کراچی میں زہریلی گیس سے جاں بحق افراد کی تعداد14ہو گئی، 10کی حالت تشویشناک

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی(سٹاف رپورٹر) کراچی کے علاقے کیماڑی میں پراسرار گیس کے اخراج

سے 14 افراد جاں بحق ہوگئے۔ فوکل پرسن محکمہ صحت سندھ ڈاکٹر ظفر مہدی

نے ہلاکتوں میں اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا دو روز میں 14 اموات ہوئیں۔

متاثرین کی تعداد 400 سے تجاوز کرچکی ، کراچی کے علاقے کیماڑی میں

پراسرار گیس کا اثر ختم نہ ہوسکا۔ لوگوں کو بدستور سانس لینے میں دشواری کا

سامنا ہے، لیکن گیس پھیلی یا کیمیکل ؟ معمہ تاحال حل نہ ہوسکا۔ متاثرہ علاقے

کے مکینوں کا کہنا ہے کہ سانس لینے میں تکلیف ہے، پولیس نے واقعے کا مقدمہ

قتل بلا سبب اور زہر خورانی کی دفعات کے تحت درج کرلیا۔ادھر وزیراعلی سندھ

نے گزشتہ رات ہنگامی اجلاس اور کیماڑی کا دورہ بھی کیا، مریضوں کے اہلخانہ

سے بات چیت کی اور ہسپتال انتظامیہ کو بہترین علاج کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ کی

متاثرہ علاقے کے رہائشیوں کو شادی ہالز منتقل کرنے کی ہدایت،ہسپتال انتظامیہ

نے وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا کہ کے پی ٹی اسپتال میں 70 مریضوں کو لایا

گیا تھا جن میں 40 مریض پرائیویٹ اور 30 کے پی ٹی کے ملازم ہیں، اسپتال کے

آئی سی یو میں 10 مریض تشویشناک حالت میں موجود ہیں جب کہ کچھ مریضوں

کو طبی امداد کے بعد روانہ کردیا گیا اور کچھ مریضوں کو جناح منتقل کیا گیا ہے۔

بعدازاں وزیر اعلیٰ سندھ جناح اسپتال پہنچے جہاں انہوں نے متاثرہ مریضوں اور

ان کے ورثاء سے بھی ملاقات کی۔مراد علی شاہ نے ضیاء الدین اسپتال کا بھی

دورہ کیا جہاں 123 مریضوں کو لایا گیا جب کہ سول اسپتال میں بھی 10 متاثرہ

افراد زیر علاج ہیں۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ مریضوں کے تمام

ضروری ٹیسٹ کیے جائیں، اگر مریضوں کو کہیں اور منتقل کرنا ہو تو امن

ایمبولنس کی سروس فراہم کی جائے۔جیو نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ مریضوں کی حالت بہتر ہے، جن مریضوں کا ضیاء

الدین اسپتال میں علاج نہیں ہو رہا، انہیں جناح و سول اسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔

بعدازاں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے

کورکمانڈر کراچی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ گیس اور ائیر کوالٹی کی چیکنگ

سے متعلق پاک فوج بھرپور مدد کر رہی ہے۔میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اور دیگر ادارے واقعے کی وجہ جاننے

کی کوشش کر رہے ہیں، سب ادارے مل کر وجہ جان لیں گے کہ واقعہ کیسے ہوا؟

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی، واقعے کی تہہ

تک پہنچنا پڑے گا تاکہ آئندہ ایسا واقعہ نہ ہو، علاقہ مکینوں نے احتجاج سڑک بند

کر دی، مظاہرین نے جیکسن مارکیٹ کے باہر دھرنا دے دیا اور مطالبہ کیا کہ

گیس سے ہلاکتوں کے معاملے کی تحقیقات کی جائے، مرنیوالے افراد کے اہلخانہ

کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔صوبائی وزیر اطلاعات سندھ ناصرحسین شاہ نے کہا

رپورٹس آنے سے قبل حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ زہریلی گیس کہاں

سے آرہی ہے، سندھ حکومت اپنا کردار ادا کر رہی ہے، تمام ہسپتالوں میں بھی

ایمرجنسی نافذ ہے، سندھ حکومت ایسا لائحہ عمل تیار کر رہی ہے کہ تمام کیمیکلز

کمپنیز کو شہر سے دور شفٹ کیا جائے گا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply