تجارت اور تیاری پر پابندی، چین میں ڈیجیٹل کرنسی مائننگ اداروں کا بڑا اعلان

تجارت اور تیاری پر پابندی، چین میں ڈیجیٹل کرنسی مائننگ اداروں کا بڑا اعلان

Spread the love

بیجنگ (جے ٹی این آن لائن ٹیکنالوجی نیوز) ڈیجیٹل کرنسی مائننگ اداروں

چین کی حکومت کی جانب سے ملک میں کرپٹو کرنسی کی تجارت اور اس کی

تیاری پر سختی کرنے کی وجہ سے کرپٹو کرنسی کی مائننگ کرنیوالے بڑے

اداروں نے چین میں اپنے کاروبار بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے

مطابق چین نے گذشتہ ہفتے اپنے تمام مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسی کی خرید و

فروخت کے حوالے سے خدمات مہیا کرنے سے روکنے کا اعلان کیا تھا جس کی

وجہ سے کرپٹو کرنسی کی مالیت میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ چین کی جانب سے

اعلان کے بعد کرپٹو کرنسی بٹ کوائن کی مالیت 60 ہزار ڈالر سے گھٹ کر 30

ہزار ڈالر تک آن پہنچی۔

=–= سوشل میڈیا سے متعلق ایسی مزید خبریں ( =–= پڑھیں =–= )

چین کے نائب وزیراعظم کی سربراہی میں سٹیٹ کونسل کمیٹی نے چین میں بٹ

کوائن کی تجارت اور تیاری کیخلاف کارروائی شروع کر رکھی ہے۔ یہ پہلا موقع

ہے کہ چین کی کابینہ نے کرپٹو کرنسی کیخلاف قدم اٹھایا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے

کاروبار کا بڑا حصہ چین میں ہی ہے اور ایک اندازے کے مطابق کرپٹو کرنسی

کے پورے کاروباری حجم کا 70 فیصد حصہ چین میں ہے۔ اسی طرح کرپٹو

کرنسی تیار کرنیوالے ایک گروپ بی ٹی سی ٹاپ نے بھی چین میں اپنے کاروبار

کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک اور کرپٹو مائنر ہیش کاﺅ نے اعلان کیا کہ

کرپٹو کرنسی کی مزید مائننگ کو روک دیا گیا ہے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

کرپٹو کرنسی کی مائننگ کیلئے وسیع صلاحیت کے حامل کمپیوٹر استعمال کیے

جاتے ہیں جن میں بجلی کا بے تحاشا استعمال ہوتا ہے۔ کچھ ماحول دوست افراد کو

کرپٹو کرنسی کی مائننگ کی وجہ ماحول پر پڑنے والے اثرات پر تشویش لاحق

ہے۔ اندازوں کے مطابق چین میں 2024ء تک کرپٹو کرنسی کی مائننگ کی وجہ

سے بجلی کی کھپت 297 ٹیٹرا واٹ تک بڑھ جائے گی، دوسری جانب چین کے

صدر شی جن پنگ نے 2060ء تک ملک میں کاربن کے اخراج کی سطح انتہائی

کم سطح تک لانے کا عہد کیا ہے۔

ڈیجیٹل کرنسی مائننگ اداروں

Leave a Reply