ڈاکٹر فکتو مرد حریت، انکی تصنیف "بانگ" ہندو توا کا جامع تجزیہ

ڈاکٹر فکتو مرد حریت، انکی تصنیف “بانگ” ہندو توا کا جامع تجزیہ

Spread the love

اسلام آباد (جے ٹی این آن لائن نیوز) ڈاکٹر فکتو مرد حریت

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے بھارت کی جیل میں گذشتہ

29 سال سے قید تنہائی کاٹنے والے کشمیری رہنما ڈاکٹر قاسم فکتو کو تحریک

آزادی کا عظیم بطل جلیل اور مرد حریت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر فکتو

اور ان کی اہلیہ آسیہ اندرابی نے اپنی دھرتی کی آزادی کے لیے قربانیوں کی وہ

داستان لکھی ہے جس پر کشمیری قومی مدتوں فخر کرتی رہے گی۔ کشمیر ہاؤس

اسلام آباد میں ڈاکٹر فکتو کی نئی کتاب ” بانگ “ کی تقریب رونمائی کے مہمان

خصوصی کی حیثیت سے اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے

مرد حریت ڈاکٹر فکتو اور آسیہ اندرابی سید علی گیلانی، یاسین ملک، شبیر احمد

شاہ اور دوسرے قائدین جنہوں نے اپنی زندگیوں کا بڑا حصہ جیلوں اور عقوبت

خانوں میں گزارا ان کی قربانیوں پر اہل مقبوضہ اور آزاد کشمیر ہی نہیں پاکستان

کے عوام کو بھی فخر ہے اور وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

=-.-= آزاد و مقبوضہ کشمیر سے متعلق مزید خبریں ( == پڑھیں ==)

تقریب سے سینٹر مشاہد حسین سید، سینٹر عرفان صدیقی، سینٹر ڈاکٹر زرقا

سہروردی، صدر کشمیر یوتھ الائنس ڈاکٹر مجاہد گیلانی اور ولید رسول کے علاوہ

دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا

کہ ڈاکٹر قاسم فکتو نے اپنی کتاب میں ہندو توا یا ہندو بالادستی کے نظریہ کا ایک

جامع اور دقیق تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ہندو برہمنوں کا ایک بالا دست

طبقہ ہندوستان کی اقتدار پر قابض ہے اور کس طرح وہ ہندوستان کے پہلے وزیر

اعظم جواہر لعل نہرو، شیخ محمد عبداللہ کو استعمال کر کے کشمیر پر قابض ہوئے

اور وہ اب اسی قبضہ کو قائم رکھنے کے لیے نریندر مودی اور مقبوضہ کشمیر

کے کچھ سیاستدانوں کو استعمال کر کے اپنا نظریہ آگے بڑھا رہے ہیں، مقبوضہ

جموں و کشمیر میں مختلف اقدامات اٹھا کر اس قضیہ کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے

کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

=-،-= کشمیری اپنی ہی نہیں پاکستان کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں، سردار مسعود

صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ بھارت نے نہایت چالاکی سے پاکستان کیساتھ مذاکرات

کرنے کی خود پیشکش کرنے کے بجائے پاکستان سے کہلوایا کہ بھارت مذاکرات

کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ اگر بھارت مذاکرات چاہتا ہے تو یہ

پیشکش نریندر مودی، اس کے وزیر داخلہ امیت شا یا قومی سلامتی کے سربراہ

اجیت ڈوول کی طرف سے آنی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ مت سمجھا جائے

کہ کشمیری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں جس سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں

ہے، کشمیری اپنی آزادی کی جنگ کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دفاع اور سلامتی

کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں کیونکہ خود بھارتی لیڈر اعلانیہ یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ

مقبوضہ کشمیر تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر

قبضہ کرنے کے خواب بھی دیکھ رہے ہیں۔

=-= قارئین= کاوش پسند آئے تو اپ ڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

انہوں نے کہا کہ 1947ء میں بھارت نے جب کشمیر پر قبضہ کیا تو اس وقت

جموں میں مسلمانوں کی آبادی 61 فیصد تھی لیکن وہاں مسلمانوں کو قتل کر کے

اور لاکھوں مسلمانوں کو پاکستان میں دھکیل کر آج اس ریجن میں مسلمانوں کی

آبادی کو 33 فیصد کر دیا گیا اور یہی کھیل بھارت اب وادی کشمیر میں کھیلنا چاہتا

ہے جہاں مسلمانوں کی مطلق اکثریت ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ

ڈاکٹر فکتو کی کتاب ” بانگ ” تعلیمی اداروں میں ایک مکالمہ کے طور پر پڑھائی

جانی چاہیے تاکہ ہماری نئی نسل ہندو سوچ اور اداروں سے آگاہی حاصل کر

سکے۔

=-،-= ڈاکٹر فکتو کی رہائی کیلئے عالمی سطح پر مقدمہ لڑا جائے، مقررین

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینٹر مشاہد حسین سید اور سینٹر عرفان صدیقی

نے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر فکتو کی رہائی کے لیے عالمی سطح پر مقدمہ لڑا جائے

اور انہیں بھارتی حکومت کی غیر قانونی قید سے رہائی دلائی جائے۔ سینٹر عرفان

صدیقی نے اپنے خطاب میں مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کی

جدوجہد آزادی کا مقدمہ مضبوطی سے عالمی سطح پر لڑا جائے۔

ڈاکٹر فکتو مرد حریت ، ڈاکٹر فکتو مرد حریت ، ڈاکٹر فکتو مرد حریت ، ڈاکٹر فکتو مرد حریت ، ڈاکٹر فکتو مرد حریت ، ڈاکٹر فکتو مرد حریت

Leave a Reply