oh my God jtn-online 165

ڈارک ویب کا ہیڈ کوارٹر ہالینڈ،71 فیصد بچوں کی ” گندی فلموں“ کا میزبان

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور( جے ٹی این آن لائن سپیشل رپورٹ،عرفان شہزاد) ڈارک ویب ہیڈ کوارٹر

پھولوں کی سرزمین ہالینڈ میں ہر انسان کو آزادانہ جنسی میلاپ، منشیات کے استعمال سمیت، اپنی مرضی کی آزادی کا حق حاصل ہے، یہ ملک مہذب ممالک میں بھی شمار ہوتا ہے، کیونکہ یہاں قتل و غارت، بدامنی کی شرح تقریباً ایک فیصد ہے، اس سے ہٹ کرایک انتہائی منفی اور انسانی حقوق کیخلاف سب سے سنگین فعل، سمجھے جانےوالے جرم کی نمائش میں ہالینڈ سر فہرست ہے۔

——————————————————————————-
یہ بھی پڑھیں : بنگلہ دیش بھارتی روش پر، ذات برادری کی آڑ میں تذلیل انسانیت

——————————————————————————-

نیدرلینڈ میں دنیا کے 71 فیصد بچوں کیساتھ بدسلوکی، اور تشدد کا نشانہ بنانےوالے مواد کی میزبانی کی گئی ہے۔ ہالینڈ نے ایک پریشان کن خبر کو متنبہ کیا۔ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن (آئی ڈبلیو ایف) کا کہنا ہے، ڈارک ویب کی سب سے زیادہ میزبانی کی خدمات ہالینڈ کا مضبوط انٹرنیٹ ممکن بنا رہا ہے۔ ایسے انفراسٹرکچر نے ہالینڈ خوفناک مواد شائع کرنے میں ہیڈ کوارٹر کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔

بچوں کے جنسی استحصال

انتہائی پریشان کن نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے، کہ نیدرلینڈ پیڈو بچوں کے جنسی استحصال، کے مواد کی میزبانی کا خوفناک ہدف پورا کر رہا ہے۔ادھر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ،چائلڈ پروٹیکشن باڈی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ، کرونا وائرس وبا ءکے جنسی شکاریوں کی سرگرمیوں میں، آن لائن اضافے کےساتھ ہی صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔
سی ای او سوسی ہرگریواس نے کہا ہے، کہ ہم نے بچوں کے جنسی استحصال کرنےوالے مواد کی ایسی خوفناک مقدار اس سے قبل نہیں دیکھی، اور یہ سب کچھ حقیقت میں بہت خوفناک ہے۔انتہائی افسوس کیساتھ کہنا پر رہا ہے، کہ اس سنگین نوعیت کے فعل کی میزبانی یورپ ،ہماری دہلیز پرہو رہی ہے۔انہوں نے حکومتوں پر زور دیا ہے ،کہ وہ اس سنگین جرم کو روکیں ،اس کو نہ روکا گیا تو کرونا وائرس مزیدپھیل سکتا ہے۔

ہالینڈ بچوں کے بلو پرنٹس کی 71 فیصد نمائش کرنیوالا ملک

ہرگر نے مزید کہا کہ دنیا میں ابھی بہت کچھ چل رہا ہے، جس میں کرونا وائرس کے بحران نے سب کو بے خودی میں ڈبو دیا ہے، باوجود اس کے دنیا کے کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں، کہ وہ بچوں کے جنسی استحصال کو پھیلانے میں سرعام کردار ادا کرے۔ایسے افراد معاشرے کیلئے انتہائی فرسودہ ہیں، اور یہ مجرم ہیں، جن کا دنیا میں کہیں بھی ٹھکانہ نہیں ہونا چاہئے۔ بچوں کے جنسی استحصال کی نئی رپورٹ میں گندے مواد، کی سب سے زیادہ نمائش 2018ءمیں ہوئی،ہالینڈ نے سو میں سے پچاس فیصد مواد کی میزبانی کی۔

جنسی زیادتی کے مواد کی میزبانی میں سب سے آگے

2019ء میں ہالینڈ بچوں کے بلو پرنٹس کی 71 فیصد نمائش کرنیوالا، سب سے بڑا ڈارک ویب کا اڈا بن گیا، جبکہ براعظم یورپ 89 فیصد جنسی استحصال کا مواد شائع کرنے میں پیش پیش رہا۔اس کے بعد شمالی امریکہ کا نمبر آتا ہے، جہاں 2019ء میں بچوں کے جنسی استحصال کا 9 فیصد مواد شیئر کیا گیا۔ ہالینڈ بچوں کیساتھ جنسی زیادتی کے، مواد کی میزبانی میں سب سے آگے ہے ، اس کے بعد امریکہ شامل ہے۔

بچیاں خود کو ایکسپوز کرتی ہیں

کچھ معاملات میں ، بچوں کو تیار کیا گیا ، انہیں بہلا پھسلا کردھوکہ دیا گیا،وہ خود اپنی جنسی تصاویر اترواتے ہیں ۔اس میں سب سے زیادہ استعمال 7 سال سے لے کر،13 سال تک کی عمر کے بچوں کو ملوث پایا گیا ہے۔ ہالینڈ کے قانون کو اس طرح اپنے حق میں استعمال کرتی ہیں، کہ انہیں نمائش پر گرین سگنل مل جاتا ہے ،مثال کے طور پر گندے مواد میں 76 فیصد بچیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جن کی عمر13 برس تک ہوتی ہے۔یہ بچیاں خود کو ایکسپوز کرتی ہیں،انہیں کوئی اس کام پر مجبور کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتا،اس مرضی کی جنسی آزادی کی آڑ میں ،ایسے کلپس کو اوکے کا سگنل مل جاتا ہے ۔

قارئین : کاوش اچھی لگے تو شیئر کریں ، ہمیں فالو کرکے اپڈیٹ رہیں

نئی رپورٹ کے مطابق 2019 ءمیں 31 ہزار 2 سو انیس 13 سالہ لڑکیوں کا جنسی استحصال ہوا۔265 بچیوں کی عمر سات سال سے لے کر دس سال تک تھی۔ہالینڈ حکومت کی ترجمان ارڈا جرکنز نے کہا ہے کہ اس مواد کی بات کی جائے تو، نیدر لینڈ کی یہ بد قسمتی ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا ڈارک ویب ہوسٹنگ ملک ہے۔ نئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ، سخت قوانین کے باعث برطانیہ سے ایسے مواد کی ایک فیصد نمائش ہوئی ،شرح نہ بڑھنا خوش آئند ہے ۔ ہارگر نے نشاندہی کی ہے کہ، بچوں کے جنسی استحصال ، “کوئی بھی ملک اس خوفناک جرائم سے محفوظ نہیں ۔یورپ کو رواداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

ڈارک ویب ہیڈ کوارٹر

Leave a Reply