چین کولنگ آف قانون

چین”’کولنگ آف”’ کا قانون، طلاق کی شرح میں 72 فیصد کمی

Spread the love

چین کولنگ آف قانون

بیجنگ (جے ٹی این آن لائن نیوز) چین میں جوڑے کو ایک ماہ تک”کولنگ آف” مدت میں ایک ساتھ

رہنے کے قانون سے طلاق کی شرح 72فیصد کم ہوگئی۔امریکی میڈیا کے مطابق چینی حکومت کی

طرف سے شادی شدہ جوڑوں کو طلاق کی درخواست دائر کرنے کے بعد ایک ماہ اکھٹا رہ کر اپنے

فیصلے پر نظر ثانی اور ایک دوسرے کے خلاف جذبات ٹھنڈا کرنے کے حکم کے بعد طلاق کی شرح

میں ستر فی صد کمی ہو گئی۔چین کی نیشنل پیپلز کانگریس (این پی سی) نے گزشتہ برس مئی میں

نئے سول کوڈ کو منظوری دی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ جوڑے کو طلاق لینے سے پہلے ایک ماہ تک

‘کولنگ آف پیریڈ’ پرساتھ رہنا پڑے گا تاکہ اگر تھوڑا سا امکان ہو تو، جوڑے اپنے تنازعات کو ختم

کرسکیں۔اگر کولنگ آف پیریڈ کے بعد بات نہیں بنتی ہے تو پھر وہ طلاق کے لیے درخواست دے

سکتے ہیں اور اپنے راستے جدا کر سکتے ہیں۔رواں سال یکم جنوری سے نیا سول کوڈنافذ کیا گیا ۔

اس قانو ن کے سامنے آنے کے بعد چین میں طلاق کی دوڑلگ گئی۔ نیشنل پیپلز کانگریس کے اس

قانون کے منظور ہونے کے بعد کافی تنقید ہوئی تھی۔ اور اس قانون سے لوگ زیادہ خوش نہیں۔قانون

کے پاس ہونے سے قبل خواتین نے بڑی تعداد میں طلاق کے لیے درخواستیں دی تھیں۔ لیکن اس قانون

نے چینی جوڑوں میں طلاق کی شرح میں واضح کمی کردی ہے۔ملک کی وزارت برائے سول امو ر

کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق، 2021 کی پہلی سہ ماہی میں 296000 طلاقیں رجسٹرڈ

ہوئیں، جبکہ گذشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں دس لاکھ ساٹھ ہزار طلاقیں رجسٹرڈ ہوئیں یعنی 72

فیصد کی کمی دیکھی گئی۔جب کہ گزشتہ سال کی پہلی سہ ماہی میں چھ لاکھ بارہ ہزار طلاقیں ہوئیں

اس لحاظ سے 52فی صد کمی ہوئی۔ قانون کے تحت طلاق کے لئے جوڑے کو درخواست جمع

کروانے کے 30 دن بعد انتظار کرنا چاہئے، اس دوران میں کوئی بھی فریق درخواست واپس لے سکتا

ہے۔ اس کے بعد شادی کے خاتمے کے لئے مہینہ ختم ہونے کے بعد فریق میں سے کسی ایک کو

دوبارہ درخواست دینا ہوگی۔یہ قانون ملک کے متعدد حصوں میں پہلے سے ہی نافذ ہے’ناقدین اس

قانون کو شخصی آزادیوں کے خلاف قرار دیتے ہیں۔آل چین ویمن فیڈریشن کے مطابق، چین میں حالیہ

برسوں کے دوران طلاقوں میں مستقل طور پر اضافہ ہورہا ہے، جس کی وجہ خواتین کے لئے

معاشرتی بدنامی میں کمی ا ور زیادہ خودمختاری ہے،چین میں 70 فیصد سے زیادہ طلاقوں کی

درخواستیں خواتین کی طرف سے دائر کی جاتی ہیں۔اس سے بعض پالیسی سازوں میں خوف و ہراس

پھیل گیا تھا، یہ رجحان لوگوں کے حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں تاکہ

ممکنہ آبادیاتی ٹائم بم کو ختم کیا جاسکے۔چین واحد ایسا ملک نہیں ہے جس میں طلاق کی درخواست

کے بعد کولنگ آف پیریڈہو۔ فرانس اور برطانیہ میں بھی شادی کے خاتمے کے لئے جوڑے کو

بالترتیب دو سے چھ ہفتوں کے درمیان انتظار کرنا پڑتا ہے۔

چین کولنگ آف قانون

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply