Halat e Hazra,Current Affair

پی ٹی آئی حکومت کے 2 سال، کارکردگی، عوام، اپوزیشن جماعتیں اور مستقل کا خاکہ

Spread peace & love
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

(جتن آن لائن خصوصی رپورٹ) پی ٹی آئی گورنمنٹ

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو وجود میں آئے دو سال مکمل ہو گئے، ملک

بھر میں عمران خان حکومت کی 2 سالہ کارکردگی زیر بحث ہے، حکومت کی

جانب سے اس حوالے سے بلند و بانگ دعوے سامنے آ رہے ہیں تو اپوزیشن نے

حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رکھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی معیشت توقع سے زیادہ بہتر، مہنگائی کم ہوگی، آئی ایم ایف
——————————————————————–

وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز سمیت کئی وفاقی وزراء نے پریس کانفرنس کر

کے خزانہ، خارجہ، منصوبہ بندی اور احساس پروگرام کے حوالے سے اپنی

کارکردگی عوام کے سامنے رکھی۔ وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے میڈیا کو حکومت

کی اقتصادی کارکردگی پر بریف کرتے ہوئے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ میں کمی کو

حکومت کی اقتصادی شعبہ میں سب سے بڑی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ

کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ جو 20 ارب ڈالر پر پہنچ چکا تھا کم ہو کر 3 ارب ہو گیا

ہے۔ لیکن قابل ذکر امر یہ ہے کہ اس خسارہ میں کمی کیلئے حکومت نے جو

اقدامات کئے اس سے عام آدمی کی معاشی زندگی مزید تنگ ہو گئی اور اسے

مہنگائی میں ناقابل برداشت اضافہ برداشت کرنا پڑرہا ہے۔

کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی خوش آئند، مگر قیمت عوام چُکا رہے ہیں
———————————————————————

درآمدات پر ٹیکسوں کی شرح میں نمایاں اضافہ کیا گیا جس سے درآمدات میں

کمی واقع ہوئی جس سے ایف بی آر ٹیکسوں کی وصولی کے ہدف کے حصول

میں مسلسل ناکام ہوا جبکہ درآمدات میں سے انڈسٹری کا شعبہ بری طرح متاثر

ہوا۔ اس ہدف کے حصول کیلئے حکومت نے جو لائحہ عمل اپنایا اس سے

معیشت کا پہیہ سست روی کا شکار ہو گیا اور کورونا وباء کے پاکستان میں

حملے سے قبل ہی ملکی ترقی کی شرح افزائش میں نمایاں کمی واقع ہو گئی اور

حکومت کی اس بڑی کامیابی کی قیمت در حقیقت عام آدمی کو چکانی پڑی۔

حفیظ شیخ کا روایتی شکوہ اور آئی ایم ایف کیساتھ طے معاہدے کا دفاع

پریس کانفرنس میں حفیظ شیخ نے حسب دستور پہلے روایتی گلہ شکوہ کیا کہ

جب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت برسر اقتدار آئی تو خزانہ خالی اور

ڈیفالٹ کا خطرہ موجود تھا، لیکن موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں اور

اصلاحات سے باعث نہ صرف ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا بلکہ آئی ایم ایف کیساتھ

ایک فائدہ مند معاہدے کے نتیجہ میں ملکی معیشت کو استحکام ملا۔

شاہ محمود کا خارجہ محاذ پر حکومتی اقدامات کا پرچار
——————————————————————–

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر کو دنیا بھر میں بھرپور

طریقے سے اجاگر کرنے اور افغانستان میں امن عمل کے آغاز اور اس کے

جاری رکھنے کا کریڈٹ لیا۔ اگرچہ یہ الگ بات ہے کہ دفتر خارجہ کے تجزیوں

کے برعکس مودی سرکار نے وزیر اعظم عمران خان کی کسی بھی پیشکش کا

مثبت جواب دینے کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں یکطرفہ طور پر ایسے اقدامات

کئے کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں ضم کر

دیا اور کشمیریوں کو لاک ڈاﺅن کر دیا۔ وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر

ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی ملاقات کا نتیجہ بھی کشمیر کے تناظر میں صفر نکلا-

افغانستان ایشو میں امریکی تعریف کے سواء کچھ نظر آ ہی نہیں رہا
——————————————————————–

امریکی دباﺅ پر افغانستان میں جاری امن عمل میں پاکستان نتیجہ خیز کردار تو ادا کر رہا ہے لیکن پاکستان کو ماسوائے امریکی تعریف کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ حتیٰ کہ پاکستان نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں بھی بھارت کو بہت بڑی رعایت دیدی۔ مزید ازاں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جس طرح او آئی سی کا اجلاس بلانے کے معاملہ پر جو سفارتی طرز عمل اختیار کیا اس سے پاکستان کیلئے مشکلات میں اضافہ ہوا۔ تاہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید اس سفارتی بگاڑ کو سلجھانے کیلئے سعودی عرب کے دورہ پر ہیں۔

احساس پروگرام سے متعلق ڈاکٹر ثانیہ نشتر کی وضاحت

ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے احساس پروگرام سے متعلق بتایا کہ کس طرح اس پروگرام کے ذریعے غریب نادار اور کم آمدنی والے لوگوں کی ضروریات پوری کی جا رہی ہیں، درحقیقت احساس پروگرام حکومت کے پاس اپنی کارکردگی دکھانے کیلئے واحد بڑی پہل ہے جس کے مختلف پہلوﺅں کو وقتاً فوقتاً عوام کے سامنے ”شو“ کیا جاتا ہے۔ ( پی ٹی آئی گورنمنٹ )

کورونا وباء کی روک تھام، سمارٹ لاک ڈاؤن کی کامیابی اور اسد عمر
———————————————————————

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے سمارٹ لاک ڈاﺅن کی حکومتی پالیسی کو سب سے بڑی اپنی کارکردگی گردانا اور بتایا کہ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے پیچھے وزیر اعظم عمران خان کی غریب عوام سے محبت اور لگاﺅ کا جذبہ کار فرما تھا جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کورونا کے حوالے سے حکومت نے سیاست سے بالا تر ہو کر تمام سٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں رکھ کر فیصلہ سازی کی- انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جس طرح کورونا سے نبٹنے کیلئے اقدامات کئے اسے پوری دنیا نے سراہا، ڈیٹا بیس پر فیصلے کئے اور صدی کے سب سے بڑے بحران سے کامیابی سے نبرد آزما ہوئے جبکہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے اپنے دور اقتدار میں بھارتی جارحانہ رویہ کے بحران کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا-

وفاقی وزیر منصوبہ بندی کا اپوزیشن کو انتباہ ، شہباز اور بلاول کا ردعمل
———————————————————————

اسد عمر نے اپوزیشن کو بھی بری خبر سنائی کہ کپتان اب کریز پر جم گئے ہیں اور وہ اب لمبی اننگز کھیلنے کو تیار ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ کپتان کتنے چوکے چھکے لگاتے ہیں اور اپوزیشن کتنے کیچ ڈراپ کرتی ہے۔ تاہم اپوزیشن رہنماﺅں نے حکومتی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپوزیشن رہنما شہباز شریف نے کہا کہ نا کام تجربہ کی قیمت پوری قوم چکا رہی ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری نے گھن گرج کیساتھ حکومت پر تنقید کی۔ بلاول بھٹو نے بیروزگاری اور مہنگائی میں اضافہ سے لے کر کشمیر سے سعودی عرب تک حکومتی پالیسیوں کو ناکام قرر دیا۔ دارالحکومت میں حکومتی اعتماد میں اضافہ کے واضح اشارے مل رہے ہیں اب گیند اپوزیشن کی کورٹ میں ہے۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

پی ٹی آئی گورنمنٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply