی جاری کرچکا تھااور اب چین پر تاخیر کا الزام؟ کیا

آپ سنجیدہ ہیں؟‘‘ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مور گن اورٹاگس نے جوابی ٹویٹ کرتے ہوئے

لکھا 3 جنوری تک چینی حکام کووِڈ 19 وائرس کے نمونے تباہ کرنے کا حکم دے چکے تھے، ووہان

کے ڈاکٹرز کو خاموش کرچکے تھے اور انٹرنیٹ پر عوامی تشویش کو سینسر کرچکے تھے۔ اس ٹائم

لائن کی واقعی تفتیش ہونی چاہیے۔اس پر چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید

کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ امریکی سرکاری ادارے ’’سینٹر فار ڈِزیز کنٹرول‘‘ (سی ڈی سی) کے

اندازے کے مطابق امریکہ میں اس بار موسمی زکام سے 3 کروڑ 60 لاکھ افراد متاثر ہوچکے ہیں جن

میں 22000 اموات بھی شامل ہیں ۔ سی ڈی سی کے سربراہ نے تسلیم کیا ہے کہ ان میں سے کچھ

اموات کووِڈ19 کی وجہ سے بھی ہوسکتی تھیں۔ اس بارے میں شفاف اور درست معلومات سے واقف

ہونا امریکی عوام کا حق اور ضرورت بھی ہے۔واضح رہے چین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ

گزشتہ برس سے شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ کرونا وائرس کی عالمی وبا سے متعلق گزشتہ ہفتے

چینی حکام نے الزام لگایا تھا کہ یہ وائرس امریکی فوجیوں سے ووہان میں منتقل ہوا، جس پر امریکہ

نے چین سے شدید احتجاج کیا تھا۔علاوہ ازیں امریکہ نے اس ماہ کے شروع میں 60 چینی صحافیوں

کو امریکہ
سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ اس کے جواب میں چین نے بھی 100 امریکی صحافیوں کو دس دن

کے اندر اندر چین چھوڑنے کا حکم دیدیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں