طوفانی بارشیں ، بلوچستان میں تباہی مچ گئی ، کراچی پھر ڈوب گیا

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی پھر ڈوب گیا

کوئٹہ،کراچی (جے ٹی این آن لائن نیوز) بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شدید

بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی سے صوبے کے21 اضلاع شدیدمتاثرجبکہ

جعفر آباد، ڈیرہ بگٹی اور خضدار میں مختلف حادثات میں بچوں سمیت 8 افراد جاں

بحق ہو گئے ۔ پسنی کے قریب کوسٹل ہائی وے کا پل بہہ گیا۔کراچی میں مون سون

کے چوتھے اسپیل میں مسلسل تیسرے روز بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے

جاری ہے جس سے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل اور سڑکوں پر

پانی جمع ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی ہے، جبکہ کر نٹ لگنے سمیت

مختلف حادثات میں مزید 9افراد جاں بحق ہوگئے ۔ اندورن سندھ طوفانی بارشوں

کے باعث نائی گج ڈیم کو نقصان پہنچنے سے ضلع دادو کے 12دیہات بری طرح

متاثر ہوئے ہیں جہاں پاک فوج کی امدادی ٹیموں نے پہنچ کر ریسکیو سرگرمیاں

شروع کر دی ہیں ۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں طوفانی بارش اور سیلاب

نے تباہی مچادی ، ندی نالوں میں شدید طغیانی کے باعث قلات، لسبیلا،آواران اور

پنجگور میں بھی ہر طرف پانی ہی پانی نظر آ رہا ہے، حب کے قریب ریلے میں

پھنسے سات سیاحوں کو نکال لیا گیا۔ مستونگ، خضدار، ہرنائی، نوشکی، لورا

لائی، ڈھاڈر میں سیلابی ریلوں میں متعدد مویشی بہہ گئے، کچے گھروں کی

دیواریں گر گئیں، کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا جبکہ قومی شاہراہوں پر جگہ

جگہ آمدورفت معطل ہوگئی۔شدید بارشوں کی وجہ سے کئی دیہات کا زمینی رابطہ

منقطع ہوگیا، مکران کوسٹل ہائی وے پر 30 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، کوہلو کے ندی

نالوں میں طغیانی سے سوناری پْل بہہ گیاجس کی وجہ سے کوہلو کا سبی اور

کوئٹہ سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، درجنوں گاڑیاں پھنس گئی ہیں، کوئٹہ سمیت

بلوچستان کے مون سون رینج والے علاقوں آواران، تر بت، گوادر، اورماڑہ، ڈیرہ

بگٹی،جھل مگسی، زیارت ،ہرنائی،لسبیلہ، جعفر آباد اور نصیر آباد، بولان اور

سبی، سمیت مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

دوسری طرف کوئٹہ کا سندھ پنجاب سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا، برساتی ریلے

سے بی بی نانی کے مقام پر پل میں شگاف پڑ گیا، جس سے پل کاایک حصہ مکمل

تباہ ہو گیا، سندھ پنجاب کی کوئٹہ کیلئے شاہراہ ہرقسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دی

گئی۔ ڈیرہ بگٹی میں مختلف علاقوں میں 4 سے 5 فٹ پانی لوگوں کے گھروں میں

داخل ہوگیا۔انتظامیہ نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا۔ سیلابی ریلے میں

لوگوں کا سامان اور کھانے پینے کی اشیاء بہہ کر تباہ ہوگئی۔خضدار کے علاقے

مولا میں سیر کیلئے جانیو الے 100 افراد کو بحفاظت نکال لیاگیا۔بولان میں شدید

طغیانی کے باعث درجنوں جانور بھی پانی میں بہہ گئے ۔بارشوں سے پیدا ہونیوالی

صورتحال کے باعث انتظامیہ نے ماہی گیروں کی گہرے سمندر، برساتی نالوں،

سیاحتی مقامات اور نالوں کے قریب شہریوں کی آمدو رفت پر پابندی عائد کردی۔

محکمہ موسمیات نے موجودہ بارشوں کا سلسلہ آج اتوار تک جاری رہنے کا الرٹ

جاری کیا ہے۔ بارشیں قلات،خضدار،لسبیلہ،آواران،پنجگور، کیچ اورگوادر میں

ہونے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے متا ثرہ اضلاع کیلئے امدادی

سامان روانہ کر دیا گیا ہے۔اس ضمن میں وزیراعلی جام کمال کے زیرصدارت

اجلاس ہوا جس میں بارشوں اورسیلاب سے پیداہونیوالی صورتحال کاجائزہ لیاگیا۔

متاثرہ علاقوں میں راشن کی تقسیم کیاجارہا ہے ، کسی بھی ہنگامی صورت حال

نمٹنے کیلئے پاک فوج الرٹ کردیاگیا۔دوسری طرف تین روز سے جاری بارش

سے اہل کراچی کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں ۔ وقفے وقفے سے بادل بر سنے سے

سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل جبکہ سیوریج نالے اوور فلو ہونے سے پانی گھروں

میں داخل ہوگیا، درجنوں علاقے زیر آب ہیں ۔پاک فوج سول انتظامیہ کی مدد کو

پہنچ گئی ہے اور آئی ایس پی آر کے مطابق پاک آرمی نے ریلیف آپریشن کا آغاز

کر دیاہے، نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی ، پانی میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو

کیا جا رہا ہے، سیلاب اور کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے مزید

ریسکیو ٹیمز الرٹ کر دی گئی ہیں۔گزشتہ روز کرنٹ لگنے سمیت دیگر مختلف

حادثات میںبچوں سمیت مزید9افراد جاں بحق ہو گئے ہیں ،تاہم ترجمان کے الیکٹرک

کا کہنا ہے کہ شہر میں کرنٹ لگنے کے واقعات گھروں کی اند رونی ناقص

وائرنگ سے پیش آئے، کسی حادثے کا تعلق کے الیکٹرک کے انفرا اسٹرکچر سے

نہیں ۔ دریں اثنا سندھ میں حالیہ بارشوں سے نائی گج ڈیم کو شدید نقصان پہنچا ہے،

فیلڈ پروٹیکشن بند میں شگاف پڑ گیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس

پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق نائی گج ڈیم کے فلڈپروٹیکشن

بندمیں شگاف پڑگیاجس سے ضلع دادو کے 12دیہات بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

پاک فوج امدادی کارروائیوں کیلئے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئی ہے۔ آرمی

انجینئرز،موٹربوٹس،میڈیکل ٹیمیں امدادکیلئے پہنچی ہیں اور متاثرہ افراد کو ریلیف

فراہم کررہی ہیں ۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا کا کم دباؤ شمالی بحیرہ عرب

سے مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کے باعث کراچی میں اتوار کو بھی گرج

چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات ڈاکٹر عبدالقیوم کے

مطابق مون سون سسٹم کی شدت تاحال برقرار ہے اور بارش برسانے والے سسٹم

کا پھیلاؤ بلوچستان تک ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون سسٹم آج

برسنے کے بعد کمزور پڑنا شروع ہو جائے گا، لیکن کراچی میں کل بھی بوندا

باندی اور ہلکی بارش کا امکان ہے۔

کراچی پھر ڈوب گیا

آئندہ مہینوں میں وزیر اعظم بڑے فیصلے کریں گے، فواد چوہدری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply