khabar i Hai jtnonline 107

چین میں حکومت نے سیکس ورکرز کو کھلی چھوٹ دیدی

Spread the love

بیجنگ (جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) چین سیکس ورکرز

چین نے قحبہ گری سے متعلق بنائے گئے سزا کے ایسے نظام کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت پولیس کو سیکس ورکرز اور ان کے گاہکوں کو دو برس تک نام نہاد تعلیمی مراکز میں قید رکھنے کی اجازت ہوتی تھی۔ حراستی نظام کا خاتمہ 29 دسمبر کو کر دیا گیا۔ یہ بھی پڑھیں

حراستی اور تعلیمی نظام کا نظم و ضبط میں بڑا کردار

چین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایسے افراد جو اب بھی اس نظام کے تحت حراست میں ہیں انھیں رہا کر دیا جائے گا۔ اس حراستی اور تعلیمی نظام نے معاشرے میں خوشگوار ماحول اور نظم و ضبط برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔ اس نظام کو متعارف ہوئے 20 سال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ اس نظام کی افادیت میں کمی آتی گئی۔

ہمارے معاشرے میں ایسے فعل کو کسی طور پسند نہیں کیا جاتا

یاد رہے ہمارے معاشرے میں ایسے فعل کو کسی طور پسند نہیں کیا جاتا- تاہم مغربی معاشروں میں سیکس کو بطور پیشہ اختیار کرنے کا رحجان اس لئے ہے کہ انہیں ایسے فعل کے منفی اثرات کا انداز نہیں، اس لئے ان معاشروں میں بے راہ روی روز بروز عروج پر پہنچتی جارہی ہے اور اس کے اثرات میڈیا کی وساطت سے ہمارے معاشرے پر بھی مرتب ہو رہے ہیں-

قبیح فعل کے منفی اثرات سے نئی نسل کو آگاہ کرنا ضروری

ہمیں چاہیے کہ ایسے قبیح فعل کے منفی اثرات سے اپنی نئی نسل کو آگاہ کریں تاکہ وہ اغیار کی تقلید میں اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کا ساماں کرنے سے بچ سکیں- یہ ہم سب کی انفرادی ہی نہیں اجتماعی
ذمہ داری بھی ہے- کیونکہ جب سے ٹیکنالوجی میں جدت آئی ہے اور سوشل میڈیا کا رحجان بڑھا ہے ایسی قبیح برائیوں نے ہمارے معاشرے میں بھی گھر ڈالنا شروع کر دیا ہےجو کسی طور بھی فائدہ مند نہیں-

چین سیکس ورکرز

Leave a Reply