0

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں9 سے 15 فیصد تک اضافہ کردیا

Spread the love

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک بھر میں ادویات کی قیمتوں میں9 سے 15 فیصد تک اضافہ کردیا ۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ )نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کاکا نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ واضح رہے دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے گزشتہ کئی عرصے سے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا مطالبہ کیا جارہا تھا جس کے لیے کمپنیاں سپریم کورٹ بھی گئیں اور ادویات کی فراہمی بند کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے کہا ہے کہ،ادویات کی قیمتوں میں یہ اضافہ مختلف وجوہات کی بناء پر نا گزیر تھا،پچھلے ایک برس میں ڈالر کی قیمت میں 30 فیصد تک اضافے کے بعد مارکیٹ میں ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح یوٹیلیٹی( جس میں گیس اور بجلی شامل ہیں )کی قیمتیں بڑھنے سے بھی فارما سیوٹیکل انڈسٹری پر اضافی بوجھ پڑامزید برآں ایڈیشنل ڈیوٹی میںبھی اضافہ ہوا۔ انٹرسٹ ریٹ اور ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔پاکستان کی زیادہ فارماسیوٹیکل درآمدات چین سے ہوتی ہیں ۔ چین میں ماحولیاتی وجوہات کی بناء پر آدھی سے زیادہ انڈسٹری کی بندش سے خام مال کی قیمتوں میں دو گنااضافہ ہوا۔ ملک میں آئے دن کچھ ادویات اور ویکسین کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جس کی وجوہات میں ایک وجہ ادویات کی قیمت بھی تھی۔ انڈسٹری سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بہت سی ادویات کم قیمت ہونے کی وجہ سے تیار کرنا کاروباری لحاظ سے موزوں نہیں رہا ہے ڈریپ کے لیے جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی فراہمی ایک اولین ترجیح ہے۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے چند ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشنز بند کر کے واپس جا چکی ہیں اور کچھ کمپنیاں مزید انوسٹمنٹ کرنے کی بجائے اپنے کاروبار سمیٹنے کا ارادہ ظاہر کر رہی ہیں یہ ساری صورت حال ملکی مفاد کے منافی ہے۔ ان تمام وجوہات کی بناء پر فارماسیوٹیکل انڈسٹری ادویات کی قیمتوں میں ڈالر کی قدر کے لحاظ سے اضافے کا مسلسل مطالبہ کر رہی تھی

Leave a Reply