Asim Tipu

امریکہ کو پچھاڑ کر چین عالمی اقتصادی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے تیار

Spread the love

چین عالمی اقتصادی تیاری

چین نے 20 سال قبل جب اقتصادی میدان میں امریکی معاشی برتری کو چیلنج کیا

تو اسوقت پیپلز پولیٹیکل کنسلٹیٹوکانفرنس ( سی پی پی سی سی ) اور نیشنل پیپلز

کانگریس ( این پی سی ) کے اجلاس میں اپنا بارہواں 10 سالہ منصوبہ تشکیل دیا۔

اس منصوبے کے اہم خدوخال میں پوری دنیا کو اقتصادی اور معاشی میدان میں

ایک دوسرے قریب کرنا تھا،اس مقصد کیلئے چین ’’ ون بیلٹ ون روڈ “ منصوبہ

تشکیل دیا جس کے خالق چینی صدر شی چن پنگ تھے، اس منصوبے کے تحت

مختلف سمندری اور زمینی راستے تعمیر کیے گئے اور دنیا بھر کے سمندری

راستے محفوظ کرنے کیلئے چین نے مختلف سمندروں میں اپنی طاقت بڑھائی، دنیا

میں نئی بندرگاہیں تعمیر کیں، چین اپنے بارہویں اور تیرہویں 10 سالہ منصوبوں

کے نتیجے میں اب اقتصادی میدان میں نہ صرف امریکہ کو پیچھے چھوڑ رہا ہے

بلکہ ایک معاشی سپر پاور کی حیثیت سے دنیا کی قیادت سنبھالنے کی تیاریاں بھی

کر رہا ہے۔

=–= چین کا 14ویں 5 سالہ منصوبہ، قانون سازی، بجٹ و دفاعی ٹارگٹ طے
China_Two_Sessions

چینی دارالحکومت بیجنگ میں گزشتہ ہفتے ملک کی سیاسی اشرافیہ کے 5 ہزار

سے زیادہ ”بڑے “ قوم کی مقننہ اور اعلیٰ ترین مشاورتی اداروں کے سالانہ

اجلاسوں میں شرکت کیلئے جمع ہوئے، عام زبان میں ان کو ’’دو اجلاس“ کہا جاتا

ہے جس میں چین کی پیپلز پولیٹیکل کنسلٹیٹو کانفرنس ( سی پی پی سی سی ) اور

نیشنل پیپلز کانگریس ( این پی سی ) کے ارکان آنے والے سال کیلئے مرکزی

حکومت کی پالیسی اور منصوبے مرتب دیتے ہیں۔ سی پی پی سی سی کا اجلاس 4

مارچ سے شروع ہو کر دس مارچ تک رہا جبکہ این پی سی کا اجلاس 5 مارچ کو

شروع ہوا۔ امسال سے چین کے 14 ویں پانچ سالہ پلان کے آغاز سمیت کیمونسٹ

پارٹی کے قیام کے 100 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ عام طور پر مارچ کے مہینے میں

منعقد ہونےوالے یہ اجلاس چین کے سیاسی کیلنڈرمیں سب سے اہم سمجھے جاتے

ہیں کیونکہ ان اجلاسوں میں اہم قانون سازی، قواعد و ضوابط، سرکاری رپورٹس،

بجٹ اور مرکزی حکومت کے آنے والے سال کے ایجنڈے سمیت دیگر حکومتی

امور پر گہری توجہ مرکوز رہتی ہے۔

=–= سی پی پی سی سی ملک کا اعلی ترین مشاورتی ادارہ
China’s-Two-Sessions-2021-What-You-Need-to-Know

امسال ان اجلاسوں میں توجہ کا مرکز چین کا اگلا پانچ سالہ منصوبہ اور اس کے

طویل المدتی معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف رہے جو 2035ء تک حاصل کیے

جانے ہیں۔ سی پی پی سی سی ملک کا اعلی ترین مشاورتی ادارہ ہے۔ کیمونسٹ

جماعت کے مندوبین کے علاوہ اس میں 2200 ارکان دیگر جماعتوں اور سماجی

شعبوں سے تعلق رکھنے والے جن میں سائنس، کھیل، ثقافت اور تجارت شامل ہیں

وہ بھی شرکت کرتے ہیں۔ ملکی آئین کے مطابق این پی سی سب سے بااختیار ادارہ

ہے لیکن عالمی میڈیا اسے اکثر ” ربڑ سٹمپ ‘‘ یا حکومت کے ہر اقدام پر مہر

تصدیق ثبت کرنے کا الزام لگاتا ہے۔ اس میں ملک کے تمام صوبوں، خود مختار

علاقوں، مرکز کے زیر انتظام میونسپل اداروں، ہانگ کانگ اور مکاؤ کے انتظامی

خطوں سمیت مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے تین ہزارمندوبین شرکت کرتے

ہیں۔

=–= منصوبے میں پہلی مرتبہ جدید ٹیکنالوجی علیحدہ باب کے طور پر شامل
China_Two_Sessions

جدید ترین ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کا حصول اور مقامی طور پر طلب میں

اضافہ کرنا جو چین کی حال ہی میں اختیار کردہ ترقی کی ” دوہری سرکولیشن‘ کی

حکمت عملی کا حصہ ہے جس کی بنیاد مقامی اور غیر ملکی منڈیوں کو ایک

دوسرے سے مربوط کرنا بھی اس اجلاس کا مرکزی نکتہ رہا۔ رواں پانچ سالہ

منصوبے میں پہلی مرتبہ جدید ٹیکنالوجی کو ملک کی معاشی ترقی کا ستون بنانے

کے موضوع کو ایک علیحدہ باب کے طور پر شامل کیا گیا جو ایک ایسا معاملہ

ہے جس پر چین اور امریکہ کے درمیان شدید مسابقت پائی جاتی ہے۔ چین نے

ٹیکنالوجی میں جدت اور خود انحصاری کو اگلے پندرہ برس کیلئے اپنی قومی

ترجیح بنا لیا ہے۔ اجلاس میں ہانگ کانگ کے انتخابی طریقہ کار کو از سر نو

ترتیب دینے کی بھی اجازت دی گئی۔

=–= منصوبہ میں عالمی برادری کیساتھ مکمل تعاون کا پیغام
China_Two_Sessions

چین کی عالمی ساکھ کو کرونا وائرس اور ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے

قوانین جیسے امور کی وجہ سے کافی نقصان پہنچا تھا۔ اس کے تعلقات برطانیہ،

امریکہ اور انڈیا سے کشیدگی کا شکار ہو گئے تھے۔ چین کے دنیا کے کئی ملکوں

سے سفارتی تعلقات کے تناؤ اور کشیدگی کے پس منظر میں ہونیوالے ان ” دو

اجلاسوں “ کو ایسی نظر سے دیکھا جا رہا تھا کہ ان کے ذریعے دیگر ممالک سے

باہمی تعلقات کے حوالے اہم پیغامات دئیے جائیں گے۔ ’چین نے ان دو اجلاسوں

کے ذریعے بیرونی دنیا کو پیغام دیا کہ وہ کس طرح بیرونی دنیا سے ماحولیاتی

تبدیلی جیسے اہم امور پر تعاون کرے گا۔ اس کے علاوہ اجلاسوں میں اگلے پانچ

سالوں میں ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ٹھوس ہدف مقرر نہ کرنے کے

باوجود سروے شدہ شہری بیروزگاری کی شرح کو 5.5 فیصد سے کم رکھنے کا

ٹارگٹ رکھا گیا۔ ( سروے شدہ شہری بیروزگاری کی شرح شہری روزگار اور

شہری مزدور قوت کے نمونے کے سروے سے حاصل ہونےوالی بیروزگاری کے

مجموعی اعداد و شمار کے ذریعے شمار کی جاتی ہے)۔

=–= مبصوبہ میں ملکی ترقی، دفاع اور بےروزگاری سمیت کئی اہداف

اجلاس میں 2025ء تک مستقل شہریوں کی شرح 65 فیصد تک بڑھانے، چینی آر

اینڈ ڈی اخراجات میں 7 فیصد سالانہ نمو اور ایک نیا ترقیاتی نمونہ تشکیل دینے،

جی ڈی پی کے فی یونٹ توانائی کی کھپت میں 13.5 فیصد اور کاربن ڈائی آکسائیڈ

کے اخراج کو 18 فیصد کم کرنے کا ہدف بھی مقررکیا گیا۔ نجی طبی اداروں کی

ترقی کی حمایت سمیت انٹرنیٹ پلس ہیلتھ کیئر اقدامات کو فروغ دینا بھی اہم ٹارگٹ

مقرر کیا گیا، 14 ویں پانچ سالہ منصوبہ کے تحت جی ڈی پی کی شرح نمو کا کوئی

ٹھوس تعین نہیں کیاگیا بلکہ کہا گیاہے کہ جی ڈی پی کا ہدف حالات کے مطابق

طے کیا جائے گا اور معیشت کی نمو کو ”معقول حد کے اندر“ رکھا جائے گا ، اس

کے برخلاف کہ 13 ویں پانچ سالہ منصوبے میںیہ شرح 6.5 فیصد طے کی گئی

تھی۔

=–= تجارتی محاذ پر چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اہم ترین

تجارتی محاذ پر چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کی اعلی معیار کی ترقی

کو فروغ دینا، علاقائی جامع اقتصادی شراکت ( آر سی ای پی ) معاہدے کی توثیق

اور ان پر عملدرآمد، سرمایہ کاری سے متعلق چین ای یو جامع معاہدے پر دستخط

اور توثیق بھی کی اور اس بات کی بھی منظوری دی گئی کہ جاپان سے جمہوریہ

کوریا کیساتھ چین آزادانہ تجارت کے بارے میں بات چیت کو تیز، ٹرانس پیسیفک

پارٹنرشپ ( سی پی ٹی پی پی ) کے جامع اور ترقی پسند معاہدے میں شامل ہونے

اور امریکہ کیساتھ تجارتی تعلقات میں بھی بہتری لائے گا۔

=–= یہ بھی پڑھیں : آئل پرائس معاملہ، انتقام کے راستے پر چلنے سے پہلے 2 قبریں کھودو ۔۔ ؟
=قارئین=: خبر اچھی لگے تو شیئر، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

چین عالمی اقتصادی تیاری ، چین عالمی اقتصادی تیاری

Leave a Reply