ڈبلیو ایس ایس پی نامنظور، پرانا نظام بحال کیا جائے، سیاسی و سماجی حلقے

ڈبلیو ایس ایس پی نامنظور، پرانا نظام بحال کیا جائے، سیاسی و سماجی حلقے

Spread the love

پشاور(بیورو چیف:– عمران رشید خان) ڈبلیو ایس ایس پی

صوبائی دارالحکومت پشاور کے اندرون شہر صفائی کی ابتر صورتحال کے پیش

نظر جے ٹی این آن لائن ( جتن ) کی جانب سے غیر جانبدارانہ انسپکشن رپورٹس

منظر عام پر لانے کے دوران اندرون شہر کی سیاست سے وابستہ سیاسی جماعتوں

کے سنجیدہ سرگرم کارکنوں اور شہریوں سے تمام تر صورتحال پر خصوصی بات

چیت کی گئی تو وہ شہر میں صفائی کے ذمہ دار ادارے کیخلاف پھٹ پڑے-

=-،-= نا جانے پھولوں کے شہر کو کس کی نظر لگ گئی، حبیب شاہ

ڈبلیو ایس ایس پی نامنظور، پرانا نظام بحال کیا جائے، سیاسی و سماجی حلقے

=-،-= یہ بھی پڑھیں= پھولوں کا شہر پشاور کوڑا دان میں تبدیل

مسلم لیگ ن کے دیرینہ سرگرم کارکن حبیب شاہ نے ایک گہری آہ بھرتے ہوئے

کچھ یوں اظہار خیال کیا کہ نا جانے میرے پھولوں کے شہر کو کس کی نظر لگ

گئی ہے۔ بلدیاتی نظام اور ڈبلیو ایس ایس پی کی ناقص کارکردگی کے باعث پشاور

شہر گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے- گندگی کے ڈھیروں سے اٹھنے والے

تعفن و بدبو سے شہری عاجز آ چکے ہیں چونکہ موسم گرما ہے ایسے میں مچھر

مکھیوں اور دیگر حشرات الارض کی بہتات اور گندگی متعدد وبائی امراض

پھوٹنے کا سبب بن رہی ہیں، تاہم جب کبھی صاحبان اختیار کو اس حوالے سے آگاہ

کرتے ہیں تو وہ نفری کی کمی کا رونا روتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ خدارہ

شہر میں صفائی کا پرانا نظام بحال کرتے ہوئے شہریوں کو اس عذاب سے نجات

دلائی جائے۔

=-،-= ڈبلیو ایس ایس پی مکمل ناکام، کوئی پوچھنے والا نہیں، سعود خان خدمتگار

عوامی نیشنل پارٹی کے شہری علاقہ یوسی 15 کے سابقہ کونسلر و پارٹی کارکن

سعود خان خدمتگار نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے

قیام کو 8 سال مکمل ہونے کو ہیں، تاہم قیام سے لے کر اب تک اس کی ناکامی

روز روشن کی طرح عیاں ہے، گزشتہ حکومتوں کے ادوار میں پشاور شہر میں

گندگی کی کبھی ایسی صورتحال تھی اور نہ ہی صفائی کے نام پر پانی کے نلکے

کے بلوں میں عوام کو سیوریج اور نہ نظر آنے والی صفائی کی مد میں لوٹا گیا،

انہوں نے مزید کہا کہ یو سی 15 گندگی کا ڈھیر بن چکا ہے، جبکہ دیگر شہری

علاقوں میں بھی صفائی کی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے، ڈبلیو ایس ایس پی

مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اب شہریوں کو صفائی کا وہی پرانا نظام چاہیے

لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں، انہوں نے پرانا کارپوریشن نظام بحال کرنے کے

لئے چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے سوموٹو ایکشن لینے کی اپیل کی ہے۔

=-،-= ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی صفر، شہری عاجز آ چکے، عمران خان

شہر میں گندگی کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن عمران خان کے

خیالات بھی دیگر سیاسی کارکنوں سے مختلف نہ تھے، انہوں نے کہا کہ وہ

مزکورہ صفائی ادارے ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی سے بالکل مطمئن نہیں اور

عرصہ دراز سے اس نظام کو ختم کر کے صفائی کے پرانے نظام کی بحالی کے

لئے آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن تاحال کوئی شنوائی نہیں کی گئی۔

=-،-= صفائی کے معاملہ میں شہری غیر ذمہ دار، ادارہ کرپشن زدہ، حلیم شیرازی

اندورن پشاور شہر میں کچرے اور کوڑے کی بدترین صورتحال کے حوالے سے

جب پشاور کی معروف شخصیت محکمہ تعلیم کے ریٹائرڈ آفیسر اور پاکستان

تحریک انصاف کے سابق کونسلر محمد حلیم شیرازی نے کہا شہر میں گندگی کے

پھیلاؤ میں صفائی عملے کا ہی نہیں بلکہ شہریوں کا بھی قصور ہے، ایک شہری

ہونے کے ناطے ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو کہ بخوبی نبھانے کی

بجائے شہری ان سے نظریں چراتے ہوئے اپنے ہی شہر کو مزید گندا کر رہے ہیں

تاہم شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور ایک صحت مند معاشرے کی تکمیل میں

شہریوں کا کردار ادا کرنا لازمی ہے-

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

محمد حلیم شیرازی سے ڈبلیو ایس ایس پی کی ناقص کارکردگی کے بارے میں

پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی وجہ سے یہ ادارہ بھی ناکام نظر آ رہا

ہے، اس پر ان سے مزید بات کی گئی کہ کیا آپ اپنی ہی پارٹی کی چتھرول کر

رہے ہیں تو انہوں نے پرجوش انداز میں یہ اشعار بیان کئے

” سچائی چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
خوشبو آ نہیں سکتی کبھی کاغذ کے پھولوں سے “

گفتگو کے اختتام پر انہوں نے کھلے الفاظ میں انکشاف کیا کہ ادارے کا سیاسی

طور پر زیر اثر رہنا، سیٹوں کی بندر بانٹ، دیگر کئی نوعیت ایک کی کرپشن اور

ادارے کے ناکامی حکومت پر سوالیہ نشان بن چکی ہے۔

=-،-= ادارہ ڈبلیو ایس ایس پی ناکامی کیساتھ قومی خزانے پر بوجھ، شہری

ڈبلیو ایس ایس پی نامنظور، پرانا نظام بحال کیا جائے، سیاسی و سماجی حلقے

پشاور کے گلی کوچوں میں موجود شہریوں سے بھی شہر ناپُرسان میں گندگی کے

حوالے سے سوالات کئے گئے تو شہریوں کی جانب سے بھی ملا جلا موقف

سامنے آیا، اکثریت نے ڈبلیو ایس ایس پی کی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ

بناتے ہوئے اسے قومی خزانے پر بوجھ قرار دیا تو بعض نے گندگی کی ابتر

صورت حال کا ذمہ دار خود شہریوں کو ہی قرار دیا۔

ڈبلیو ایس ایس پی ، ڈبلیو ایس ایس پی

Leave a Reply