Imran Khan Prim minister Pakistan 119

پی آئی سی پر حملے میں ملوث افراد سے رعایت نہ برتی جائے ،عمران خان

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)لاہور ہسپتال پر حملہ بدترین واقعہ تھا اس میں ملوث افراد کیخلاف کوئی

رعایت نہ برتی جائے ،معیشت کو مستحکم کرکے مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف دیا

جاسکے ، مجسٹریٹ سسٹم کو فوری بحال کیا جائے ۔تفصیلات کے مطابق کور کمیٹی کا اجلاس

جمعرات کو وزیراعظم کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک بھر کی موجودہ سیاسی صورتحال ،

پارلیمانی امور ، آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی ،چیف الیکشن کمشنر اور

اراکان کی تعیناتی ، معیشت کو مستحکم کرنے ، عوام کو ریلیف کی فراہمی ، لاہور واقعہ سمیت متعدد

اہم امور پر غور کیا گیا ۔کور کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کارکنوں کو متحرک کرنے کیلئے ملک

بھر میں جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ، اجلاس میں لاہور واقعہ سے متعلق عدالتوں اور

وکلاء تنظیموں سے رابطوں کا بھی فیصلہ کیا گیا ۔وزیراعظم نے کہاکہ نشاندہی کی جانے والی

اراضی کی تمام تفصیلات نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی کے ساتھ شیئر کی جائیں ،وزیر اعظم کی

ہدایت متعلقہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے نامکمل دستاویزات یا ناجائز قبضہ شدہ املاک کو ہر

قسم کی رکاوٹ سے پاک کرنے کے عمل کو بھی جلد از جلد مکمل کیا جائے،کم آمدنی والے غریب

افراد اور خصوصاً شہروں میں واقع کچی بستیوں میں رہنے والے افراد کو جدید سہولتوں سے مزین

سستے گھروں کی سہولت فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں واقع

کچی بستیوں میں کثیر المنزلہ عمارات کی تعمیر سے جہاں غریب اور پسے ہوئے طبقے کی رہائش کا

مسئلہ حل ہوگا وہاں اسی جگہ رہائشی عمارات کے ساتھ واقع کمرشل پلازوں کی تعمیر سے حاصل

ہونے والی آمدنی کو غریب افراد کو سستے گھر وں کی فراہمی کے لئے استعمال کیا جا سکے گا۔

کور کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر حماد اظہر کی جانب سے وزیراعظم کو معیشت کے حوالے

سے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی ۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا

کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جلد قانون سازی مکمل کی جائے اور اس

حوالے سے حکومتی کمیٹی اپوزیشن کیساتھ رابطوں کو مزید تیز کرے ، وزیراعظم نے کہا کہ چیف

الیکشن کمشنر اور اراکین کی بروقت تعیناتی کے حوالے سے بھی اپوزیشن کیساتھ رابطے کیے جائیں

۔وزیراعظم نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون سازی اور چیف الیکشن

کمشنر کی تعیناتی کے حوالے سے قائم کردہ حکومتی کمیٹی کو مکمل اختیارات دیئے گئے ہیں جنہیں

وہ بروئے کار لاتے ہوئے یہ معاملات جلد حل کرلے گی ۔اس موقع پر اجلاس کے شرکاء نے تجویز

دی کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع بارے قانون سازی کے حوالے سے سپریم کورٹ کا

تفصیلی فیصلہ آنے کا انتظار کیا جائے ۔کور کمیٹی اجلاس کے شرکاء نے وزیراعظم کو تجویز دی کہ

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) واقعہ میں ملوث افراد کیخلاف کوئی رعایت نہ برتی

جائے ،اراکین کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس لاہور واقعہ کے دوران بروقت ایکشن لیا جاتا تو نقصان کم

ہوسکتا تھا ۔جس سے پر شرکاء کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد

کیساتھ قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کیساتھ سختی

سے نمٹا جائے گا ۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ او بی آئی پنشنز میں حکومت نے 62فیصد اضافہ کیا ہے

اس عملے سے پنشنرز کو ریٹائر ہوتے کے بعد تحفظ ملے گا انہوں نے کہاکہ پنشنرز کا تحفظ ریاست

مدینہ کی جانب ایک اہم قدم ہے اور یہ سب عمل ادارہ جاتی اصلاحات کے باعث ممکن ہوا ہے ۔

وزیراعظم نے کور کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم دفتر میں قائم سرکاری سوشل میڈیا سیل ختم کرنے

کی منظوری دیدی۔اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی معاون خصوصی اطلاعات فردوس

عاشق نے کور کمیٹی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہسپتال پر حملے میں

وزیر اعظم کا رشتہ دار یا کوئی بھی ملوث ہو اس کیخلاف ایکشن لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزیر

اعظم نے کور کمیٹی کو مثبت معیشت کے اشاریوں سے متعلق آگاہی دی اور عوام کو ریلیف کی

فراہمی کیلئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔فردوس عاشق نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے اختیارات نچلی

سطح پر منتقل کر کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی کے اراکین نے

معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا اور معاشی استحکام پر وزیر اعظم عمران خان کو خراج

تحسین پیش کیا گیا۔ اجلاس میں مقامی حکومتوں سے متعلق امور بھی زیر غور آئے۔معاون خصوصی

نے کہا کہ مہنگائی کی روک تھام اور ذخیرہ اندوزی کو قابو کرنے پر حکومتی اقدامات کو بھی سراہا

گیا۔فردوس عاشق نے کہا کہ بیماری ہسپتال میں ٹھیک ہو سکتی ہے گھر کے نرم بستروں میں نہیں

لیکن عجیب بات ہے ملزمان طبی بنیادوں پر ضمانت لے کر اپنے اپنے گھروں کو جا رہے ہیں۔ آخر یہ

کیسے بیمار ہیں جنہیںہسپتال کے بجائے گھر میں شفا ملتی ہے ؟ البتہ ہم بیماروں کی شفایابی کے لیے

دعا گو ہیں۔انہوں نے وکلا گردی کے حوالے سے کہا کہ کالے اور سفید کوٹ کا ٹکرا معاشرے میں

حوصلہ افزا امید نہیں ہے۔ وزیر اعلی سٹیک ہولڈرز سے رابطہ کریں گے تاکہ آئندہ ایسے واقعات

رونما نہ ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں