atta flourr 115

چینی بحران ،جہانگیر ترین اور خسروبختیار کے بھائی، بڑے سیاسی خاندان ملوث

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) ملک میں گزشتہ مہینوں پیدا ہونیوالے آٹے اور چینی کے بحران کے حوالے سے تحقیقاتی رپورٹس منظرعام پر آگئیں۔ تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق چینی بحران میں سیاسی خاندانوں نے خوب مال بنایا،جہانگیر ترین اور خسروبختیار کے بھائی کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا۔جبکہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نااہلی آٹا بحران کی اہم وجہ رہی۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں چینی بحران کاسب سے زیادہ فائدہ حکمران جماعت کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے اٹھایا، دوسرے نمبر پر وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور تیسرے نمبر پر حکمران اتحاد میں شامل مونس الٰہی کی کمپنیوں نے فائدہ اٹھایا۔رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پنجاب حکومت نے کس کے دباؤ میں آکر شوگر ملز کو سبسڈی دی اور اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ کی اجازت کیوں دی؟اس حوالے سے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کہتے ہیں یقین ہے کوئی بھی صورتحال ہوعمران خان انصاف کریں گے۔ذرائع کے مطابق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ آٹا بحران باقاعدہ ایک منصوبہ بندی کے تحت پیدا کیا گیا

جس میں افسران اور بعض سیاسی شخصیات بھی ملوث ہیں۔چینی بحران سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین کی شوگرملز 56 کروڑ روپے ، خسرو بختیار کے بھائی کے گروپ 35 کروڑ روپے جبکہ گزشتہ پانچ سال میں شریف گروپ نے ایک ارب 40 کروڑ اور اومنی گروپ نے 90 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی، تحقیقاتی رپورٹس ایف آئی اے کے سربراہ واجد ضیاء نے وزیراعظم عمران خان کو پیش کر دی ۔ ہفتے کے روز ایف آئی اے نے ملک میں چینی اور آٹے کی قلت اورقیمتوں میں اضافے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹس وزیر اعظم عمران خان کو پیش کر دی ہے جسے وزیراعظم عمران خان نے جائزہ لینے کے بعد پبلک کرنے کا حکم دیا ، رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے شوگر ایکسپورٹ پالیسی سے فوائد حاصل کرنیوالوں میں نامور سیاسی شخصیات شامل ہیں، حکومت کی چینی پر سبسڈی کا بڑا حصہ با اثر حکومتی شخصیات لے اڑیں ، جبکہ سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین گروپ نے حاصل کیا ، رپورٹ کے مطابق جہانگیر ترین گروپ نے چینی پر سبسڈی کا 22 فیصد حصے کے ذریعے 56 کروڑ روپے کا فائدہ حاصل کیا، خسرو بختیار کے بھائی عمر شہریار کے گروپ نے آٹے اور چینی سے 45 کروڑ کمائے ، المعیز گروپ نے 40 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی ،

چینی کی برآمد سے ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا، چینی برآمد کرنے کا فیصلہ درست نہیں تھا ،چینی برآمد کرنیوالوں نے دو طرح سے پیسے بنائے، چینی پر سبسڈی کی مد میں رقم بھی وصول کی اور قیمت بڑھنے کا بھی فائدہ اٹھایا، شوگر ایڈوائزری بورڈ وقت پر فیصلے کرنے میں ناکام رہا، دسمبر 2018 تا جون 2019 تک چینی کی قیمت میں 16 رو پے فی کلو اضافہ ہوا، اس عرصے کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، موجودہ سٹاک اور ضرورت تقریبا برابر ہے، تھوڑا سا فرق ذخیرہ اندوزوں کو قیمتیں بڑھانے کا موقع فراہم کریگا ، حکومت اس معمولی فرق بھی ختم کرنے کیلئے چینی درآمد کرنے کی اجازت دے،مونس الٰہی اور چوہدری منیررحیم یارخان ملز، اتحاد ملز ٹو سٹار انڈسٹری گروپ میں حصہ دار ہیں، مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے غلام دستگیر لک کی ملز کو 14 کروڑ کا فائدہ پہنچا۔ رپورٹ کے مطابق مئی 2014 تا جون 2019 کے درمیان پنجاب حکومت نے چینی برآمد پر سبسڈی دی جبکہ اسی عرصے کے دوران چینی کی قیمت میں 16 روپے فی کلو اضافہ ہوا،

برآمد کنندگان نے 3 ارب روپے سبسڈی اور قیمت میں اضافے کا فائدہ اٹھایا جبکہ چینی کی برآمد کی اجازت دینے سے قیمت میں اضافہ ہوا اور بحران پیدا ہو اتھا، رپورٹ میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ 5 سال میں چینی کی برآمد پر مجموعی طور پر 25 ارب روپے سبسڈی دی گئی جس میں سے آروائی گروپ نے 4 ارب روپے ، جہانگیر ترین گروپ نے 3 ارب ، ہنزہ گروپ نے 2 ارب 80 کروڑ ، فاطمہ گروپ نے 2 ارب 30 کروڑ کی شوگر ملز نے 90 کروڑ روپے کی سبسڈی حاصل کی ہے ،ای سی سی نے 10 لاکھ ٹن چینی برآمد کر نے کے بے وقت اجازت دی سیکرٹری فوڈ سکیورٹی نے چینی برآمد پر تحفظات کا اظہار کیا اور شوگر ملز اور ہول سیل ڈیلرز کی جانب سے فارورڈ بائینگ اور سٹے کی بھی نشاندہی کی تھی اس اقدام سے رمضان المبارک میں چینی کی قیمت 100 روپے فی کلو گرام تک پہنچنے کا خدشہ تھا۔ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد حکومت کی جانب سے تشکیل کردہ کمیشن شوگر انڈسٹری کا فارنزک آڈٹ کرے گا جس سے آئندہ کیلئے ملک کی زرعی پالیسی مرتب کرنے میں مدد ملے گی ۔ رپورٹ میں پنجاب میں گندم کا ہدف پورا نہ کرنے کی ذمہ داری سابق فوڈ سیکریٹری نسیم صادق اور سابقہ فوڈ ڈائریکٹر ظفر اقبال پر ڈالی گئی ہے

اور کہا گیا ہے پنجاب کے وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری پر صورتحال کے پیش نظر فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں اقدامات نہ کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ کی جانب سے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی)کو گندم خریداری کی صورتحال سے باخبر رکھا گیا، ملک میں گندم اور آٹے کے بحران میں فلورملز ایسوسی ایشن کی ملی بھگت ہے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ 13 دسمبر 2019 کو مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے فلورملز پر ساڑھے 7 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا، فلور ملز ایسوسی ایشن نے مسابقتی کمیشن کے جرمانے کو عدالت میں چیلنج کردیا ۔

رپور ٹ میں کہا گیا ہے کہ مسابقتی کمیشن آف پاکستان کا تحقیقات کا طریقہ کار بہت سست ہے، 13سال میں مسابقتی کمیشن نے 27ارب روپے جرمانے میں سے 3کروڑ 33 لاکھ وصول کیا۔رپورٹ کے مطابق سندھ نے گندم نہیں خریدی جبکہ پنجاب کی جانب سے خریداری میں تاخیر کی گئی، ای سی سی کو بے خبر رکھنے پر صاحبزادہ محبوب سلطان معقول جواب نہ دے سکے۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا گندم کی ضروریات کے حوالے سے پنجاب انحصار کرتاہے، ڈائریکٹر فوڈ پنجاب گندم خریداری میں پنجاب کی جانب سے تاخیر پر کمیٹی کو مطمئن نہ کرسکے

Leave a Reply