pregnent woman 92

کرونا وائرس کہاں بے بس، ڈاکٹر قدرت کا کرشمہ دیکھ کر حیران

اسلام آباد( جے ٹی این آن لائن ہیلتھ نیوز) کرونا حاملہ خاتون بچے

حالیہ تحقیق میں اس انکشاف نے تمام محققین کو حیران کر دیا، کہ کرونا وائرس زچگی کے عمل کے دوران ماں اور بچے کی صحت کو متاثر نہیں کرتا- حاملہ خاتون اور اس کا بچہ دونوں اسکے شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ صرف ایک فیصد چانس ہے کہ حاملہ خاتون کرونا وائرس سے متاثر ہوتی ہے، اسکی وجہ اس میں پایا جانیوالا امیونٹی سسٹم ہے جو اسے محفوظ رکھتا ہے۔ مزید پڑھیں

وائرس موجود ہونے کے باوجود بے بس

تجربات کی روشنی میں دیکھا گیا ہے، کہ کرونا وائرس حاملہ خاتون کے بچے میں منتقل نہیں ہوتا، اور نہ ہی بچے کو دودھ پلانے سے اس کے اندر منتقل ہوتا ہے، جس طرح ایک عام انسان کرونا وائرس سے متاثر ہوتا ہے، اور اس میں کھانسی، فلو اور بخار کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، ایک حاملہ خاتون میں یہ نشانیاں ظاہر نہیں ہوتیں، یا پھر سامنے نہیں آتیں، اگرچہ کہ وائرس اس میں موجود ہوتا ہے۔

کرونا سے متاثر ہونے کا ایک فیصد چانس

تحقیق کے مطابق عام حالات میں بھی حاملہ خاتون میں وائرس سے لگنے والی بیماریاں کم اثر انداز ہوتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین، اٹلی اور امریکہ میں کرونا وائرس کا شکار حاملہ خواتین میں سے صرف 8 میں وائرس سے پیدا ہونیوالی بیماریاں دیکھی گئیں، اور یہ ایک فیصد ہونے کے برابر ہیں، جبکہ اب تک کسی بھی حاملہ خاتون کی اس وائرس سے موت کی رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔

ماں کی ماہواری بچے کی حفاظتی ڈھال

اب تک کوئی کیس تک سامنے آیا، جس میں خاتون سے اس کے بچے میں یہ وائرس منتقل ہونے کی اطلاع ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی خواتین جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں، وہ صحت و صفائی کا خاص خیال رکھتی ہیں، ان میں کرونا وائرس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے- اس کی وجہ اس کا نظام نتفس خاصا مضبوط ہونا ہے، جبکہ ماہواری بھی اس کیلئے حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں