پاکستان میں7ماہ کے دوران چینی سرمایہ کاری 402.8 ملین ڈالر کیساتھ سرفہرست

پاکستان میں7ماہ کے دوران چینی سرمایہ کاری 402.8 ملین ڈالر کیساتھ سرفہرست

Spread the love

اسلام آباد(جے ٹی این آن لائن بزنس نیوز) چینی سرمایہ کاری سرفہرست

رواں مالی سال کے سات ماہ کے دوران پاکستان میں چینی سرمایہ کاری 402.8

ملین ڈالر کیساتھ سرفہرست ہے، چینی سرمایہ کاروں کا پاکستان پراعتماد بڑھا ہے،

2020ء میں ا یس ای سی پی میں رجسٹرڈ کل 117 غیر ملکی کمپنیوں میں سے

زیادہ تر چینی تھیں۔ گوادر پرو کی رپورٹ کے مطابق دیگر ممالک کی نسبت چین

کی پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی ) بلند ترین سطح

پر پہنچنے کے باعث پاکستان کی معیشت مضبوط ہوئی ہے۔ چین سے مجموعی

براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری(ایف ڈی آئی 402.8 ملین ڈالر) ہے جو دوسرے

ممالک کی نسبت سب سے زیادہ ہے۔ چینی مجموعی ایف ڈی آئی ایک ایسے وقت

میں آئی ہے جب رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ کے دوران دیگر ممالک سے

مجموعی طور پر ایف ڈی آئی میں 27 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

==-== 100 ملین سے زائد ایف ڈی آئی ممالک میں نیدرلینڈ، ہانگ کانگ شامل

سٹیٹ بینک آف پاکستان ( ایس بی پی ) کی رپورٹ کے مطابق دوسرے ممالک جن

سے 100 ملین سے زائد مجموعی ایف ڈی آئی ملی ان میں نیدرلینڈ اور ہانگ کانگ

تھے، انہوں نے مالی سال 2021ء کے پہلے سات ماہ کے دوران بالترتیب 122 اور

105 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔ برطانیہ سے 83.8 ملین ڈالر، امریکہ 73.5

اور مالٹا سے بھی 60.6 ملین ڈالر کی نمایاں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری

(ایف ڈی آئی) آئی۔ رواں سال ناروے سے آنیوالی سرمایہ کاری میں واضح تبدیلی

نے مجموعی طور پر ایف ڈی آئی کو بڑی حد تک متاثر کیا۔ سٹیٹ بینک کے اعداد

و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ گذشتہ مالی سال کے سات ماہ کے دوران ناروے سے

آنیوالی سرمایہ کاری 288.5 ملین ڈالر تھی، جبکہ رواں مالی سال کے سات ماہ میں

اسکینڈی نیویائین ممالک سے مزید سرمایہ کاری کی بجائے 25.8 ملین ڈالر کی

کمی ریکارڈ کی گئی۔

==-== اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں 24 فیصد اضافہ

رپورٹ کے مطابق چینی سرمایہ کاری کے رجحان کیساتھ ساتھ بیرون ملک مقیم

پاکستانیوں کے ذریعہ ترسیلات زر میں بھی اضافہ ہوا۔ رواں مالی سال کے سات

ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 24 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں پاکستان

کو 16.5 بلین ڈالر موصول ہوئے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دیگر سرمایہ کار

آسٹریلیا، جرمنی، ایران، اٹلی، قازقستان، جنوبی کوریا، لبنان، موزمبیق، نیدرلینڈز،

روس، سپین، سوئٹزرلینڈ، شام، ترکی، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ

کے ہیں، سب سے زیادہ کمپنیوں کی رجسٹریشن اسلام آباد میں 628 اس کے بعد

لاہور 625 اور کراچی میں 349 ہوئی۔ ایس ای سی پی نے نومبر 2020ء میں

1956 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں، جو گذشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلہ میں

41 فیصد زیادہ ہیں۔

=-= یہ بھی پڑھیں: ایل این جی معاہدہ ملک و قوم کیلئے بڑا کارنامہ، زبیر موتیوالا

تونائی کے شعبے نے سب سے زیادہ سرمایہ کاروں کو راغب کیا، اس شعبے میں

گذشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 373 ملین ڈالر کے مقابلے میں 27.6 فیصد

اضافے کیساتھ 475.8 ملین ڈالر کی کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ بجلی کے شعبے

میں کول پاور نے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کو راغب کیا کیونکہ مالی سال دو

ہزار پندرہ کے اسی عرصے میں 233 ملین ڈالر کے مقابلے میں سرمایہ کاری

271 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔ ہائیڈل پاور نے 111 اور تھرمل نے 93.9 ملین

ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی۔ مالیاتی کاروبار بینکوں میں بھی سرمایہ کاری

میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا، اس شعبے میں گذشتہ مالی سال کے اسی عرصے

میں 178.9 ملین ڈالرکے مقابلے میں رواں سال 181.3 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری

آئی۔ آئل اینڈ گیس کی تلاش کے شعبے میں پچھلے سال کی نسبت کمی دیکھی گئی۔

=قارئین=: کاوش اچھی لگے تو شیئر، فالو کریں اپڈیٹ رہیں
——————————————————————————-

گزشتہ سال اس شعبے میں سرمایہ کاری 6 186.5 ملین ڈالر تھی جو رواں سال

صرف 136.7 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔ یہ شعبہ سرمایہ کاروں کیلئے پرکشش رہا ہے

لیکن اس شعبے میں شرح نمو کم رہی جو سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں کمی کی

عکاسی کرتی ہے۔ تجارت کے شعبے میں واضح بہتری دیکھی گئی رواں مالی سال

کے سات ماہ میں اس شعبے میں118 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری آئی جو گذشتہ

مالی سال اسی عرصے میں صرف 22.3 ملین ڈالر تھی۔ پچھلے سال کے 133.2

ملین ڈالر کے مقابلے میں الیکٹریکل مشینری میں ایف ڈی آئی کم ہو کر صرف

70.5 ملین ڈالر رہ گئی۔ مالیاتی شعبے کے ماہرین نے کہا کہ تمام کوششوں اور

ترغیبات کے باوجود برآمدات میں اضافے کی شرح سست روی کا شکار رہے، تاہم

ملک کے ایف اے ٹی ایف ( فیٹف ) کی گرے لسٹ سے باہر آنے کے بعد غیر

ملکی سرمایہ کاری میں تبدیلی متوقع ہے۔

چینی سرمایہ کاری سرفہرست

Leave a Reply