حکومت سیکشن 203(A) کسی صورت واپس نہ لے، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

حکومت سیکشن 203(A) کسی صورت واپس نہ لے، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن بزنس نیوز) ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے حکومت کی جانب سے

ٹیکس ریونیو بڑھانے انکم ٹیکس آرڈیننس میں تبدیلی اور سیکشن 203( A )

متعارف کروانے کی حمایت کر دی، تاہم انھوں نے اس میں بعض تبدیلیاں تجویز

کی ہیں تاکہ ٹیکس گزار اور ٹیکس حکام کے مابین کم از کم رابطے کی حکومتی

پالیسی متاثر نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کسی قیمت پر سیکشن 203( A )

واپس نہ لے اورکاروباری برادری کے احتجاج کو نظر انداز کر دیا جائے جبکہ

ضرورت پڑنے ہر سختی کی جائے کیونکہ ایف پی سی سی آئی سمیت ننانوے

فیصد تجارتی تنظیمیں قبضہ گروپ ہیں جنھیں اپنا منافع بڑھانے کے علاوہ کوئی

غرض نہیں۔ یہ اپنی قومی ذمہ داری ادا نہیں کرنا چاہتے ہیں۔

=–= معیشت و کاروبار سے متعلق مزید خبریں (=–= پڑھیں =–=)

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کی

جانب سے پوائنٹ آف سیل سسٹم کی تنصیب اور دکاندار کی طرف سے خلاف

ورزی پر کاروبار سیل کرنے اور دس لاکھ جرمانے کی سزا کی حمایت کرتے ہیں

جسے کسی صورت میں واپس نہ لیا جائے۔ سیکشن 203( A ) میں ٹیکس افسران

کو ٹیکس دھندہ کی گرفتاری کے اختیارات کو کاروباری برادری لٹکتی تلوار سمجھ

کر اسکی مخالفت کر رہی ہے جسے متوازن بنانے پر غور کیا جائے۔ ٹیکس دھندہ

کے علاوہ ٹیکس افسران کو بھی جوابدہ بنایا جائے اور ٹھوس ثبوت کے بغیر کوئی

کاروائی نہ کرنے دی جائے۔

=-= قارئین کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اگر کسی ٹیکس گزار کی گرفتاری کے بعد عدالت میں جرم ثابت نہ ہو سکے تو

متعلقہ ٹیکس افسر کے خلاف کاروائی کی جائے اور ٹیکس گزار کے نقصانات کی

تلافی کی جائے۔ اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنے کے لئے فول پروف

سیف گارڈز مہیا کئے جائیں تاکہ ٹیکس گزاروں کی پریشانی ختم ہو جائے۔ انھوں

نے کہا کہ ٹیکس گزاروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ٹیکس ریونیو نہ

بڑھایا گیا تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

ڈاکٹر مرتضیٰ مغل ، ڈاکٹر مرتضیٰ مغل

Leave a Reply