کابینہ نے کرونا ریلیف فنڈز کیلئے1200 ارب روپے کے پیکیج کی باضابطہ منظوری دیدی

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد(جنرل رپورٹر) وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ریلیف پیکیج کی منظوری دے دی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں آٹے سمیت اشیاء خورونوش کی قلت نہیں ہونی چاہیے اور قیمتوں پر بھی نظر رکھی جائے۔کابینہ اجلاس میں کورونا وائرس کے باعث ملک کی مجموعی صورت حال کا جائزہ لیا گیا جبکہ کابینہ کو بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں آٹے سمیت اشیاء￿ خورونوش کی قلت نہیں ہونی چاہیے اور قیمتوں پر بھی نظر رکھی جائے۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ ملک کے تمام صوبوں سے کرونا سے متاثرہ مریضوں، ہسپتالوں میں سہولیات، ٹیسٹنگ کٹس، وینٹی لیٹرز کی دستیابی وغیرہ سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے کا عمل مزید منظم کیا جائے اور اس سلسلے میں کورآڈینیشن کو مزید مستحکم بنایا جائے،ضلعی انتظامیہ، سیاسی قیادت اور رضا کاروں کے مربوط نیٹ ورک کے قیام کا مقصد ملک کے طول و عرض میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے، ریلیف کی فراہمی مکمل میرٹ پر یقینی بنائی جائے گی اور اس ضمن میں کسی قسم کی تفریق یا امتیازی سلوک کی شکایت برداشت نہیں جائے گی ۔ذرائع کے مطابق وزیر مراد سعید اور فیصل واوڈا نے کہا کہ کرونا کے حوالے سے وزیراعظم کے بر وقت اقدامات کو نمایاں انداز میں پیش نہیں کیا جا سکا۔

وزیراعظم نے ایکسپورٹرز کا مال روکے جانے کی اطلاعات کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ گڈزٹرانسپورٹ سمیت ایکسپورٹرز کا مال نہیں روکا جانا چاہئے، متعلقہ وزرات اور حکام معاملے کودیکھیں۔کابینہ ارکان نے ٹرانسپورٹرز کے لئے مخصوص ڈھابہ ہوٹلز کھولے جانے کی بھی تجویز دی۔بعدازاں حماد اظہر اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران اسد عمر نے کہا کہ کرونا کا مسئلہ وفاقی حکومت یا کسی خاص صوبائی حکومت کا مسئلہ نہیں ، یہ کسی ایک ملک کا بھی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی مسئلہ ہے تو تمام فیصلے مل کر اور مربوط طریقے سے کرنے کے لیے قومی رابطہ کمیٹی قائم کی گئی تھی جس کے 5اجلاس ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی رابطہ کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ آپریشنل سطح پر تعاون بڑھانے کے لیے آپس میں ہم آہنگی کو بہتر کیا جائے تاکہ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے مربوط طریقے سے کام کیا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے نیشنل کمانڈ سینٹر قائم کیا گیا ہے جس میں منعقدہ اجلاس میں وفاق کے ساتھ صوبوں کے نمائندے بھی شریک ہوئے، سینٹر کا مقصد صوبوں کی آواز وفاق تک پہنچانا اور وفاق کے فیصلوں پر صوبوں کے ذریعے عمل درآمد کرانا ہے، اس میں عسکری ادارے بھی شامل ہیں اور لیفٹیننٹ جنرل حمود الزمان کو سینٹر کے آپریشنز کا سربراہ بنایا گیا ہے۔اسد عمر نے کہا کہ ‘موجودہ صورتحال میں عالمی قیادت کو جو فیصلے کرنے ہیں وہ یہ کیسے توازن پیدا کیا جائے، ایک طرف آپ کو بیماری کو پھیلنے سے روکنا ہے اور دوسرا یہ اس سے کہیں ایسی صورتحال نہ پیدا ہو کہ لوگوں پر معاشی دبائو بڑھے اور معاشرے میں بھوک اور افلاس پھیل جائے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں اس پر بھی ہوئی کہ وہ شہری جو کورونا وائرس کا شکار ہوجاتے ہیں ہم نے وہ ماحول نہیں بنانا جس سے وہ معاشرے کے مجرم لگیں، یہ اخلاقی طور پر غلط بات ہے دوسرا اس سے یہ خطرہ بھی پیدا ہورہا ہے کہ لوگ پھر بتائیں گے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف صوبوں نے مختلف نوعیت کی بندشیں لگائی ہیں، قومی رابطہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں بات چیت کے ذریعے کوشش کریں گے اس حوالے سے ایک مربوط اعلان ہو اور امید ہے کہ واضح حکمت عملی کا اعلان کردیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت بڑھانا بھی ضروری ہے، 13مارچ کو ہمارے پاس 30ہزار لوگوں کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود تھی وہ صلاحیت کل بڑھ کر 2 لاکھ 80 ہوجائے گی اور امید ہے کہ 15 اپریل تک ہمارے پاس 9 لاکھ ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہوگی۔وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے وفاقی کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ‘چند روز قبل حکومت نے معاشی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا، گزشتہ روز اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پیکیج کی منظوری دی تھی، آج کابینہ نے بھی اس پیکیج کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پیکیج میں دیہاڑی دار مزدوروں کے 200 ارب روپے رکھے گئے ہیں، صنعتوں کے قرضوں کے سود کی ادائیگیوں کے لیے 6 ماہ کی تاخیر کے انتظامات کیے گئے ہیں، مستحق افراد کی تعداد بڑھانے کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں،

یوٹیلیٹی اسٹورز کے لیے 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں، گندم کی خریداری کے لیے ریکارڈ 280 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی اور بجلی و گیس کے بلوں کی ادائیگی میں تاخیر کے لیے بندوبست کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آج کل لاک ڈان کی صورتحال میں ہے، اس معاشی ریلیف پیکیج کے ذریعے ہم نے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہماری روز مرہ کی اشیا کی پیداوار اور ترسیل کو یقینی بنایا جائے۔اس موقع پر معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘چند ہسپتالوں میں جس طرح کرونا کے مریضوں سے برتا ئوکیا جارہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے جیسے وہ مجرم ہوں، اس کا نقصان یہ ہوگا کہ لوگ خوفزہ ہوجائیں گے اور سامنے نہیں آئیں گے۔

ظفر مرزا نے ایک بار پھر شہریوں پر زور دیا کہ وہ سماجی فاصلے سے متعلق ہدایات پر عمل کریں تاکہ ملک میں وائرس کے پھیلا ئوکو محدود کیا جاسکے۔علاوہ ازیںوفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈٰیا کو بریفنگ میں معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے اپوزیشن لیڈر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کرونا وائرس کی آڑ میں گند کھیل شروع کر دیا ۔فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے والے عوام دوست نہیں ہو سکتے۔ پوزیشن لیڈر اپنے آپ کوزندہ رکھنے کے لیے تنقید کرتے ہیں۔ وہ اپنی کرونا زدہ سوچ سے اجتناب کریں۔ان کا کہنا تھا کہ عوام گندے سیاسی کھیل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ اپوزیشن لیڈر کا منفی رویہ ہماری کوششوں کو کمزور کر رہا ہے۔ شہباز شریف اپنے آپ کو قرنطینہ کریں، مثبت تجاویز دیں تو عمل کریں گے۔

بغض، عناد اور ہٹ دھرمی کی عینک اتار کر حقائق بیان کریں۔ وہ پنجاب میں دودھ کی نہریں نہیں چھوڑ کر گئے تھے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو مشورہ دیا کہ وہ کورونا ریلیف فنڈ میں اپنے اثاثوں سے کچھ رقم عطیہ کرکے عوام دوست ہونے کا ثبوت دیں۔معاون خصوصی نے کہاکہ ملک اس وقت ایمرجنسی کی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ہم نے حق داروں تک ان کا حق پہنچانا ہے۔۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں چاروں صوبوں میں گڈزٹرانسپورٹ کھولنے کا فیصلہ ہوا۔ سندھ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومسائل کا سامنا ہے۔ وزیراعظم نے رینجرز کو سندھ میں گڈز ٹرانسپورٹ کے مسائل کو حل کرنے کی خصوصی ہدایت کی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply