کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے تین وفاقی وزراء کو برطرف کیا جائے، بلاول بھٹو

Spread the love

کراچی(جے ٹی این آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری

نے کہا ہے اپوزیشن کے خلاف بولنے والے وزیراعظم مودی اور کالعدم تنظیموں

کے خلاف ایک لفظ نہیں بولتے، کالعدم تنظیموں کے ہمدردر وفاقی کابینہ میں

موجود ہیں، تین وفاقی وزرا کے کلعدم تنظیموں سے تعلقات رہے ہیں انہیں

برطرف کیا جائے انتخابی مہم کے دوران کالعدم تنظیم کے رہنما وزیرخزانہ کے

ساتھ رہے چیئرمین نیب اپنے افسران کے خلاف ایکشن لیں ورنہ ہم ایکشن لیں

گے،مشرف کے بنائے گئے ادارے نے سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو

اسلام آباد سے گرفتار کیا،اس کی مذمت کرتے ہیں،آغا سراج درانی کی گرفتاری

سندھ اسمبلی پر حملہ ہے ،ان کے گھر والوں کو یرغمال بناکر بدتمیزی کی گئی،

چیئرمین نیب نے اس واقعے پر کوئی ایکشن نہیں لیا، نیب کو پولیٹیکل انجینئرنگ

کیلئے بنایا گیا، اگر کسی فرشتے کو بھی چیئرمین نیب بنادیں یہ سیاسی انجینیرنگ

کا کام ہوگا ، جعلی اکا ئونٹس جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی کو شامل کرکے اسے

سیاست زدہ کردیا گیا،جعلی اکا ئو نٹ کیس کو راولپنڈی شفٹ کرنا خلاف قانون

ہے، پیپلزپارٹی نظریاتی پارٹی ہے، ہم اٹھارویں ترمیم، جمہوریت پر کوئی

سمجھوتا نہیں کریں گے،حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرکے کالعدم تنظیموں

کے خلاف ایکشن لے،بدھ کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے انکا مزید کہنا تھا کہ

سپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی سے ملاقات کی ہے، میں سندھ اسمبلی کو یقین

دلانے آیا ہوں ہم سپیکر آفس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جمہوریت میں قانون کی

حکمرانی ہوتی ہے۔ نیب کالا قانون ہےاس لئے میثاق جمہوریت میں اس کو ختم

کرنے کا کہا گیا۔ مجھے سیاسی جوڑ توڑ کرنے کیلئے اس مقدمے میں گھسیٹا

جارہا ہے۔ اس سے عدالتی نظام پر سوالات ٹھتے ہیں۔ انصاف ہونا چاہیے اور نظر

آنا چاہیے۔ ہم پاکستان میں مضبوط عدلیہ دیکھنا چاہتے ہیں اس کیلئے جدوجہد

کرنے کیلئے تیار ہیں۔ امید ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے جمہوریت کے حق

میں ہوں گے۔ تین بار کا منتخب وزیراعظم جیل میں ہے لیکن کالعدم تنظیموں کے

رہنما گرفتار نہیں کئے جا سکتے۔ ہمارا مطالبہ ہے نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرو

اور ملک کو بچائو۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں پر مشتمل نیشنل سیکیورٹی کمیٹی

بنائے جانے اور پی ٹی آئی کالعدم تنظیموں سے دوری اختیار کرے۔ کسی کی

تیمار داری کو غلط مطلب نہیں دینا چاہیے،انسانیت سیاست سے بالاتر ہے، پہلے

انسان بنو،پھر سیاستدان۔ انہوں نے کہا کہ کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب بزرگ عمران

خان گر کراپنی کمرتڑوابیٹھے تھے تو نواز شریف ان کی عیادت کرنے گئے تھے۔

Leave a Reply