کابل 20 سال بعد پھر طالبان کا، اشرف غنی کئی حکومتی عہدیداروں سمیت فرار

کابل 20 سال بعد پھر طالبان کا، اشرف غنی کئی حکومتی عہدیداروں سمیت فرار

Spread the love

کابل (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) کابل 20 سال بعد

طالبان نے کابل پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا، افغان صدر اشرف غنی، مشیر

سلامتی کونسل حمد اللہ محب اور صدارتی دفتر کے ڈائریکٹر جنرل فضل فضلی

تاجکستان فرار ہو گئے جہاں سے وہ بعد ازاں اومان چلے گئے، طالبان نے

صدارتی محل پر بھی کنٹرول سنبھال لیا، جبکہ ملک میں عبوری حکومت کے قیام

کیلئے تین رکنی رابطہ کونسل جس میں عبداللہ عبداللہ، حامد کرزائی اور گلبدین

حکمت یار شامل تھے کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی جسے طالبان نے یہ

کہہ کر مسترد کر دیا کہ وہ اقتدار پر مکمل قبضہ چاہتے ہیں، دوسری طرف اشرف

غنی حکومت کے متعین افسروں اور اہلکاروں نے سرکاری دفاتر خالی کر دیئے،

پولیس اپنے دفاتر اور ٹریفک پولیس سڑکیں خالی چھوڑ کر غائب ہو گئی، نقص

امن کے خدشہ کے پیش نظر طالبان نے اپنے جنگجوﺅں کو دارالحکومت میں داخل

ہونے اور امن و امان کی صورتحال کنٹرول کرنے کیلئے ڈیوٹیاں تفویض کردیں-

افغان وزیر دفاع بسم اللہ خان بھی فرار ہوکر دوبئی پہنچ گئے-

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ تریں خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

امریکہ نے کابل میں اپنا سفارتخانہ بند کر کے مشن متحدہ عرب امارات منتقل کر

دیا ہے جبکہ تمام سفارتی عملے کو بھی ایئرپورٹ منتقل کر دیا گیا، جہاں سے

اسے امریکہ منتقل کیا جائے گا، پاکستان روس اور ترکی نے کابل میں اپنے اپنے

سفارتی عملے کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کر دی ہے، جرمنی اور برطانیہ نے

بھی اپنے شہریوں اور سفارتکاروں کو نکالنے کیلئے طیارے کابل بھیج دیئے،

ادھر روس نے افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلا متی کونسل کا

اجلاس بلانے کیلئے پاکستان سے مشاورت کی جس کی تفصیلات کا انتظار ہے۔

افغان وزارت داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کابل میں داخل ہو گئے ہیں-

طالبان کی پیش قدمی کے پیش نظرشہریوں میں شدید خوف و ہراس کی لہر پھیل

گئی، کابل ائیرپورٹ پر رش، اطراف میں گاڑیوں کی قطاریں ہیں جبکہ ائیرپرٹ پر

بیرون ملک جانے کیلئے ٹکٹیں نایاب ہو گئیں، مسافر شدید پریشانی کا شکار ہیں-

=-،-= طالبان کے 313 بدر یونٹ نے کابل کا کنٹرول سنبھال لیا

طالبان کے 313 بدر یونٹ نے کابل کا کنٹرول سنبھال لیا۔ خصوصی یونٹ کو

صدارتی محل کی سکیورٹی پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ نظم و ضبط کو برقرار

رکھنے کے شہر کے دیگر حصوں میں بھی تعیناتی جاری ہے۔ طالبان ترجمان ذبیح

اللہ مجاہد نے بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے افغانستان کے تمام بارڈرز

کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ طالبان کی طرف سے کہا گیا کہ کسی سے انتقام لینے

کا ارادہ نہیں کابل میں عام معافی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ

ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر چکے ہیں، ان کو خوش

آمدید کہیں گے جو بدعنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی

مدد کی، ان کیلئے بھی دروازے کھلے ہیں۔

=-،-= طالبان کے کابل داخلے کے وقت شہریوں میں خوف پھر سب نارمل

یہ امر قابل ذکر ہے کہ طالبان کو دارالحکومت میں داخلے کے دوران قابل ذکر

مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، جنگجووں کی آمد کی اطلاعات پر افغان شہریوں

میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی، امریکی اور برطانوی سفارتی عملے کا کابل

سے انخلا کا عمل جاری ہے، دیگر ممالک کی جانب سے بھی افغانستان سے

شہریوں کی واپسی کیلئے اقدامات کئے گئے ہیں جبکہ روس نے کابل سے اپنے

سفارتی عملے کو واپس نہ بلانے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان روسی دفترخارجہ کا

کہنا ہے کہ کابل میں ماسکو کے سفیر سے رابطے میں ہیں، سفارتی عملے کی

واپسی کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان

جنگجوؤں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ سفارتی عملے کو نقصان پہنچنے کی

صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔ مستقبل میں بھی طالبان سے نمٹنے کے لئے

نگرانی جاری رکھی جائے گی۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان میں موجود

امریکیوں کے محفوظ انخلا کے لیے مزید ایک ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کی

اجازت دے دی جس کے بعد محفوظ انخلا کے لیے مقرر کردہ امریکی فوجیوں کی

تعداد 5 ہزار ہوجائے گی۔

=-،-= آئیں سب ملکر افغانستان کی خدمت کریں، طالبان کی دعوتِ عام

ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ سب کو دعوت دیتے ہیں، آئیں مل کر

افغانستان کی خدمت کریں، ہم افغان اور دیگر لوگوں کیلئے عام معافی کا اعلان کر

چکے ہیں، اپنے بیان میں ترجمان طالبان نے کہا کہ ان کو خوش آمدید کہیں گے جو

بدعنوان کابل انتظامیہ کیخلاف ہیں، جنہوں نے دخل اندازوں کی مدد کی، ان کیلئے

بھی دروازے کھلے ہیں جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں

چاہتے، کسی سے انتقام لینے کا ارادہ نہیں۔ دوسری جانب بگرام ایئر فیلڈ پر بھی

طالبان نے مکمل قبضے کا اعلان کیا ہے جبکہ ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اپنے بیان

میں کہا ہے کہ تمام قیدیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکہ کے

سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ طالبان کو بتادیا ہے کہ امریکی

فوجیوں پر حملہ ہوا تو فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ امریکی سیکریٹری خارجہ

انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ کابل میں موجود سفارتی عملے کے تحفظ کو یقینی

بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انتھونی بلنکن نے واضح طور پر کہا ہے کہ

افغانستان میں رہنے میں اب امریکہ کا کوئی مفاد نہیں ہے۔ کابل میں موجود سفارتی

عملے کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کام کررہے ہیں۔

=-،-= طورخم بارڈر بند، پاک افغان اطراف سے سکیورٹی فورسز تعینات

چمن سے متصل باب دوستی گیٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب طالبان نے طور

خم بارڈر پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے، اور پولیس کا کہنا ہے کہ طالبان

نے کنٹرول حاصل کرنے کے بعد بارڈر بند کر دیا ہے۔ جس کے بعد پاکستان نے

بھی پاک افغان سرحد سیل کردی ہے اور سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری

تعینات کردی گئی ہے۔ افغانستان کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر

افغان سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور قائدین کا وفد اسلام آباد پہنچ گیا ہے، کابل

سے پاکستان پہنچنے والوں میں سپیکر افغان قومی اسمبلی میر رحمان رحمانی اور

سابق افغان صدر برہان الدین ربانی کے بیٹے صلاح الدین ربانی شامل ہیں۔ پاکستان

پہنچنے والے اہم رہنماؤں میں تاجک رہنما اور سابق وزیر داخلہ یونس قانونی

سمیت سابق افغان کمانڈر احمد شاہ مسعود کے دونوں بھائی احمد ضیا مسعود اور

احمد ولی مسعود بھی شامل ہیں۔ افغان رہنماؤں میں ہزارہ کمیونٹی کے دو اہم رہنما

استاد محقق اور کریم خلیلی بھی کابل سے پاکستان پہنچے ہیں، ان کے علاوہ بلخ

کے سابق گورنر سردارعطا نور کے بیٹے خالد نور بھی کابل سے پاکستان پہنچے

ہیں، انہوں نے کہا کہ سیاسی وفد افغانستان میں امن اور استحکام کے حوالے سے

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے مشاورت کرے گا۔ افغان سیاسی وفد میں محمد

یونس قانونی، استاد محمد کریم، احمد ضیا مسعود، احمد ولی مسعود، عبداللطیف

پیدرام اور خالد نور شامل ہیں۔ پاکستان پہنچنے والے افغان سیاسی رہنما افغانستان

میں طالبان کے قبضے کے بعد کی صورت حال پر ملاقاتیں کریں گے۔

کابل 20 سال بعد ، کابل 20 سال بعد ، کابل 20 سال بعد ، کابل 20 سال بعد

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply