Corona Special jtnonline2

کرونا سے خائف ڈنمارک حکومت کا 15 ملین بے ضرر جانور”منک” قتل کرنے کا فیصلہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوپن ہیگن (جے ٹی این آن او کرونا سپیشل) ڈنمارک حکومت جانور منک

ڈنمارک کی حکومت نے ملک میں پائے جانیوالے 15 ملین ” منک ” جانوروں کو

قتل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس ضمن میں تیاری کرنے کا بھی اعلان کر دیا

ہے۔ اس حوالے سے حکومت نے پارلیمنٹ کی دیگر جماعتوں کی حمایت بھی

حاصل کی ہے۔ ڈینش پارلیمنٹ میں منظور ہونیوالے ایک بل میں ” منک ” جیسے

بے ضرر جانوروں کی نسل کشی حمایت کی گئی ہے۔

=—= ڈنمارک حکومت نے فیصلے سے قبل سیاسی اتفاق رائے پیدا کیا

تفصیلات کے مطابق صحتمند جانوروں کے قتل کا حکم دینے کا حق نہ ہونے کے

باوجود حکومت نے جانوروں کو ختم کرنے کے اعلان سے قبل سیاسی اتفاق رائے

پیدا کرنے کی کوشش کی۔ یک جماعتی سوشل ڈیموکریٹک اقلیتی حکومت نے بائیں

بازو کی چار اور وسطی جماعتوں کیساتھ ایک معاہدے پر اتفاق کیا جس میں کہا گیا

کہ شمالی ڈنمارک کے باہر کچھ لوگوں میں ” منک” کے ذریعے کرونا کے پھیلاؤ

کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ وزیر زراعت مگنس جینسن نے پارلیمنٹ میں انکشاف کیا کہ

” منک ” کے قتل عام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے اس جانور کی دیکھ بھال اور

افزائش نسل کے لیے کام کرنے والے افراد سے معافی مانگ لی کیونکہ یہ واضح

نہیں کیا گیا تھا کہ جانور کے قتل عام کا کوئی قانونی جواز ہے یا نہیں۔

=—= ڈنمارک منک کی 60 فیصد عالمی پیدوار، ایکسپورٹ کرنیوالا بڑا ملک

منک میں پائے جانیوالے کرونا وائرس کا تبدیل شدہ ورژن انسانوں میں پھیل سکتا

ہے حالانکہ ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ یہ ویکسین سے زیادہ

خطرناک یا مزاحم ہے۔ صرف شبہ ہے کہ اس جانور کی وجہ سے 11 افراد کرونا

کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ قابل ذکر ہے کہ ڈنمارک میں ” منک ” کے 1139 فارم ہیں

جن میں تقریبا 6 ہزار افراد کام کرتے ہیں اور انہیں روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ وہاں

پر ” منک ” کی عالمی پیداوار کا 40 فیصد تیار کیا جاتا ہے اور وہ دنیا کا سب سے

بڑا ” منک ” برآمد کنندہ ہے۔ زیادہ تر برآمدات چین اور ہانگ کانگ کو جاتی ہیں۔

=—–= قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں
=—–= ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )

ڈنمارک حکومت جانور منک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply