نیٹو انخلاء کے بعد کابل حکومت ختم، افغانستان ٹوٹ سکتا ہے، امریکہ

نیٹو انخلاء کے بعد کابل حکومت ختم، افغانستان ٹوٹ سکتا ہے، امریکہ

Spread the love

واشنگٹن، دوحہ، نئی دہلی، ماسکو، انقرہ (جے ٹی این آن لائن انٹرنیشنل نیوز) کابل حکومت ختم امریکہ

امریکی انٹیلی جنس نے کہا ہے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد چھ

ماہ کے اندر اندر افغان حکومت ناکام اور افغانستان ٹوٹ سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس

کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنے اندازوں پر نظر ثانی کی جب

طالبان نے شمالی افغانستان میں گذشتہ ہفتے بڑے پیمانے پر علاقوں اور شہروں کو

اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ امریکی اخبار کے مطابق عام طور پر امریکی انٹیلی

جنس کا نیا جائزہ جس کی پہلے اطلاع نہیں دی گئی تھی امریکی فوج کے ذریعہ

تیار کئے گئے تجزیے کے مطابق ہے۔ فوج پہلے ہی اپنے 3500 فو جیوں اور

آدھے سامان کو افغانستان سے نکال چکی ہے۔ بقیہ نائن الیون تک نکال لیے جائیں

گے۔ گزشتہ روز کے روز طالبان جنگجوﺅں نے تاجکستان کو ملانے والی گذرگاہ

اور شاہراہ پر قبضہ کر لیا۔ طالبان اور افغان فورسز کے درمیان مزار شریف کے

اطراف اور قندوز شہر میں گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔

=-= دنیا بھر سے مزید تازہ ترین خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے

کہا ہے کہ امریکا نے طالبان کو خبردار کیا ہے دنیا افغانستان میں بزور طاقت

مسلط کردہ حکومت کو قبول نہیں کریگی کیونکہ انٹیلی جنس رپورٹ میں متنبہ کیا

گیا کہ امریکی انخلاء کے بعد کابل میں موجودہ سیٹ اپ 6 ماہ کے اندر ہی ٹوٹ

سکتا ہے۔ افغانستان کے لئے امریکی مالی مد د صرف اسی صورت میں جاری رہ

سکتی ہے جب اس ملک میں ایسی حکومت بنے جسے سب تسلیم کریں۔ نیڈ پرائس

نے کابل حکومت کے خلاف طالبان کے حالیہ کنٹرول کے بارے میں میڈیا رپورٹس

کا حوالہ دیتے ہوئے کہا دنیا افغانستان میں کسی حکومت کی طاقت سے مسلط

کرنے کو قبول نہیں کریگی۔ آپ نے یہ بات سفیر زلمے خلیل زاد، سیکریٹری

انٹونی بلنکن اور دوسروں عہدیداروں سے بھی سنی ہے۔ اس سے قبل بریفنگ کے

دوران ایک صحافی نے انہیں باور کرایا کہ عسکریت پسندوں نے افغانستان پر

اپنے کنٹرول کو 50 سے زائد اضلاع تک بڑھا دیا ہے جب سے امریکی صدر

جوبائیڈن نے تمام امریکی افواج کے انخلا کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

=-.-= بھارت کا افغان امن عمل کوششوں کا خیر مقدم کا عندیہ

افغان امن مذاکرات میں شامل قطر کے ایک سفارتکار نے تصدیق کی ہے بھارتی

عہدیداروں نے طالبان رہنماﺅں کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ غیرملکی خبررساں

ادارے کے مطابق قطر کے وزیر خارجہ کے خصوصی ایلچی مطلق بن ماجد

القحطانی نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا بھارت بھی افغانستان میں

مستقبل کی حکومت کے لئے ایک کلیدی عنصر کے طور پر دیکھے جانے والے

طالبان کےساتھ بات چیت میں مصروف ہے۔ ادھر بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم

جے شنکر نے کہا ہے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے

باوجود تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق سبرامنیم جے

شنکر نے افغانستان میں خوا تین، اقلیتوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں پر ہونے

والے حملوں اور تشدد کے خاتمے کے لئے مستقل اور جامع جنگ بندی کی اپیل

کرتے ہوئے کہا بھارت جنگ زدہ ملک میں حقیقی سیاسی مفاہمت کے لئے کسی

بھی کوشش کا خیرمقدم کرے گا۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

افغانستان میں دیرپا امن کے لئے دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو فورا ختم

کرنا اور دہشتگردوں کے سپلائی چین کو پوری طرح منقطع کرنا انتہائی ضروری

ہے۔ جے شنکر نے مزید کہا کہ اس امر کو یقینی بنانا بھی یکساں طور پر اہم ہے

کہ دہشت گرد گروپ دیگر ملکوں کو دھمکی دینے یا ان پر حملے کرنے کے لئے

افغانستان کی سرزمین کا استعمال نا کرنے پائیں۔ افغانستان میں دیرپا امن کے لئے

ملک کے اندر بھی امن قائم ہو اور اس کے اطراف کے ملکوں میں بھی امن قائم

رہے۔ افغانستان کی اقتصادی ترقی کے لئے بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنانا

ضروری ہے۔ بین الاقوامی برادری کو افغانستان پر نافذ مصنوعی ٹرانزٹ رکاوٹوں

کو ہٹانے کے لئے کام کرنا اور کسی رکاوٹ کے بغیر ٹرانزٹ حقوق کی ضمانت

دینا چاہیے۔

=-.-= اسلام آباد، تہران کے تعاون کے بغیر افغان گروہوں میں اتحاد ناممکن، روس

روس کے وزیرِ دفاع سرگئی شوئیگو نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکا کے

نکلنے کے بعد خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔ ماسکو میں ہونے والی بین الاقوامی

سکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سرگئی شوئیگو نے کہا کہ اسلام آباد

اور تہران کے تعاون کے بغیر افغان گروہوں کو متحد رکھنا ناممکن ہے۔ انہوں نے

مزید کہا کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی تنظیمیں اس صورتِحال

پر توجہ دیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلا

سے قبل ہی خانہ جنگی شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے، طالبان کی جانب سے

مختلف علاقوں پر قبضے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جبکہ افغان سیاستدان عوام

سے طالبان کے خلاف مسلح جدوجہد کی اپیل کر رہے ہیں جو افغانستان کو ایک

مرتبہ پھر جنگ میں جھونکنے کی طرف پیش قدمی نظر آتی ہے۔

=-.-= ترکی کا افغانستان میں مزید فوج نہ بھجوانے کا اعلان

ترکی نے افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد مزید فوج نہ بھیجنے کا اعلان کر

دیا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک وزیر دفاع پلوسی آکار نے دوٹوک اعلان کیا

ہے کہ امریکہ کے فوجی انخلاء کے بعد کابل ائرپورٹ کی سیکیورٹی کے لیے

مزید فوجی دستے نہیں بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مشن کے لیے لاجسٹک اور

مالی مدد پر امریکہ سے بات چیت جاری ہے اور جمعرات کو امریکی وفد کے

ساتھ معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ ترک وزیر دفاع نے واضح کیا کہ ترکی 6 سال تک

کابل ائرپورٹ کی سیکیورٹی مشن کے تحت موجودگی رکھے گا اور نیٹو مشن کے

تحت ہمارے 500 فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔

کابل حکومت ختم امریکہ ، کابل حکومت ختم امریکہ ، کابل حکومت ختم امریکہ

Leave a Reply