کراچی میں قیامتِ صغراء، مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 76 افراد جاں بحق 48

کراچی میں قیامتِ صغراء، مسافر طیارہ آبادی پر گر کر تباہ، 76 افراد جاں بحق

Spread the love

کراچی ( جے ٹی این آن لائن سٹاف رپورٹر) کراچی مسافر طیارہ حادثہ

کراچی انٹرنیشنل ائیر پورٹ کے قریب لاہور سے آنیوالا پاکستان انٹرنیشنل

ائیرلائنز کا مسافر طیارہ گرکر تباہ ہوگیا، جس کے نتیجے میں اب تک 76 افراد

کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے- جناح ہسپتال میں 44 جبکہ سول

ہسپتال میں 31 لاشیں منتقل کی گئی ہیں۔ 5 جاں بحق افراد کی شناخت ہو گئی ہے،

جبکہ زخمی افراد سول ہسپتال اور دارالصحت میں زیرعلاج ہیں۔

——————————————————————————
یہ بھی پڑھیں : پائلٹس کی حاضر دماغی سے2مسافر طیارے حادثہ سے بچ گئے
——————————————————————————

تفصیلات کے مطابق لاہور سے کراچی آنیوالی قومی ائیرلائن ( پی آئی آے ) کی

پرواز جس میں 91 مسافر اور عملے کے 7 ارکان سوار تھے منزل مقصود پر

لینڈنگ سے کچھ ہی وقت قبل اچانک دونوں انجنوں کے فیل ہوجانے اور لینڈنگ

گیئر میں خرابی کے باعث ائیرپورٹ کے قریب واقع آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی۔

پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کا رابطہ لینڈنگ سے محض ایک منٹ پہلے ٹوٹا

پائلٹ اور کنٹرول ٹاور کا رابطہ لینڈنگ سے محض ایک منٹ پہلے ٹوٹا، جہاز

ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن کی آبادی پر گرا، عینی شاہدین نے بتایا کہ

طیارے میں آگ لگی ہوئی تھی اور انجن سے شعلے نکل رہے تھے، پائلٹ نے

ڈولتے طیارے کو اوپر اٹھانے کی کوشش بھی کی، لیکن درمیان میں ایک چار

منزلہ عمارت آ گئی، جس سے طیارے کا پچھلا حصہ بلند عمارت سے ٹکرایا تو

جہاز کا زور ٹوٹ گیا اور وہ مکانوں پر آگرا۔

پی آئی اے ائیربس نے جمعہ کے روز دوپہر 01.05 منٹ پر اُڑان بھری

جمعہ کے روز دوپہر ایک بجکر پانچ منٹ پر پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303

نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ سے تقریبا پونے دو گھنٹے کی

دوری پر کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کیلئے اڑان بھری ۔

منزل کراچی ائیرپورٹ، لینڈنگ سے چند منٹ قبل دونوں انجن فیل

91 مسافروں اور عملے کے 7 افراد کو لیکر طیارہ کراچی ائیرپورٹ کے قریب

پہنچا تو لینڈنگ کیلئے تیاری کے دوران مسافر طیارے کے دونوں انجنوں میں

اچانک آگ لگ گئی، پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیلئے ” مے ڈی” کال کی

جو لینڈنگ سے ایک منٹ پہلے تک پائلٹ اور کراچی کنٹرول ٹاور کے مابین

جاری رہی، مگر شومئی قسمت لینڈنگ سے صرف تین سیکنڈ پہلے جہاز کراچی

کی ماڈل کالونی کے علاقے جناح گارڈن میں گرکر بتاہ ہو گیا۔

آبادی پر گرنے سے کئی گھر تباہ ، گاڑیاں سامان جل کر راکھ

رہائشی علاقے میں طیارہ گرنے سے مکانوں اور گاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی،

عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارے میں آگ لگی ہوئی تھی اور اس کے انجن سے

شعلے نکل رہے تھے۔ پائلٹ نے ڈولتے ہوئے طیارے کو اوپر اٹھانے کی کوشش

بھی کی لیکن درمیان میں ایک چار منزلہ عمارت آگئی جس سے طیارے کا پچھلا

حصہ ٹکرایا تو جہاز کا زور ٹوٹ گیا اور آبادی پر آ گرا-

تنگ گلیوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا

دُم کے بل گرنے کی وجہ سے طیارے کے اگلے حصے میں بیٹھے بعض مسافر

معجزانہ بچ گئے۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، رینجرز اور ریسکیو اداروں

کی ٹیمیں امدادی آپریشن کیلئے جائے وقوعہ ماڈل کالونی پہنچیں، تنگ گلیوں کی

وجہ سے آپریشن میں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، امدادی کارروائیوں میں پاک

فوج کے 10 فائر ٹینڈرز بھی شامل رہے۔ پاک فوج کے ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کے

ذریعے علاقے کا فضائی جائزہ لیا جاتا رہا-

بلیک باکس کا اہم حصہ کوئِیک ایکسس ریکارڈر مل گیا

کوئیک ری ایکشن فورس سول انتظامیہ کیساتھ امدادی کارروائیوں میں شریک

رہی، مسافروں کے رشتے دار کبھی ائیرپورٹ تو کبھی جائے وقوع کے چکر

لگاتے رہے، اور اپنے پیاروں کو تلاش کرتے رہے۔ بدقسمت طیارے کے بلیک

باکس کا اہم حصہ کوئِیک ایکسس ریکارڈر بھی تلاش کرلیا گیا ہے، جسے سول

ایوی ایشن حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

ائیربس اے 320 طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، ترجمان پی آئی اے

ترجمان پی آئی اے کے مطابق قومی ائیرلائن کی پرواز پی کے 8303 کو لینڈنگ

کے وقت 2 بجکر 37 منٹ پرحادثہ پیش آیا، پی آئی اے کے زیر استعمال یہ ائیربس

اے 320 طیارہ زیادہ پرانا نہیں تھا، اس کی عمر 10 سے 11 سال تھی اور مکمل

مینٹین تھا، تاہم تکنیکی خرابی کے بارے میں کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

پائلٹ کی ٹریفک کنٹرول ٹاور کو ” مے ڈے مے ڈے ” کی کال

جہاز کے پائلٹ اور ٹریفک کنٹرول ٹاور کے درمیان آخری رابطے کی آڈیو

ریکارڈنگ بھی سامنے آگئی ہے، جس میں طیارے کے پائلٹ نے ایک انجن فیل

ہونے کی اطلاع دی اور “مے ڈے مے ڈے” کی کال دی، جس پر پائلٹ کو بتایا گیا

کہ طیارے کی لینڈنگ کیلئے دو رن وے دستیاب ہیں، جس کے بعد طیارے کا

رابطہ منقطع ہوگیا۔

لینڈنگ کی تیاری کے دوران انجن فیل، 51 مرد،31 خواتین، 9 بچے مسافر تھے

سول ایوی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے طیارے میں فنی خرابی پیدا ہوئی تھی اور

لینڈنگ سے پہلے اس کے پہیے نہیں کھل رہے تھے، جس پر پرواز کو راؤنڈ اپ

کا کہا گیا، لیکن اس دوران جہاز آبادی پر گر گیا۔ پی آئی اے نے حادثے کا شکار

طیارے کے مسافروں کی فہرست جاری کردی ہے جس کے مطابق مسافروں میں

51 مرد ،31 خواتین اور 9 بچے شامل تھے۔ جن میں سینئر صحافی اور چینل 24

کے پروگرامنگ ڈائریکٹر انصار نقوی، صدر بینک آف پنجاب ظفر مسعود بھی

شامل تھے۔

بینک آف پنجاب کے صدر سمیت دو مسافر معجزانہ بچ گئے

بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود تو حادثے میں معجزانہ طور پر محفوظ

رہے جبکہ سینئر صحافی انصار نقوی جاں بحق ہو گئے- طیارے کے کپتان کا نام

سجاد گل، جبکہ عملے میں عثمان اعظم ، فرید احمد، عبدالقیوم اشرف، ملک عرفان

رفیق، عاصمہ اور مدیحہ ارم شامل تھے۔ ان سب کا تعلق لاہور سے ہے، حادثے

میں 2 افراد خوش قسمتی سے بچ گئے ہیں، بچ جانے والے افراد دارالصحت اور

سول ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ( کراچی مسافر طیارہ حادثہ )

جاں بحق مسافروں کی شناخت کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ شروع

محکمہ صحت کا کہنا ہے جاں بحق افراد کی شناخت کیلئے ڈی این اے ٹیسٹ

شروع کیا جاچکا ہے، امید ہے نتائج 9 سے 10 گھنٹے میں آجائیں گے۔ طیارے میں

سوار تمام مسافروں کے ناموں کی فہرست بھی آویزاں کردی گئی۔

مکانوں کے ملبے تلے بھی 50 سے زائد لاشوں کی موجودگی کا خدشہ

طیارہ رہائشی مکانات پر گرا جس کی وجہ سے گھروں اور گلی میں کھڑی گاڑیوں

میں آگ بھڑک اٹھی۔ پائلٹ نے آبادی کو بچانے کی کوشش کی، حادثے میں پندہ

سے بیس گھر بہت زیادہ متاثر ہوئے جس کے ملبے تلے پچاس سے زائد لاشوں کی

موجودگی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے-

جاں بحق اور زخمی مسافروں کی فہرست دیکھنے کیلئے ( کلک ) کریں

بتایا جاتا ہے بینک آف پنجاب کے صدر ایک گاڑی کے اوپر گرے تھے جبکہ اسی

گاڑی میں تین لوگ پہلے سے موجود تھے جس سے وہ محفوظ رہے، جبکہ بینک

صدر اور ایک دوسرے شخص کو معجزانہ طور پر بچ جانیوالوں نے گاڑی سے

باہر نکالا۔ ( کراچی مسافر طیارہ حادثہ )

عسکری و سیاسی قیادت کا اظہار افسوس، وزیراعظم کا تحقیقات کا حکم

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف، دیگر

عسکری اور سیاسی قیادت نے مسافر طیارے کے حادثے کے نتیجے میں قیمتی

جانی نقصان پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاں بحق افراد کے درجات

کی بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل جبکہ زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا

کی ہے- وزیراعظم عمران خان نے طیارہ حادثے کی فوری تحقیقات کا بھی حکم

دیدیا ہے- ( کراچی مسافر طیارہ حادثہ )

طیارے کے کپتان کی کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو

بدقسمت طیارے کے کپتان کنٹرول ٹاور سے آخری گفتگو میں یہ کہتے سُنے گئے

ہیں کہ 8303 کے انجن نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے، ہم بائیں جانب مڑ رہے ہیں،

ہمیں لینڈنگ کیلئے گائیڈ کیا جائے، اس کے جواب میں کنٹرول ٹاور کپتان سے کہتا

ہے آپ لینڈ کر سکتے ہیں، مختصر وقفے کے بعد جہاز کا کپتان تین بار ” مے ڈے

مے ڈے مے ڈے” کی کال دیتا ہے اور کنٹرول ٹاور سے پوچھتا ہے کیا ہم لینڈ کر

سکتے ہیں؟ ( کراچی مسافر طیارہ حادثہ )

نمبر 25 اور دوسری رو لینڈنگ کیلئے خالی ہے ، کنٹرول ٹاور کا جواب

کنٹرول ٹاور سے جواب آتا ہے، نمبر 25 اور دوسری لینڈنگ رو جہاز کی لینڈنگ

کیلئے خالی ہیں، آپ جہاز کو لینڈ کر سکتے ہیں، اس کے بعد بدقسمت طیارے کا

کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہو گیا اور پی آئی اے کا طیارہ ایئر پورٹ کے

قریب ماڈل کالونی میں گر کر تباہ ہو گیا۔

کراچی مسافر طیارہ حادثہ

Leave a Reply