37

ڈالر 167روپے کا ہو گیا

Spread the love

کراچی(اکنامک رپورٹر)امریکی ڈالرکے مقابلے میں پاکستانی روپے کی بے قدری کا تسلسل جاری،

کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کوانٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں پانچ روپے 85پیسے کا

اضافہ ریکارڈ کیاگیا جس کے بعد یہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح167.45روپے تک پہنچ گیا،۔، 3

روز میں ڈالر8روپے 45پیسے مہنگا ہوچکا ہے جس کے باعث پاکستان کے بیرونی قرضوں کے بوجھ

میں 7 سو ارب روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے۔ فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 5 روپے

85 پیسے مہنگا ہوکر 167.45 روپے پر پہنچ گیا۔ ڈالر9 ماہ بعد اتنی مہنگی سطح پر ٹریڈ ہوا ۔غیر

ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھریلو قرضوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے قلیل مدتی سرمایہ کاری

نکالنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ آئی ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے

شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کے باعث سرمایہ کار پاکستان سے اپنا پیسہ نکال رہے ہیں جو ڈالر

مہنگا ہونے کا سبب بن رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے

باعث غیرملکی سرمایہ کار نقد رقم کو ہاتھ میں رکھنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اپنی

سرمایہ کاری واپس نکال رہے ہیں۔عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے اس ضمن

میں بتایاکہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق ، پچھلے تین ہفتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں

نے حکومتی قرضوں کی سیکیورٹیز سے 1.56 بلین ڈالر کی قلیل مدتی سرمایہ کاری واپس لے لی

ہے، جس کے نتیجے میں روپیہ پر دبائو اس وقت جزوی طور پر بڑھ گیا، تاہم گھبراہٹ میں مبتلا کچھ

سرمایہ کاروں نے پختگی ہونے سے پہلے سیکیورٹیز فروخت کردیں۔دوسری طرف پاکستان اسٹاک

ایکس چینج میں جمعرات کو ملا جلا رجحان دیکھنے میں آیا عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری آنے

کے باعث مقامی اسٹاک مارکیٹ میں بھی منافع بخش کمپنیوں کے شیئرز کی خریداری کی گئی لیکن

ساتھ ہی کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے اقدامات اور معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات

کے باعث سرمایہ کار محتاط بھی نظر آئے جس کے سبب اتار چڑھاوٗ دیکھنے میں آیا اورٹریڈنگ کے

دوران کے ایس ای100انڈیکس 28ہزار کی نفسیاتی حد کو بحال کرتے ہوئے 28191پوائنٹس کی بلند

اور27046پوائنٹس کی نچلی سطح پر ریکارڈ کیا گیا تاہم کاروبار کے اختتام پر کے ایس

ای100انڈیکس 38.40پوائنٹس کے اضافے سے27267.20پوائنٹس پر بند ہوا ۔کے ایس ای30انڈیکس

بھی 45.36پوائنٹس کے اضافے سے11879.19پوائنٹس جب کہ کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس

87.98پوائنٹس کی کمی سے 20043.89پوائنٹس پر بند ہوا ۔گزشتہ روز مجموعی طور پر

347کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 152کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ

ہوا لیکن اس کے مقابلے میں182کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرگئیں اور 13کمپنیوں کے حصص

کی قیمتیں مستحکم رہیں بیشتر کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی آنے کے باعث سرمایہ کاروں

کو 23ارب51کروڑ13لاکھ روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جس سے مارکیٹ کی سرمایہ کاری مالیت گھٹ

کر53کھرب 56ارب 66کروڑ1لاکھ روپے ہوگئی جب کہ حصص کی لین دین کے لحاظ سے

کاروباری حجم 18کروڑ67لاکھ45ہزار شیئرز رہا جو بدھ کے مقابلے میں4کروڑ16لاکھ38ہزار

شیئرز زائدہیں دریں اثنا اوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں

چھوڑیں گے اور کورونا سے ایک قوم بن کر مقابلہ کریں گے۔جمعرات کووزیراعظم عمران خان کی

زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں وفاقی وزراء، عسکری اور سول اداروں کے

اعلیٰ حکام،چاروں وزرائے اعلیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔چیئرمین این ڈی ایم اے اور

وزیراعظم کے معاونین خصوصی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی

برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ملک میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔

اجلاس میں لاک ڈاؤن کے پیش نظر ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات پر بھی بریفنگ دی گئی،

اجلاس میں لاک ڈاؤن میں نرمی یا مکمل کرفیو سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے۔اس کے علاوہ

اجلاس میں معاشی پیکج کے اثرات پر بھی بات چیت کی گئی جب کہ وزرائے اعلیٰ صوبوں میں

صورتحال سے متعلق وزیراعظم کو بریفنگ دی۔اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ

دیہاڑی دار اور مزدور طبقے کو ریلیف فراہم کیا جائے گا، مشکل وقت میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں

گے۔عمران خان نے کہا کہ تمام صوبوں کی ضروریات پوری کریں گے اور کورونا سے ایک قوم بن

کر مقابلہ کریں گے۔

Leave a Reply