oh my God jtn-online

کرونا وائرس عورتوں کی نسبت مردوں کا شکاری کیوں؟

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) کرونا عورتوں کا شکاری

کرونا وائرس ہے کیا ؟ یہ کیوں لا علاج ہے؟ اس کے پھیلاؤ کی اصل وجوہات کیا ہیں ؟ آئیے جانتے ہیں۔ مزید پڑھیں

پھیپھڑے سکڑنا اور خشک ہونا شروع ہو جاتے ہیں

corona-virus.1

کرونا وائرس دراصل انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد سیدھا پھیپھڑوں میں داخل ہو کر نشوونما پکڑتا ہے، پھیپھڑے انسانی جسم میں ہوا کا مسکن ہیں، اسی لئے کرونا وائرس کھلی ہوا سے سفر کرتا ہوا، انسانی جسم میں داخل ہو کر براہ راست پھیپھڑوں میں گھس جاتا ہے، وہاں ریڈ بلڈ سیل میں اپنی بڑھوتری کرتا ہے، جس سے پھیپھڑے سکڑنا اور خشک ہونا شروع ہو جاتے ہیں، اوربچا کچھا پانی فلو کی صورت میں باہر نکلنا شروع ہو جاتا ہے- یہاں تک کے پھیپھڑے تر رہنے کیلئے دماغ سے مزید پانی کا تقاضا کرتے ہیں۔

جتنا آکسیجن ملتی جائیگی کرونا وائرس اتنا ہی پھیلتا جائیگا

انسانی جسم کو جوں جوں پانی ملتا ہے، یہ وائرس توں توں پھیلتا جاتا ہے، یہاں تک کے پھیپھڑے یکدم شدید حملے کی صورت میں کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور انسان پر نمونیا ایسی صورت طاری ہو جاتی ہے- میڈیکل انسان کو جتنا آکسیجن فراہم کرے گی، کرونا وائرس اتنا ہی پھیلتا جائے گا۔ سانس نہ ملنے کی صورت میں دل گھبراتا ہے، اور اچانک کام کرنا بند کر دیتا ہے۔ ایک صحتمند انسان کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد بمشکل دس دن ہی زندہ رہ پاتا ہے۔

ڈاکٹروں کی کوشش ہوتی ہے کہ مریض کو آکسیجن مسلسل ملتی رہے، تاکہ وہ زندہ رہے مگر یہی آکسیجن اس وائرس کی غذا بنتی ہے، وہ تیزی سے پھیلنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس دوران مریض کو متعدد مرتبہ بلڈ پریشر کم ہونے اور بڑھنے کی شکایت بھی ہوتی ہے، لیکن اس کا انجام سانس بند ہونے پر ہی ہوتا ہے۔

کرونا وائرس زندہ جانوروں میں انفیکشن کا سہارا لیکر بھی پھیلتا ہے

کرونا وائرس زندہ جانوروں میں انفیکشن کا سہارا لے کر بھی پھیلتا ہے- اس کی طبی وجوہات کو جاننا بھی ضروری ہے- وہ اس طرح کہ کرونا وائرس جانوروں میں موجود بیکٹیریا کو اپنا مسکن بنا کر ہوا کے ذریعے سفر کرتا ہے، اس دوران کرونا وائرس کو جیسے ہی کوئی دوسرا وجود یا مسکن دستیاب ہوتا ہے، وہ وہاں اپنا ٹھکانہ کرتا ہے، اور مددگار بننے والے بیکٹیریا کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

عورت کی نسبت مرد پر جلد حاوی ہوتا ہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ کرونا وائرس عورت کی نسبت مرد پر جلد حاوی ہوتا ہے۔ڈاکٹروں کے نزدیک اس کی وجہ عورت میں موجود ایکس کروموسومز اور جنسی ہارمونز ہیں، جو اسے کسی حد تک محفوظ رکھتے ہیں، جبکہ مرد کے وائے کروموسوم اور جنسی ہارمونز کرونا وائرس کی راہ میں کوئی مزاحمت نہیں کرتے۔ اس لئے یہ موذی وائرس ان پر جلد حملہ آور ہوتا ہے-

کرونا عورتوں کا شکاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply