0

ڈنمارک میں بھی مسلم کمیونٹی پر عرصہ حیات تنگ ہونے لگا

Spread the love

ڈنمارک نے شہریت کے حصول کیلئے نیا قانون متعارف کروا دیا جس کے تحت شہری کا دستاویزات دئیے جانے کی تقریب میں سرکاری عہدیدار سے ہاتھ ملانا لازمی ہوگا۔ڈنمارک کی پارلیمنٹ میں گزشتہ برس شہریت دئیے جانے کی تقریب کے دوران میئر یا دیگر سرکاری عہدیداروں سے لازمی ہاتھ ملانے کا قانون منظور کیا گیا تھا، جس نے ڈینش شہریت کے متلاشی مسلمانوں کو شدید مشکل میں مبتلا کردیا ہے۔کنزریٹو پارٹی اور دائیں بازو کی جماعت کی جانب سے پیش کردہ متنازعہ قانون کی منظوری پر مخالفین کا کہنا ہے مذکورہ قانون مسلمانوں کےخلاف ایک سازش ہے۔دوسری جانب قانون کے حامی افراد نے اسے ملک میں مساوات اور برابری کو یقین بنانے کی ایک کوشش قرار دیاہے ،وزیر امیگریشن انگر اسٹوجبرگ کا کہنا تھا ہم ڈنمارک میں مساوات کے قائل اور اسے برسوں سے یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اس قانون کا تحفظ اور احترام کرتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا لوگ مخالف صنف سے ہاتھ ملانے سے کیوں کتراتے ہیں۔

Leave a Reply