Halat e Hazra,Current Affair

کالے کوٹ کی سیفد کوٹ پر بالادستی کی جنگ اور عوام

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(تجزیہ:— جے ٹی این آن لائن نیٹ ورک) کالا اور سفید کورٹ

پاکستانی قوم ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے اپنی اصل شکل میں سامنے آگئی اور بتا دیا ہم بطور قوم ایک اجڈ جنگجو نفرت کی

آگ میں کھولتے بے رحم لوگ ہیں، افسوس اس معاشرے کی تباہی میں کسی ان پڑھ کا حصہ نہ اس نے اتنا نقصان پہنچایا، اسے ہمیشہ

پڑھے لکھے جاہلوں نے تباہی سے دو چار کیا- مزید پڑھیں

CARTOON

افسوس معاشرہ اس مقام تک پڑھے لکھے جاہلوں نے پہنچا دیا

وکیل ڈآکٹر پولیس اور صوبہ پنجاب کی انتظامیہ سب نے بتا دیا ہماری اخلاقی تربیت ہوئی ہی نہیں۔ پوری دنیا نے ایک بار دیکھا ہمیں

کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہم خود اپنی تباہی کے ذمہ دار ہیں، افسوس تو وزیر اعلی بزدار پر بھی ہے جن میں فیصلہ کرنے کی

قوت اور صلاحیت نہیں ورنہ یہ کیسے ممکن ہے چند سو جنونی کالے کوٹ والے جب دل کے مریضوں کی زندگیوں سے کھیل رہے

تھے اور پولیس کھڑی تماشہ دیکھ رہی تھی-وہ بے چارے تو اس صورتحال پر بات کرنے کیلیے بھی اتالیق سے الفاظ سیکھ رہے

ہونگے-

ہم نے ثابت کر دیا ہم خود ہی اپنی تباہی کے خواہاں ہیں

سوال تو ان والدین سے بھی بنتا ہے جن کی یہ اولادیں ہیں وہ وکلاء ہوں یا ڈاکٹر کیا یہ کسی معاشرے کسی گھرانے سے منسلک نہیں

ہیں؟ کیا ان لوگوں کے ماں باپ بہنیں اور بیٹیاں نہیں؟، کیا ان کو کسی نے نہیں بتایا رحم کیا چیز ہوتی ہے؟،ایسا لگتا ہے ہم ایک جنگل

میں رہتے ہیں۔ جہاں صرف اور صرف طاقتور کا راج ہے- وہ چاہے سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو سانحہ ساہیوال ہو، انگور اڈا ہو، سیالکوٹ میں

دو بھائیوں کا سر عام قتل ہو، مذہب کے نام پر زندہ جلانے کے واقعات ہوں، یہ معاشرہ گل سڑ چکا ہے اسکی قیادت نفرت اور بدلے

کی آگ میں جلتی کند ذہن اور بونے قد کی ہے-

ہم ایسے جنگل میں رہ رہے ہیں، جہاں صرف طاقتور کا راج ہے

پورا معاشرہ بدبو دار ہوچکا، افسوس اس قوم کا دانشور پیسے کی چکا چوند میں بک چکا، اسکا عالم معاشرے کو فرقوں میں بانٹ

چکا، اسکی لیڈر شپ جھوٹے خوابوں اور ایک دوسرے سے نفرت میں گھر چکی- وزیراعظم نے سانحہ پی اے سی کی فوری رپورٹ

تو طلب کرلی ہےلیکن بتائوں ہوگا کچھ بھی نہیں ۔کچھ دنوں بعد سب بھول جائے گا۔ اس معاشرے میں قانون صرف کمزور کیلیے سزا

ہے اور کالے کوٹ والے تو ہیں بھی انصاف کے ٹھیکیدار۔ یہ بھی پڑھیں

وکلا کی بے حسی، پولیس کی بزدلی، وزرا کی لاپروائی سے پاکستان دنیا بھر میں رسوا

پاکستان کی تاریخ میں 11دسمبر 2019 برو بدھ شائد بلیک ڈے سے بھی کوئی زیادہ برا دن سمجھا جائے گا۔ وکلا کی بے حسی، پولیس

کی بزدلی جبکہ صحت اور قانون کے وزرا کی لا پروائی نے پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کر دیا۔ ۔وکلا دو گھنٹے تک لاہور کی

مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے سیشن کورٹس، ایوان عدل اور مختلف کچہریوں سے بڑے گروپوں کی صورت میں پنجاب انسٹیٹیوٹ

آف کارڈیالوجی پہنچے مگر لاہور پولیس انہیں روکنے کی بجائے خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی۔ وکلا کئی دنوں سے

کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ پر حملے اور ڈاکٹروں سے نمٹنے کی دھمکیاں دے رہے تھے مگر پولیس کے انٹیلیجنس نظام کو شائد کوئی

اطلاع ہی نہیں تھی- محسوس ہو رہا تھا پولیس میں مظاہرین کو روکنے کی سکت اور حوصلہ ہی نہیں تھا۔ اگر پولیس کا کام صرف

خاموش تماشائی بننا ہے تو وہ ضرور پورا ہوا۔ البتہ پولیس نے وکلا کو منتشر کرنے کیلئے ہسپتال میں آنسو گیس پھینک دی جس کا

نقصان مظاہرین کو کم مریضوں کو زیادہ ہوا۔ مزید جانیئے

کیا ایسا کرتے دل کانپا نہ ہاتھ لرزا………؟

اس پر ظلم یہ کہ کالے کوٹ والوں نے دل کے ہسپتال ہر حملے کے بعد کامیابی کا جشن منایا جو بے حسی کی انتہا تھی۔ کسی مہذب

معاشرے میں ہسپتال کے اندر تو کیا قریب قریب بھی ہارن تک نہین بجایا جاتا مگر یہاں تو وکلا نے ہسپتال پر حملہ کیا، قبضہ کیا اور

بڑھکیں مارتے رہے جیسے یہ کوئی دشمن ملک ہے۔ آخری بات وکلا سے، کیا انکے دل کانپے تھے؟ کیا ان کے ہاتھ میں لرزش ہوئی

تھی؟

کالا اور سفید کورٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply