پی ٹی آئی سندھ حکومت گرانے کے درپے

Spread the love

منی لانڈرنگ اور جعلی بنک اکاﺅنٹس کے حوالے سے جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سندھ میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا ۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے استعفے کے حوالے سے پی ٹی آئی کا مطالبہ مسترد کئے جانے کے بعد تحریک انصاف اور اسکی اتحادی جماعتیں سندھ حکومت گرانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہیں ہیں، اور سندھ میں پیپلز پارٹی کا فارورڈ بلاک بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ساتھ ساتھ سندھ میں گورنر راج نافذ کئے جانے کی باتیں بھی زبان زد عام ہیں ۔ دوسری طرف گورنر عمران اسمٰعیل بھی فارورڈ بلاک بنانے میں متحرک ہوگئے۔سندھ کے علاقے گھوٹکی کے راجہ پیلس پر گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے مہر برادران سمیت مختلف مکتبہ فکر، سماجی کارکنان اور تاجر برادری کے لوگوں سے ملاقات کی اور کہا گھوٹکی کا سندھ کی آمدن میں ایک بڑا حصہ ہے لیکن اسے کچھ نہیں دیا گیا،اس موقع پر سردار علی گوہر خان مہر کا کہنا تھا وزیراعظم عمران خان اور صدر ڈاکٹر عارف علوی بھی ان کی دعوت پر گھوٹکی آئینگے۔ صوبائی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام کو ریلیف نہیں دیا جارہا،18ویں ترمیم سے عوام کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔دوسری طرف حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا اب اخلاقی طور پر مراد علی شاہ کو وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے استعفیٰ دے دینا چاہیے ،عمران اسماعیل نے ہارس ٹریڈنگ کو کرپشن جیسا برا قرار دیتے ہوئے کہا تحریک انصاف سندھ میں ایسی کوئی کوشش نہیں کرے گی،پیپلز پارٹی اپنے ا±ن ایم پی ایز کو سنبھالے جو فارورڈ بلاک بنانے جا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر فیصل وا وڈا نے دعوی ٰکیا ہے سندھ میں پیپلزپارٹی کے اندر فاروڈ بلاک یقینی ہے ، فاورڈ بلا ک میں 20سے 26ارکان جاسکتے ہیں ۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے فواد چوہدری کوصوبہ سندھ کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیدیا۔و ز یر اطلاعات آج کراچی کا دورہ کریں گے جہاں وہ سندھ کے مختلف رہنماو¿ں سے موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اوروزیراعظم کا پیغام پہنچائیں گے۔ ادھر جی ڈی اے کی جانب سے اندرون سندھ پییلزپارٹی کیخلاف تحریک چلانے کی تجویزدی گئی جبکہ زیراعلیٰ سندھ کیخلاف عدم اعتمادکی تحریک لانے پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے کہا ہے سندھ میں قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہوچکی ہے، سندھ میں ایسا وزیراعلی ہونا چاہیے جو زیرتفتیش نہ ہو۔ ادھر سندھ میںسند حکومت گرانے اور پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بنانے کی متحدہ مجلس عمل نے مخالفت کردی ہے حکومت سے ناراض تحریک لبیک نے بھی سندھ میں اقتدارکی رسہ کشی کا حصہ بننے سے معذرت کرلی سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کی تعداد 68 ہے تحریک لبیک کے 3 ارکان اورمتحدہ مجلس عمل کے ایک رکن اسمبلی ہیں ان کے انکار کے بعد اپوزیشن ارکان کی تعداد 64 رہ گئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی حکومت گرانے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کوکم ازکم 85 ارکان کی ضرورت ہوگی۔

Leave a Reply