چیئرمین پیمرا کی نوید

Spread the love

(تجزیہ:… جے ٹی این آن لائن)

پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین سلیم بیگ مرزا

نے واصح کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں بھارتی چینلز دکھانے کی اجازت نہیں

دی جائے گی اور نہ ہی کسی غیر لائسنس یافتہ کو ڈی ٹی ایچ کے توسط سے غیر

ملکی نشریات کی اجازت ہو گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ نوید بھی سنائی کہ حکومت

کی اجازت سے امسال نومیر تک پاکستانی ڈی ٹی ایچ لایا جائے گا۔ انہوں نے کیبل

آپریٹرز کو حکومتی تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا قومی مفاد کو پیش نظر رکھنا

چاہئے۔ پیمرا نے بھارتی چینل دکھانے پر یہ پابندی یوں تو بھارتی حکومت کے

رویئے کے تناظر میں لگائی ہے جو اپنے ملک میں پاکستان کے کسی بھی

ٹیلیویژن نیٹ ورک کی نشریات نہیں دکھانے دیتی، پاکستان میں بھارتی فلمیں نہ

صرف کیبلز پر دکھائی جاتی تھیں بلکہ سنیما گھروں میں بھی نمائش ہوتی تھی، اس

سلسلے میں فراخ دلانہ پالیسی اختیار کی گئی لیکن جواب میں بھارت نے ابتداء ہی

سے مخاصمانہ طرز عمل رکھا ہوا تھا اور ماسوا مخصوص اداروں کے کسی بھی

جگہ پاکستانی چینلز نہیں دکھائے جاتے تھے۔ حال ہی میں جب خود بھارت کی

طرف سے کشیدگی کا آغاز کیا گیا تو بھارت میں پاکستانی چینلز پر مکمل پابندی

عائد کر دی گئی۔ با امر مجبوری ہمارے یہاں بھی پیمرا کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ اور

یہاں بھی بھارتی چینلز پر پابندی لگا دی گئی۔ دوسری طرف حکومت نے بھی

معاندانہ بھارتی رویئے ہی کے پیش نظر بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش

ممنوع قرار دے دی اس سے نتیجہ بھی بہتر نکلا اور پاکستان میں بھی اچھی فلمیں

بنائی جانے لگی ہیں، پاکستان نے جوابی طور پر یہ قدم اٹھایا ورنہ مسلسل کہا گیا

ہے کہ دو ہمسایوں کو بہتر اور دوستانہ تعلقات رکھنا چاہئیں۔ عوام نے اس عمل کو

پسند کیا ہے، توقع کی جاتی ہے کہ پاکستانی ڈی ٹی ایچ جلد لانے کی جو نوید

چیئرمین پیمران نے سنائی ہے اس کو دی گئی مدت میں عملی جامہ پہنایا جائےگا

تاکہ ملک میں موجود جدید ٹیکنالوجی میں پائی جانےوالی کمی کو پورا کر کے

عالمی سطح پرجاری” میڈیا وار” کا نہ صرف مقابلہ کیا جا سکے بلکہ اپنے کلچر

اور ثقافت کو فروغ دینے کی بھی سبیل ہو سکے .کیونکہ ہمارا ماضی اس ضمن

میں انتہائی روشن و درخشاں ہے شومئی قسمت کہ ہمیں ہر شعبے میں ریسورس

گیئر ہی لگا رہا،کیوں اور کس لئے یہ ایک ایسی طویل بحث ہے کہ جس میں پڑنے

سے اصل ہدف سے توجہ ہٹنے کا خدشہ ہی نہیں مکمل خطرہ ہے ،مختصر یہ کہ

اب بھی دیر نہیں ہوئی مذکورہ فیلڈ میں خود کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کیلئے

عملی اقدامات کی ضرورت ہے .

Leave a Reply