ڈراپ سین: باپ نے عاق کیا تو شقی القلب ملزم نے سگے بھائی کے خون سے ہاتھ رنگ لئے

Spread the love

پشاور(آئی آر خان سے)ڈراپ سین:باپ نے عاق کیا تو شقی القلب ملزم نے

نوشہرہ کلاں خویشگی بالا کے رہائشی نزیر نامی شخص کی جائیداد

بھی اپنی جگہ موجود ہے اور کاروبار بھی امید ہے کہ پہلے کی طرح دوبارہ

رواں دواں ہوجائے گا مگر بدقسمتی کے مارے اس
شخص نے ایک بیٹے

کو بوجہ نافرمانی یا پھر کسی اور وجوہات کی بنا پر اپنی جائیداد اور

کاروبار سے عاق کردیا تھا لیکن کون جانتا تھا کہ یہ بیچارہ اپنے دونوں

بیٹوں سے محروم ہوکر رہ جائیگا کیونکہ ایک بیٹے نے دوسرے کو باپ کا

چہیتا جان کر اسے اسلحہ آتشیں سے فائرنگ کرکے قتل کردیا اور وہ خود شاید ساری

زندگی سلاخوں کے پیچھے رہے لیکن ظاہر ہے سب سے زیادہ دکھ تو بیچارے باپ

کو ہی جھیلنا پڑے گا۔اندھے قتل کا ڈراپ سین ہونے کی کہانی کچھ یوں بتائی گئی ہے۔۔۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے تھانے نوشہرہ کلاں کی پولیس

کے مطابق خویشگی قبرستان کے پاس ہونے والے قتل کا معمہ حل ہوگیا ہے

سگا بھائی قاتل نکلا اور ملزم کا اعتراف جرم
آلہ قتل بھی برآمد

کرلیا گیا ہے تفصیلات کے مطابق 04 دن قبل نذیر گل ساکن خویشگی بالا نے

پولیس کو رپورٹ درج کی کہ اُس کے بیٹے ابراہیم کو خویشگی قبرستان کے

پاس نامعلوم ملزم نے فائرنگ کرکے قتل کیا ہے، جس پر فوری طور پر

مقدمہ درج رجسٹر کر دیا گیااور ASP کینٹ وقاص رفیق نے قتل

کا نوٹس لیتے ہوئے ہارون خان SHO نوشہرہ کلاں کی سربراہی میں تفتیشی

ٹیم تشکیل دیکر ملزم کی گرفتاری کا ٹاسک حوالہ کیا تفتیشی ٹیم نے موقع

سے شواہد اکھٹے کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کیا, جدید طریقہ تفتیش سے

پولیس کو معلوم ہوا کہ مقتول کے قتل سے تھوڑی دیر پہلے آخری رابطہ

اپنے بڑے بھائی کیساھ ہوا تھا۔جس پر باقاعدہ طور پر مقتول کے

بھائی کو شامل تفتیش کیا گیا۔دوران تفتیش ملزم نے اعتراف جرم کرتے

ہوئے سب کچھ اگل دیا اپنے چھوٹے بھائی کے قاتل ملزم اسلام گل ولد نذیر گل ساکن

خویشگی کو قانونی حراست میں لے لیا گیا جبکہ ملزم کی نشاندہی پر آلہ قتل

بھی برآمد کر لیا گیا ہےقاتل نے پولیس کو قتل کی وجہ یہ بتائی کہ ملزم کو

اسکے والد نےجائیداد و کاروبار سے عاق کیا تھا جس پر اُسکو رنج تھا کہ

یہ سارا کیادھرا اُسکے بھائی ابراہیم کا ہے اور اسی کے کہنے پر

کیا گیا ہے اسلئے اُسے قتل کیا تاہم پولیس نے مذید تفتیش بھی کررہی ہے۔

Leave a Reply