مریم کیساتھ جائینگے

پی ڈی ایم ٹوٹ گئی،اے این پی نے علیحدگی کا اعلان کر دیا

Spread the love

پی ڈی ایم علیحدگی

پشاور (جے ٹی این آن لائن نیوز) عوامی نیشنل پارٹی نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی

ایم)سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔اے این پی کے نائب صدر امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہ

مخصوص جماعتیں پی ڈی ایم کو ہائی جیک کر چکی ہیں، میں بطور نائب صدر اے این پی، پی ڈی ایم

سے نکلنے کا اعلان کرتا ہوں، اے این پی مخصوص سیاسی ایجنڈے کے ساتھ نہیں چل سکتی، پی ڈی

ایم کو دوسری جانب لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم ذاتی ایجنڈے کے لیے کسی کا ساتھ نہیں

دے سکتے، برابری کی بنیاد پر بات کرنے کو تیار ہیں،پی ڈی ایم میں ہم سے پوچھاجاتا کہ پی پی کو

کیوں ووٹ دیا تو ہم جواب دیتے، ہمیں موقع دینے کی بجائے شوکاز دے دیا گیا۔منگل کونائب صدر اے

این پی امیر حیدر ہوتی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مخصوص جماعتیں پی ڈی ایم کو ہائی

جیک کر چکی ہیں، میں بطور نائب صدر اے این پی، پی ڈی ایم سے نکلنے کا اعلان کرتا ہوں۔امیر

حیدر ہوتی نے کہا، اے این پی مخصوص سیاسی ایجنڈے کے ساتھ نہیں چل سکتی، پی ڈی ایم کو

دوسری جانب لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم ذاتی ایجنڈے کے لیے کسی کا ساتھ نہیں دے

سکتے، برابری کی بنیاد پر بات کرنے کو تیار ہیں، سیاسی انداز سے جو بات کرنا چاہے گا ہم تیار

ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے پی ڈی ایم میں 2 امیدوار سامنے آئے، ن لیگ کے

امیدوار پر پی پی کو تحفظات تھے، بہتر ہوتا تحفظات پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں رکھے

جاتے، اے این پی نے امیدواروں پر رات کے اندھیرے میں فیصلہ نہیں کیا، ہم نے پی پی کے امیدوار

کو ووٹ دیا۔امیر حیدر ہوتی کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں ہم سے پوچھاجاتا کہ پی پی کو کیوں ووٹ

دیا تو ہم جواب دیتے، ہمیں موقع دینے کی بجائے شوکاز دے دیا گیا، پی ڈی ایم کب ایک واحد جماعت

بن گئی ہے؟ شوکاز نوٹسز ایک سیاسی جماعت کے اندر دیے جاتے ہیں، سیاسی جماعت کے عہدے

دار یا رکن کو شوکاز نوٹس دیے جاتے ہیں، کسی کو یہ اختیار نہیں کہ ہمیں شوکاز نوٹس دے۔انھوں

نے کہا کامیاب تحریک سے سلیکٹرز پر بھی دبا آیا تھا، تحریک کے آخری مرحلے میں لانگ مارچ

پر جانا تھا، لیکن استعفے کی ٹائمنگ پر اختلاف کے باعث لانگ مارچ ملتوی کرنا پڑا۔امیر حیدر نے

کہا کہ میں آصف زرداری کا شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، انھوں نے ایک نہیں 2 بار اسفندیار ولی کی

طبیعت پوچھنے کے لیے کال کی، لاڑکانہ میں جے یو آئی اور پی ٹی آئی کو ساتھ دیکھ سکتے ہیں تو

پھر کچھ بھی دیکھ سکتے ہیں، توقع تھی مولانا پی ڈی ایم سربراہ کی حیثیت سے قدم اٹھائیں گے، لیکن

انھوں نے ن لیگ اور جے یو آئی کی حیثیت سے قدم اٹھایا، سینیٹ الیکشن پر پنجاب میں جو کیا گیا کیا

اس پر وضاحت نہیں بنتی۔

پی ڈی ایم علیحدگی

ستاروں کا مکمل احوال جاننے کیلئے وزٹ کریں ….. ( جتن آن لائن کُنڈلی )
قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

Leave a Reply