ڈیورنڈ لائن اب ڈیڈ ایشو، ترجمان پا ک فوج

Spread the love

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے افغانستان سے امریکی انخلاءکے بعد حالات خراب ہوئے تو پاکستان پر کوئی دباﺅ نہیں آئے گا ، ڈیورنڈ لائن اب مرد ہ ایشو ہے۔ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاءکے بعد اگر حالات خراب ہوئے تو آہنی باڑ کے باعث پاکستان پر کوئی دباﺅ نہیں آئے گا۔ پاک افغان سرحد پر آہنی باڑ لگانے کا عمل رواں برس کے اختتام تک مکمل ہوجائے گا۔ آہنی باڑ دہشت گردی کے الزامات ختم کردے گی اور دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ میڈیاسے خصوصی گفتگومیں انکا کہناتھا افغانستا ن میں امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان کےلئے فائدہ ہے اور ہماری خواہش ہے افغانسان میں امن کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ جب ہمسایہ ملک عدم استحکام کا شکار ہو تو اس کا اثر ضرور پڑتا ہے افغان طالبان سیاسی عمل کا حصہ بن کر حکومت میںآئیں تو استحکام آئے گا اس طرح داعش اور تحریک طالبان پاکستان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے، جہاں جہاں باڑ لگ چکی وہاں سے دہشت گردوں کا گزرنا ناممکن ہوگیا ہے بارڈر فینسینگ نہ ہونے ہونے کی وجہ سے دہشت گرد حملہ آور ہوتے تھے اور آرمی چیف کا خیال تھا ہمیں بارڈر محفوظ بنانا چاہیے اب باڑ لگانے سے سرحد سے حملوں کا سلسلہ رک گیا ہے، فاٹا کے ضم ہونے سے ہمیں خوشی ہوئی ہے کیونکہ جو علاقہ 70 برس سے علاقہ غیر کہلاتا تھا اب پاکستان کا حصہ ہے اس انضمام سے فاٹا کے لوگوں کو مساوی حقوق ملیں گے مقامی لوگ تمام انتظامات سے بہت مطمئن ہیں اور ہماری خواہش ہے مقامی انتظامیہ مضبوط ہو اور پولیس کا نظام جیسے بہتر ہوگا تو حالات مزید بہتر ہوں گے جبکہ چیک پوسٹس مقامی انتظامیہ کے حوالے کردی گئی ہیں اورشمالی وزیرستان میں جتنی پابندیاں تھی وہ ختم ہوگئی ہیں۔ ہم نے امن کےلئے 20 برس جنگ لڑی اب پاکستان میں مجموعی طور پر امن قائم ہوچکا ہے انضمام شدہ علاقے میں برسہا برس جنگ رہی ہے لہذا مسائل کو حل کرناترجیح ہے ریاستی ادارہ ہونے کے ناطے ہماری ذمہ داری ہے کہ مسائل کا مداوا کریں یہاں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل نہ ہوان لوگوں کے مسائل کا حل ملک کے باہر نہیں بلکہ اندر ہی تلاش کرنا ہے اورلوگوں کا خیال رکھنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

Leave a Reply