کالے کوٹ کی تضحیک برداشت نہیں،پی آئی سی معاملے پر جوڈیشل کمیشن ،48گھنٹوں میں وکلا ء کو رہا کیاجائے،وکلا ءکنونشن

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)وکلاء نے جنر ل (ر) پرویز مشرف کیخلاف خصوصی عدالت کے فیصلے

کی حمایت کا اعلان کردیا۔اس سلسلے میں آل پاکستان وکلاء کنونشن کااعلامیہ جاری کردیاگیاہے ،جس

میں اٹارنی جنرل پاکستان سمیت خصوصی عدالت کے فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت بھی

کی گئی ہے ،کنونشن میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے اپنا بیان واپس لینے کامطالبہ بھی کیا گیا،وکلاء

نے پی آئی سی کے معاملہ پر سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل کمشن بنانے کا مطالبہ کرتے

ہوئے اس معاملے پر کوتاہی کے مرتکب حکومت کے افسروں کے خلاف کارروائی جبکہ واقعہ میں

ملوث ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی گرفتاریوں کا مطالبہ بھی کیاہے ۔اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ

وکلاء کو تقسیم کرنے کی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی،اس سازش کو بے نقاب کیا جائے ،

کنونشن میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کہا گیاہے کہ آمریت کے خلاف وکلاء متحد ہیں اور

وہ خصوصی عدالت کے فیصلے سے یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں،وکلاء کنونش میں پنجاب بارکونسل

کے وائس چیئرمین شاہ نواز اسماعیل گجر نے اعلان کیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار ،وزیرقانون
راجہ بشارت اور فیاض الحسن چوہان کی وکالت کے لائسنس معطل کردیئے گئے ۔آل پاکستان

وکلاء کنونشن کا اہتمام پنجاب بارکونسل نے کیاتھا، کنونشن سے پاکستان بار کونسل کے وائس

چیئرمین سید امجد شاہ ،سینئر وکیل رہنما علی احمد کرد ،لاہور بار کے صدرعاصم چیمہ ،راولپنڈی بار

کے صدرجاوید ہاشمی ،وائس چیرمین پنجاب بار کونسل چودھری شاہ نواز گجر،پنجاب بارکونسل کے

رکن ممتاز مصطفی ،سابق صدر لاہور ہائی کورٹ شفقت محمود چوہان اورپنجاب بارکونسل کے رکن

منیر بھٹی سمیت متعدد وکلاء راہنمائوںنے خطاب کیا۔پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سیدامجد

شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پرویزمشرف کے ساتھ بہت پرانا حساب تھا،مشرف کے ہاتھ ہمارے

خون سے رنگے ہوئے ہیں،ہاتھوں کے مکے بنا کر کہتا تھا کہ میں نے وکیلوں کو سبق سکھایا،اس

فیصلے نے ملکی تاریخ رقم کی ہے،ہم مسٹر جسٹس سیٹھ وقار جیسے بہادر ججوںکیساتھ کھڑے ہیں،ہم

ان ججوںکیساتھ ہیں جو آئین کیساتھ چلتے ہیں ،فیصلہ آنے کے بعد ڈی جی آئی ایس پی آرکا بیان

افسوسناک ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے لگا جیسے پورا ادارہ مجرم ہو گیاہے،فوج ہمارا

ادارہ ہے، اس کی عزت کو قائم رکھنا ہماری ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری آپ پر عائد ہوتی ہے ،آپ

کے بیان کو عالمی سطح پر دیکھا گیا،ہم توقع کرتے ہیں وہ اس بیان کو واپس لیں گے،انہوںنے کہا کہ

پی آئی سی واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے، پی آئی سی واقعہ ایک سوچی سمجھی سازش

تھی اور میڈیا اس میں استعمال ہوا،کالے کوٹ نے ہمیشہ آزاد عدلیہ، آئین کی حکمرانی اور بالا

دستی کی بات کی، کچھ طاقتیں آئین کی حکمرانی نہیں چاہتیں،وہ کالے کوٹ کو بدنام کررہی

ہیں،انہوںنے کہا کہ ہائیکورٹ کے ججوں سے گزارش ہے کہ وہ میڈیا کی خبروں پر ریمارکس نہ

دیں،انہوںنے کہا اشتعال انگیز ویڈیو کو بنانے اور وائرل کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کی جائے، اس

واقعہ کے اصل محرکات جاننے کیلئے سپریم کورٹ کے جج ہر مشتمل انکوائری کمشن بنایا

جائے،پورے پاکستان کے وکلا ء متحد ہیں اور ڈکٹیٹر شپ کے خلاف کھڑے تھے اور کھڑے رہیں

گے،علی احمد کرد نے کہا کہ ہم وکیل ہر اس شخص کے ساتھ ہیں جو غریب ہے،ہم وکلا ء ایک ہیں،

ہم ایک آواز اورایک گونج ہیں، ہم صرف سانسیں لینے کیلئے زندہ نہیں بلکہ اس ملک کی سالمیت

کیلئے زندہ ہے،آج ہمیں ایک دہشت گرد کے طور ہر پیش کیا جا رہا ہے، جن عدالتوں سے ہم انصاف

لے کر دیتے ہیں اس، میں ہمیں کالا نقاب لگا کر پیش کیا جا رہا ہے،آج پھر ایک تحریک شروع کرنا

ہو گی اوردھرنہ ہو گا، دھرنہ ہوگاکا نعرہ بلند کرنا ہوگا،یادہے ہم اسلام آباد پہنچے نہیں تھے کہ ججوں

کی بحالی کے ٹیلی فون آگئے تھے،کہا گیا سب کچھ آپ کی منشا کے مطابق ہوگا،اس وقت ایک شخص

کی عزت پر ہاتھ ڈالا گیا ،آج ایک شخص نہیں بلکہ سارے وکیلوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا گیاہے،آج

صرف ایک آواز لگے گی اورپھر سب کچھ ہماری مرضی سے ہوگا،وزیر داخلہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ

سمندر سے سوئی بھی ڈھونڈ نکالتا ہے،اسے وہ ویڈیو وائرل ہوتی نظر نہیں آئی جس نے وکلا ء کی

تضحیک کی گئی، جب تک ہمارا آخری ساتھی آزاد نہیں ہوجاتا،ہڑتال جاری رہے گی،صرف 48

گھنٹے کا وقت دے رہاہوں، ہمارے ساتھیوں کو رہا کرو،آپ نے بے گناہ افراد کو حراست میں لیا،کالا

کوٹ اور کالا ٹائی اس ملک میں روشنی کا مینار ہیں۔لاہور بار کے صدر عاصم چیمہ نے اپنے خطاب

میں کہا کہ جو میڈیا نے بتایا حالات بالکل ایسے نہیں تھے، پی آئی سی میں جو توڑ پھوڑ ہوئی وہ

وکلاء نے نہیں بلکہ ڈاکٹروں نے کی ہے، ٹھیک ہے وہ جگہ صحیح نہیں تھی مگر وکلاء کو پی آئی

سی کے اندر مارا گیا، پولیس نے وکلاء کے ساتھ زیادتی کی، ہمارے گرفتار دوست وکیل رہا نہیں

ہوتے تو پھر اعلان جنگ ہو گا، صدر راولپنڈی بار جاوید ہاشمی نے کہا کہ ہمارا عشق کا رشتہ ہے

،اس قبیلے سے جہاں کٹے ہوئے سر سلام کرتے ہیں، ہم سے مت ٹکرائو اورتاریخ سے سبق حاصل

کرو، کالے کوٹ کے تقدس کے لئے جان کے نذرانے پیش کریں گے، ہماری کردار کشی کی جا رہی

ہے،عدلیہ آزادی کی تحریک یاد نہیں؟ ہم کسی کے آلہ کار نہیں بنتے،ہم اس پروفیشن کے تقدس کے

لئے لڑ رہے ہیں،وائس چیئرمین پنجاب بارکونسل شاہنواز اسماعیل گجرنے کنونشن سے خطاب کرتے

ہوئے کہا کہ پنجاب بارکونسل نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار، وزیرقانون پنجاب راجہ بشارت

اورفیاض الحسن چوہان کی وکالت کے لائسنس معطل کردیئے ہیں،وزیراعلی پنجاب کے منصب پر

بیٹھا شخص بھی وکیل ہے،وزیراعلیٰ پنجاب کی غیرت نے کیسے وکلاء پرتشددگواراکرلیا،واقعہ کے

محرک ڈاکٹر عرفان کوفوری گرفتارکیا جائے،اصل محرکات کے لئے سپریم کورٹ کے سینئیرجج

پرمشتمل جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے،ہائیکورٹ کے کسی جج کی کمیشن کے طور پر سربراہی

کوتسلیم نہیں کریں گے ،میڈیا سچ اور حقائق بتائے اوریکطرفہ رپورٹنگ نہ کرے،ہم خبردار کرتے

ہیںایک ایسی تحریک شروع ہوگی جو حکومت کے نکمے لوگوں کوبہاکرلے جائے گی ،پی آئی سی

واقعہ کے پس منظر ،پیش منظر اور محرکات کو دیکھنا ہوگا، حکومت وقت نے اس واقع پر اپنی رٹ

کیوں نہیں قائم کی، اس ڈاکٹر کو کیوں نہیں گرفتار کیا جس نے تضحیک آمیزویڈیو وائرل کی،میرے

نہتے بہن بھائی وکیلوں کو گرفتار کیا گیا، یہ کالا کوٹ آئین کی حکمرانی کی نشانی ہے،انہوںنے لاہور

ہائی کورٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان کے لئے قربانیاں دیں لیکن جب بھی ہمیں ضرورت

پڑی انہوں نے غداری کی،ہم کسی کے پیروکار نہیں بنیں گے،کالا کوٹ ججوں نے بھی پہن رکھا ہے

اورایک دن انہوںنے ہم میںواپس آناہے،پنجاب بارکونسل کے رکن ممتاز مصطفی نے وکلاء کنونشن

سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے وکلاء کو دل و جان سے سلام کرتا ہوں،پاکستان کی انتظامیہ

کو پیغام دیتا ہوں جب لاہور اٹھتا ہے تو پورا پاکستان اٹھتا ہے، اپنی قیادت سے کہہ رہا تھا کہ وکلاء اٹھ

کھڑے ہوئے ہیں، اب انہیں ڈی چوک پر بلائو، اب ہمیں اسلام آباد بلائو، انہوںنے ڈاکٹر زکو مخاطب

کرتے ہوئے شعر پڑھاکہ ۔۔۔اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر ۔۔۔حالات کی قبروں کے کتبے

بھی پڑھا کر ۔۔۔۔انہوںنے مزیدکہا ہمیں علم ہے کہ اس کہانی کے پیچھے کئی کہانیاں ہیں، یہ ڈاکٹر جن

دنوں ہڑتال پر ہوتے ہیں ان دنوں اموات کم ہوتی ہیں، یہ جب آپریشن کرتے ہیں تو قینچیاں پیٹ کے

اندر بھول جاتے ہیں، ملٹی نیشنل دوائیوں کی کمپنیوں کی رشوت چل رہی ہوتومیڈیا بھی ہمارے خلاف

چلتاہے سابق صدر ہائیکورٹ بار شفقت محمود چوہان نے کہا کہ ہم تو قانون کی حکمرانی کے لئے

لڑنے والے ہیں، ہم میں سے کوئی بھی نہیں سوچ سکتا کہ کسی ہسپتال پر حملہ کرے، ہمیں اپنی

صفوں کا خیال رکھنا چاہئے، نوجوان وکلاء ہمارا اثاثہ ہیں، طبقوں کولڑایا جارہاہے ،یہ سازش کسی

صورت کامیاب نہیں ہو گی، ڈاکٹرز ہمارے بھائی ہیں، ہم کسی طبقے کے ساتھ نہیں لڑنا چاہتے، کس

نے یہ ارینج کیا کہ وکلاء یہ پتھرائو کیا جائے، ہمیں اس سازش میں پھنسایا گیا ہے، میں قسم دیتا ہوں

کوئی بھی وکیل ہسپتال پر حملہ نہیں کر سکتا، یہ وکلاء کی طاقت کو تار تار کرنے کے لئے سازش

کی گئی ،اگر ضرورت پڑی تو ہم قیادت گرفتاری دیں گے،ہم نوجوان وکلاء کو گرفتار نہیں کرنے دیں

گے۔پنجاب بارکونسل کے رکن منیر بھٹی نے کہا کہ اعتزاز احسن نے دھرتی ہوگی ماں کے جیسی کا

نعرہ لگا کر وکلاء کا سودا کیا،انہوںنے اعترازاحسن پر الزام لگایا کہ انہوںنے سکھ حریت پسندوں کی

فہرست بھارت کو دی ،انہوںنے اعتزاز احسن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

وکلاء کنونشن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply