new zara meri bhi suno2

کرونا وائرس درحقیقت کیمیکل ہتھیار، صہیونی بالا دستی کی سازش

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیویارک (جے ٹی این آن لائن مانیٹرنگ ڈیسک ) کرونا درحقیقت کیمیکل ہتھیار

معروف سیاستدان، بزنس مین، سابق سپیکر سندھ اسمبلی، سابق وفاقی وزیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق مستقل مندوب عبداللہ حسین ہارون نے دنیا بھر میں تباہی مچانے والے، نوول کرونا وائرس کی حقیقت سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پر اپنے ویڈیو پیغام میں بڑا دعویٰ کر دیا-

مزید پڑھیں : بائیولوجیکل جنگ کا تجربہ کیسا رہا ….. ؟

سوشل میڈیا پر چلنے والی ویڈیو میں عبداللہ حسین ہارون کا کہنا ہے، آج کل نوول کرونا وائرس کا موضوع سب سے زیادہ زیر بحث، اور زبان زد عام ہے- میں نے اس موضوع پر ابھی تک اسلئے بات نہیں کی کیونکہ سب ہی اس پر بات کر رہے ہیں، تو ایسی صورتحال میں مجھے کچھ کہنا مناسب نہیں لگا۔ تاہم دنیا بھر میں جاری کرونا وائرس سے متعلق بحث و مباحثوں کا جائزہ لینے کے بعد محسوس ہوا کہ جو اہم باتیں ہیں وہ کوئی نہیں کر رہا-

عبداللہ حسین ہارون کی نوول کرونا سے متعلق > ویڈیو <
Abdullah Hussain Haroon

ویڈیو پیغام میں انکا مزید کہنا ہے کہ سب سے پہلے تو یہ جان لیا جائے کہ نوول کرونا وائرس قدرتی نہیں یہ لیبارٹری میں بنایا گیا ہے، اور یہ کیمیکل ہتھیار کے طور پر بہت بڑی سازش کی تیاری کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

2006ء میں ایک امریکی کمپنی نے تیاری کی منظوری لی، 2014ء میں ویکسین کی پیٹنٹ، 2019ء میں ویکسین اسرائیل میں بننا شروع ہوئی

عبداللہ حسین ہارون کا کہنا ہے حقیقت یہ ہے کہ 2006ء میں امریکہ کی ایک کمپنی نے حکومت سے اس کا پیٹنٹ یا منظوری حاصل کی- 2014ء میں یہ ظاہر کرنے کیلئے کہ یہ کسی ایک جگہ سے حاصل نہیں کیا گیا تو اس کی ویکسین کی پیٹنٹ ڈالی گئی، لیکن اسے نومبر 2019ء میں باقاعدہ منظور کیا گیا، جس کی ویکسین اسرائیل میں بننا شروع ہوگئی ہے- حسین ہارون نے دعویٰ کیا کہ کرونا وائرس برطانیہ کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا، جس کی رجسٹری امریکہ میں ہوئی تھی، پھر اسے ائیر کینیڈا کے ذریعے چین کے صوبہ ہینان کے دارالحکومت ووہان کی لیبارٹری بھیجا گیا۔
ہارون نے بتایا کہ ووہان میں کرونا وائرس پھیلنے سے چھ ہفتہ قبل اس کی ویکسین ایجاد کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا گیا تھا اور اسے ایک آپریشن “201” کے تحت کمپیوٹر پر استعمال کیا گیا تھا۔

بذریعہ ائیر کینیڈا چینی شہر ووہان کی لیبارٹری بھیجا گیا، کوویڈ 19‘ نام دینے کی وجہ سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول ( سی ڈی سی ) کی اجازت سے بنایا جانا

انہوں نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ امریکہ، چین کی ترقی سے پچھلے کچھ عرصے سے گھبراہٹ کا شکار تھا۔ سابق سفیر نے نوول کرونا کو مخصوص ’کوویڈ – 19‘ کا نام دینے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ کرونا کو سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول ( سی ڈی سی ) کی اجازت سے بنایا گیا۔ عبداللہ حسین ہارون نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انگلینڈ میں اسوقت اس ضمن میں ایک چینی بائیولوجسٹ کیڈک چینک زیرحراست بھی ہے۔

مالی سپورٹر بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاﺅنڈیشن، جان ہاپکنز، ورلڈ اکنامک فورم

کرونا کو انگلینڈ کے پیر برائٹ انسٹیٹیوٹ میں بنایا گیا، جس کی مالی مدد بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاﺅنڈیشن کے علاوہ جان ہاپکنز اور ورلڈ اکنامک فورم نے کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ لوگ جو دنیا بھر میں گھومتے پھرتے ہیں کہ ہم آپ کی مدد کیلئے آئے ہیں، ہم آپ لوگوں کی صحت کے حوالے سے فکر مند ہیں دراصل ان کے ارادے کچھ اور ہی ہیں۔ سابق سفیر کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس سازش کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہے، جو اس حقیقت سے بھی عیاں ہے کہ وہ دنیا میں بالا دستی سے کتنا لطف اندوز ہوتا ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ چین کی حکومت پہلے ہی یہ دعویٰ کر چکی ہے کہ 2019ء کے فوجی ورلڈ گیمز کیلئے اکتوبر میں ووہان پہنچنے والے امریکی ہی یہ وائرس یہاں لائے۔

کرونا درحقیقت کیمیکل ہتھیار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply